آگرہ۔ اترپردیش میں 2027 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے جین زی یعنی نئی نسل کے نوجوانوں کو پارٹی سے جوڑنے کی حکمتِ عملی تیار کی ہے۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ آئندہ انتخابات میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔
دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک معاملے کو لے کر وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے کے لیے ہونے والے احتجاج اور تین اسمبلی حلقوں میں ہوئے ضمنی انتخابات میں جین زی کے اثرات کو دیکھتے ہوئے ایس پی نے نوجوانوں پر اپنی توجہ مرکوز کردی ہے۔
دو روزہ دورے پر منگل کی رات آگرہ پہنچے سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر شیام لال پال نے کہا کہ پارٹی جین زی کا احترام کرے گی اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق اہم مسائل کو ترجیح دے گی۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سستی تعلیم فراہم کرنے کی سمت میں کام کیا جائے گا۔ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا پارٹی کی ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ ہندوستان کو ایک مضبوط اور عظیم ملک بنایا جاسکے۔
ریاستی صدر نے موجودہ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک آج کھوکھلا ہوگیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو ملک کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مستقبل، روزگار اور تعلیم جیسے مسائل کو سیاست کے مرکز میں لانا ضروری ہے۔
ایس پی کی یہ حکمتِ عملی 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل نوجوان ووٹروں کے درمیان اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جارہی ہے۔ پارٹی اب روزگار، تعلیم اور نوجوانوں کی سیاسی شمولیت جیسے مسائل کو زیادہ شدت سے اٹھانے کی تیاری میں ہے۔

