“دینی علوم کے ساتھ جدید تعلیم وقت کی ناگزیر ضرورت ہے” — علماء و ماہرین تعلیم کا متفقہ اظہارِ خیال
اگرہ کے شہید نگر میں واقع مدرسہ انوار القرآن میں دینی مدارس میں عصری تعلیم، کمپیوٹر، سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے مقصد سے ایک شاندار تعلیمی بیداری کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں شہر کے ممتاز علماء، مدارس کے ذمہ داران، ماہرینِ تعلیم اور مختلف دینی اداروں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
کانفرنس کی صدارت ڈاکٹر محمد شعیب رضا خان (اسسٹنٹ ڈائریکٹر، محکمہ تعلیم، مرکزی حکومت، نئی دہلی) نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا محمد عزیر عالم (صدر جمعیت علماء آگرہ) نے انجام دیے۔
پروگرام کا آغاز حافظ و قاری محمد توصیف قدیر کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ مدرسہ انوار القرآن کے ہونہار طلبہ محمد ثاقب اور محمد ابراہیم نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول پیش کر کے حاضرین کے دل موہ لیے۔
مدارس میں جدید تعلیم ناگزیر ہے: سجاد محمد شفیع
حیدرآباد سے تشریف لائے نیشنل ایجوکیشن اینڈ ایجوکیشنل ایڈمنسٹریشن ایسوسی ایشن (NEAEA) کے چیئرمین جناب سجاد محمد شفیع نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ موجودہ دور علم، ٹیکنالوجی اور تحقیق کا دور ہے، اس لیے دینی مدارس کے طلبہ کو قرآن و حدیث کی تعلیم کے ساتھ کمپیوٹر، سائنس، انگریزی اور دیگر عصری علوم سے بھی آراستہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب مدارس کے طلبہ دینی بصیرت کے ساتھ جدید علوم سے بھی مزین ہوں گے تو وہ نہ صرف ملک و ملت بلکہ پوری انسانیت کی بہتر انداز میں خدمت کر سکیں گے۔
آن لائن کلاسز اور اساتذہ کی تربیت کا منصوبہ
صدرِ اجلاس ڈاکٹر محمد شعیب رضا خان نے کہا کہ NEAEA کی جانب سے ملک بھر کے مدارس کو جدید تعلیمی نظام سے جوڑنے کے لیے آن لائن کلاسز، کمپیوٹر ایجوکیشن، سائنس کی تعلیم اور اساتذہ و طلبہ کی خصوصی ٹریننگ کا جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں مدارس میں صرف دینی علوم پر توجہ دی جاتی تھی، لیکن موجودہ دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب عصری تعلیم کو بھی نصاب کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ مدارس کے طلبہ ہر شعبۂ زندگی میں نمایاں کردار ادا کر سکیں۔
علماء نے اقدام کو خوش آئند قرار دیا
کانفرنس میں مفتیِ شہر آگرہ مفتی محمد عمران نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم ہماری بنیاد ہے، لیکن اس کے ساتھ جدید علوم کی شمولیت طلبہ کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
مفتی عبدالحسیب، مولانا عبدالعلیم اور مفتی محمد عاصم قاسمی (دارالعلوم آگرہ) نے کہا کہ یہ ایک مثبت اور دور اندیش قدم ہے، جس پر تمام مدارس کو سنجیدگی سے عمل کرنا چاہیے۔
مدارس کے ذمہ داران کا بھرپور تعاون
مدرسہ الفاران اکیڈمی کے مینیجر مولانا قاری امتیاز احمد قاسمی، مدرسہ عفیفہ ایجوکیشنل اکیڈمی کے مینیجر مولانا عبدالرحیم مظاہری، مفتی شاہ عالم اور مفتی محمد اسجد نے NEAEA کی جانب سے فراہم کی جانے والی جدید تعلیمی سہولیات اور تربیتی پروگرام کو سراہتے ہوئے اسے مدارس کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا۔
مدرسہ معارف القرآن شاہ گنج کے ناظم مولانا محمد فرقان مظاہری اور صدر مدرس قاری محمد سعادت حسین نے کہا کہ آج کے دور میں قرآن و حدیث کے ساتھ عصری تعلیم بھی بے حد ضروری ہے تاکہ مدارس کے طلبہ کسی بھی میدان میں دوسروں سے پیچھے نہ رہیں۔
مدرسہ تعلیم القرآن کے صدر مدرس مولانا محمد اسرار احمد اور مہتمم حافظ اشتیاق احمد نے اپنے ادارے میں جدید تعلیمی نظام نافذ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اسی طرح مفتی محمد طاہر (مدرسہ مبشرین اعتماد پور)، قاری محمد مقصود (مدرسہ دعوت القرآن)، مولانا صاحبزادہ محمد عالم رضوی (جامعہ رضویہ اظہر العلوم)، اور مفتی محمد اسامہ صغیر (ایم ایم آئی گرلز اسکول شاہ گنج) نے بھی اساتذہ کی تربیت اور جدید نصاب کی تیاری پر زور دیا۔
شہر کے متعدد مدارس کی نمائندگی
کانفرنس میں جامعہ روضۃ الصالحات نائی کی منڈی، مدرسہ محمدیہ آگرہ، دارالعلوم اصحابِ صفہ رنکتا، مدرسہ رحمانیہ دارالقرآن پائے چوٹی، مدرسہ معارف القرآن نائی کی منڈی، مدرسہ دارالسلام دھنولی، مدرسہ معین الاسلام شاہ گنج سمیت آگرہ کے متعدد دینی اداروں کے ذمہ داران، اساتذہ اور علماء نے شرکت کی اور پروگرام کو مدارس کی ترقی کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
اختتام دعا اور اظہارِ تشکر پر
آخر میں مولانا قاری محمد نعیم قاسمی (ناظم، مدرسہ انوار القرآن) نے تمام مہمانوں، علماء، اساتذہ اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا، جبکہ قاری محمد دلشاد نے ملک و ملت کی ترقی، قومی یکجہتی، امن و سلامتی اور تعلیمی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کرائی۔
پروگرام کی کامیابی میں مولانا قاری محمد سالم، حافظ و قاری محمد شاکر، حافظ محمد خورشید، حاجی محمد ندیم (مرغے والے) اور حاجی محمد نسیم (جدہ والے) کی خدمات کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا۔
کانفرنس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ دینی مدارس میں قرآن و سنت کی تعلیم کے ساتھ کمپیوٹر، سائنس، انگریزی اور دیگر عصری علوم کو فروغ دے کر نئی نسل کو دینی و دنیاوی دونوں میدانوں میں باصلاحیت اور خود کفیل بنایا جائے گا۔

