رام مندر کروڑوں عقیدت مندوں کی آستھا کا مرکز ہے، چندے کی ہر پائی کا حساب عوام کو ملنا چاہیے، انوپم کھیر کا بیان عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے
نئی دہلی: آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) اقلیتی شعبہ کے میڈیا انچارج اور تلنگانہ کے انچارج عدنان اشرف نے شری رام مندر کے چندے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے جاری بیان میں عدنان اشرف نے کہا کہ شری رام مندر صرف اینٹ اور پتھروں کی عمارت نہیں بلکہ کروڑوں ہندوستانیوں کے عقیدے اور آستھا کا مرکز ہے۔ اگر مندر کے چندے میں کسی بھی قسم کی خرد برد یا مالی بے ضابطگی کے الزامات سامنے آئے ہیں تو اس کی مکمل شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور عوام کو حقیقت سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے غریبوں، کسانوں، مزدوروں، خواتین اور رام بھکتوں نے اپنی محنت کی کمائی، پس انداز رقم اور زیورات تک رام مندر کی تعمیر کے لیے عطیہ کیے ہیں، اس لیے ہر عطیے کا حساب عوام کے سامنے آنا چاہیے اور اگر کوئی شخص قصوروار پایا جائے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
عدنان اشرف نے مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس حساس معاملے میں شفافیت اور جوابدہی انتہائی ضروری ہے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
انہوں نے اداکار انوپم کھیر کے حالیہ بیان پر بھی سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات عوام کو اصل مسئلے سے ہٹانے کی کوشش ہیں۔ ان کے مطابق عوام سب کچھ جانتی ہے اور ایسے بیانات سے حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا۔
عدنان اشرف نے کہا کہ رام مندر کروڑوں لوگوں کے جذبات اور عقیدت سے جڑا ہوا معاملہ ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی مالی بے ضابطگی کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانا اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

