حیدرآباد کرناٹک میں مسلم سیاسی نمائندگی نظرانداز ہونے پر کرناٹک مسلم پولیٹیکل فورم کا اظہار تشویش، کانگریس ہائی کمان کو یادداشتیں روانہ کرنے کا فیصلہ
گلبرگہ، 4 اگست: کرناٹک مسلم پولیٹیکل فورم نے تقدس مآب حضرت ڈاکٹر حافظ سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ، سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ اور چیئرمین کرناٹک وقف بورڈ کو قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کا رکن نامزد کرنے کا کانگریس ہائی کمان سے پرزور مطالبہ کیا ہے۔
فورم کا کہنا ہے کہ حضرت سجادہ نشین صاحب قبلہ کی دینی، تعلیمی، علمی، سماجی اور انتظامی خدمات، وسیع عوامی مقبولیت اور ملی قیادت کے پیش نظر وہ قانون ساز کونسل کی رکنیت کے لیے ایک موزوں اور باوقار شخصیت ہیں۔
اس سلسلے میں کرناٹک مسلم پولیٹیکل فورم کے مقامی نمائندوں کا ایک اہم اجلاس گلبرگہ میں مبین ریاض کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ اجلاس میں کرناٹک کے مختلف اضلاع کے ذمہ داران اور نمائندوں نے آن لائن شرکت کی۔ اجلاس میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال، مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی اور آئندہ خالی ہونے والی قانون ساز کونسل کی نشستوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکاء نے حیدرآباد کرناٹک سے کابینہ میں مسلم نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس ہائی کمان کے فیصلے پر سخت افسوس کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ کرناٹک میں کانگریس حکومت کے قیام میں مسلمانوں نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ حیدرآباد کرناٹک کی پانچوں لوک سبھا نشستوں پر بھی کانگریس کی کامیابی میں مسلم ووٹروں کا اہم رول رہا ہے۔ اس کے باوجود حکومت میں مسلمانوں کو ان کی سیاسی شراکت کے مطابق نمائندگی نہیں مل سکی۔
شرکاء نے کہا کہ کانگریس رہنما راہل گاندھی کی جانب سے پیش کیا گیا اصول “جس کی جتنی حصہ داری، اس کی اتنی شراکت داری” ریاستی سطح پر بھی عملی طور پر نظر آنا چاہیے۔
فورم نے بنگلورو اور دکشن کنڑا کو نمائندگی ملنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کرناٹک جیسے مسلم اکثریتی اثر والے خطے کو کابینہ میں نمائندگی نہ ملنے سے یہاں کے مسلمانوں میں بے چینی اور مایوسی پائی جا رہی ہے۔
صلاح الدین گتہ دار نے کہا کہ حیدرآباد کرناٹک کے مسلمانوں کی خواہش ہے کہ ریاستی حکومت اور کانگریس قیادت خطے کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے مسلم قیادت کو مناسب سیاسی نمائندگی فراہم کرے۔ انہوں نے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے، ریاستی قیادت اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے اس معاملے میں فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
شاہ نواز خان شاہین نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں قانون ساز کونسل کی متعدد نشستوں کی مدت ختم ہونے والی ہے۔ ایسے میں کلیان کرناٹک سے کم از کم دو مسلم شخصیات کو قانون ساز کونسل میں بھیجا جانا چاہیے، تاکہ علاقائی توازن کے ساتھ مسلم سیاسی نمائندگی بھی برقرار رہے۔
حضرت ڈاکٹر حافظ سید محمد علی الحسینی کے نام کی حمایت
اجلاس میں شرکاء نے متفقہ طور پر حضرت ڈاکٹر حافظ سید محمد علی الحسینی صاحب قبلہ کے نام کی حمایت کی۔ مقررین نے کہا کہ درگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے سجادہ نشین ہونے کے باعث انہیں عوام میں غیر معمولی احترام حاصل ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی، علمی، سماجی اور رفاہی میدانوں میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔
فورم کے مطابق بطور چیئرمین کرناٹک وقف بورڈ حضرت ڈاکٹر حافظ سید محمد علی الحسینی نے انتظامی صلاحیت، شفاف طرز عمل اور عوامی مسائل کے حل کے لیے متعدد مثبت اقدامات کیے ہیں۔ فورم کا کہنا ہے کہ انہیں ایم ایل سی نامزد کیے جانے سے حیدرآباد کرناٹک کے مسلمانوں کو باوقار سیاسی نمائندگی حاصل ہوگی اور ریاست کو ایک تجربہ کار و باصلاحیت شخصیت کی خدمات میسر آئیں گی۔
کنیز فاطمہ کو کابینہ میں شامل کرنے کا مطالبہ
اجلاس میں گلبرگہ شمال سے منتخب کانگریس کی پہلی باحجاب خاتون رکن اسمبلی کنیز فاطمہ کو بھی ریاستی کابینہ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مسلم خواتین کے ساتھ ساتھ حیدرآباد کرناٹک کی سیاسی نمائندگی بھی مضبوط ہوگی۔
اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے، ریاستی صدر بی کے ہری پرساد اور وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو تفصیلی یادداشتیں روانہ کی جائیں گی۔ ان یادداشتوں میں حضرت ڈاکٹر حافظ سید محمد علی الحسینی کو ایم ایل سی نامزد کرنے، کلیان کرناٹک سے کم از کم دو مسلم شخصیات کو قانون ساز کونسل میں بھیجنے اور کنیز فاطمہ کو ریاستی کابینہ میں شامل کرنے کا باضابطہ مطالبہ کیا جائے گا۔
مختلف اضلاع کے نمائندوں نے اپنے علاقوں سے قابل مسلم شخصیات کے نام بھی تجویز کیے۔ فیصلہ کیا گیا کہ ضلعی سطح پر بھی یادداشتیں پیش کرکے مسلم سیاسی نمائندگی کے مطالبے کو مزید مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ حیدرآباد کرناٹک کے مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کے مسئلے کو جمہوری اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے بھرپور انداز میں حکومت اور کانگریس قیادت کے سامنے اٹھایا جاتا رہے گا، تاکہ خطے کے مسلمانوں کو ان کی سیاسی شراکت کے مطابق نمائندگی مل سکے۔
یوسف بیگ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا۔

