از : محترمہ دروپدی مرمو
اساتذہ تقدیروں کے معمار ہوتے ہیں۔ یومِ اساتذہ کے موقع پر، تمام ہندوستانیوں کی جانب سے، میں ان تمام اساتذہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں جو ہمارے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں میں علم، مہارت، اقدار اور عزم و حوصلے کو پروان چڑھاتے ہیں۔
اس سے سبھی بخوبی واقف ہیں کہ ہندوستان کے دوسرے صدر جمہوریہ ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن چاہتے تھے کہ ان کی سالگرہ کو یوم اساتذہ کے طور پر منایا جائے۔ وہ عالمی شہرت یافتہ دانشور، معروف مصنف اور ایک ممتاز سیاست دان تھے، لیکن وہ استاذکے طور پر اپنے کردار کو سب سے زیادہ اہم سمجھتے تھے۔ ہندوستان کے مقبول سابق صدور میں سے ایک، ڈاکٹر اے پی جےعبدالکلام سے ایک بار پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ انہیں زیادہ ایک سائنس دان کے طور پر یاد رکھیں گے یا صدر جمہوریہ کے طور پر۔ ڈاکٹر کلام نے جواب دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں ایک استاذکے طور پر یاد رکھیں۔
وہ اساتذہ جن کی قابلیت اور کردار انہیں قابل احترام بناتے ہیں، اور وہ طلبہ جو ایسے اساتذہ کے لیے پوری طرح وقف ہوتے ہیں، ہمیشہ سے ہمارے لیے ایک مثالی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہماری قدیم کتابوں میں اساتذہ کے لیے یہ اصول بیان کیے گئے ہیں کہ انہیں اپنے طلبہ سے اپنی اولاد کی طرح محبت کرنی چاہیے، سب کے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک کرنا چاہیے، طلبہ پر غصہ نہیں کرنا چاہیے، صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے، طلبہ کی فلاح و بہبود کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے اور ان کی سیکھنے کی صلاحیت کے مطابق انہیں تعلیم دینی چاہیے۔ ایسے اساتذہ کے لیے گہرے احترام کے جذبے کا اظہار کرتے ہوئے، تَیتِریہ اُپنشد کی ’شکشا وَلّی‘ نے تقریباً تین ہزار سال قبل یہ لازوال پیغام دیا تھا: ’’آچاریہ دیوو بھَو‘‘، یعنی ’’استاذ کو دیوتا کے مانند سمجھا جائے۔‘‘
یہ میرے لیے بہت بڑی خوش بختی رہی ہے کہ مجھے بہت سے دانا اور شفیق اساتذہ کی رہنمائی حاصل ہوئی۔ بعض اوقات ہمارے اساتذہ اسکول کے اوقات کے بعد بھی اپنے گھروں پر ہمیں پڑھایا کرتے تھے اور ہماری بہت محبت اور توجہ سے دیکھ بھال کرتے تھے۔ ساتویں جماعت کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے گاؤں سے باہر جانے والی پہلی لڑکی تھی۔ بعد میں، بھونیشور میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران بھی، مجھے اپنے اساتذہ کی بے پناہ محبت اور حوصلہ افزائی حاصل ہوئی۔ میں یہاں اپنے اساتذہ کا ذکر پوری عاجزی کے ساتھ کر رہی ہوں، کیونکہ ان کی زندگی ایک گہری حقیقت کو واضح کرتی ہے: ایک محبت کرنے والا اور مخلص استاذ اپنے طالب علم کے اندر بے پناہ صلاحیتوں اور جذبۂ شوق کو بیدار کر سکتا ہے۔ اس حوصلہ افزائی سے تقویت پا کر طلبہ زندگی کے مشکل ترین چیلنجوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ اور بلند ترین مقاصد حاصل کرنے کا اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ اساتذہ محض نصاب کی تعلیم دینے تک محدود نہیں ہوتے۔ وہ اپنے کردار اور عملی نمونے کے ذریعے اپنے طلبہ کو ایک بامقصد اور کامیاب زندگی گزارنے کا فن اور ہنر بھی سکھاتے ہیں۔ ایک استاذ، رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ، طلبہ کا خیر خواہ، دوست اور علم کی جستجو کے سفر میں ان کا ہم سفر بھی ہوتا ہے۔
ایک اچھے استاذکی خصوصیات کے بارے میں قدیم زمانے سے ہماری تہذیب اور روایت میں چلی آ رہی معلومات آج بھی پوری طرح موزوں ہے۔ کئی صدیوں قبل، مہاکوی کالی داس نے اپنے ڈرامے ’مالویکاگنِ متریم‘ میں لکھا کہ ایک اچھا استاذوہ ہوتا ہے جو گہرا علم رکھتا ہو اور ساتھ ہی اس علم کو مؤثر انداز میں دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔
سنسکرت کی ایک مشہور کہاوت ہمیں یہ سکھاتی ہے: ’’سَروَتر وِجَیَم اِچّھیت، شِشیاد اِچّھیت پَرَاجَیَم‘‘ — انسان ہر جگہ جیت کی خواہش رکھے، لیکن اپنے شاگرد کے سامنے شکست کی خواہش رکھے۔ طلبہ میں آزادانہ سوچ کو فروغ دینا، ان کے اندر تجسس پیدا کرنا، سوال کرنے کی عادت کو پروان چڑھانا، ان کی بحث و استدلال اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو نکھارنا، اور انہیں خودمختار شخصیت کے طور پر پروان چڑھنے میں مدد دینا—یہ تدریس کے سب سے مفید اور باعثِ اطمینان پہلوؤں میں شامل ہیں۔ صرف ایسی ہی حوصلہ افزا تعلیم کے ذریعے ہم کامیاب کاروباری افراد، باصلاحیت سائنس دانوں، تخلیقی فن کاروں اور ایسے باشعور شہریوں کی نسلیں تیار کر سکیں گے جو ابھرتے ہوئے چیلنجوں کے لیے اختراعی حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
تدریس محض ایک پیشہ نہیں، بلکہ ایک عہد ہے۔ یہ صرف ملازمت یا روزگار کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسانیت کی تشکیل کا مقدس فریضہ ہے۔ یہ آنے والی نسلوں کی زندگی روشن کرنے کی ایک عظیم اور مقدس ذمہ داری ہے۔
تدریس سے جڑی میری یادیں مجھے خاص خوشی اور اطمینان دیتی ہیں۔ میں نے اوڈیشہ کے رائرانگ پور میں واقع سری اروبندو انٹیگرل اسکول میں بچوں کو پڑھایا۔ مختلف مضامین پڑھانے کے ساتھ ساتھ، میں بچوں کی موسیقی کے مظاہروں، کھیلوں اور ڈراموں کی تیاری میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی۔ آج بھی یومِ آزادی اور یومِ جمہوریہ کی تقریبات کی ہماری تیاریوں اور ان تقریبات کے دوران بچوں کی خوشی اور جوش و خروش کو یاد کرنا میرے لیے بہت خوشی کا باعث ہے۔ مجھے طلبہ کو خوبصورت قدرتی ماحول میں پکنک پر لے جانے اور کھیل کود و سیر کے ذریعے انہیں جانوروں، پرندوں، درختوں اور پودوں کی دنیا سے متعارف کرانے میں بھی بہت خوشی اور اطمینان حاصل ہوتا تھا۔
اسکول چھوڑنے کے کئی سال بعد بھی میرے طلبہ مجھے اپنی گھریلو تقریبات میں مدعو کرتے ہیں۔ مجھے نہ صرف اپنے بہت سے طلبہ کے نام آج بھی اچھی طرح یاد ہیں، بلکہ وہ پیارے نام بھی یاد ہیں جن سے ہم انہیں محبت سے پکارا کرتے تھے۔ میں نے اپنے طلبہ سے بھی بہت کچھ سیکھا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اساتذہ بھی بچوں کی بے ساختگی اور تجسس سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔
صدر جمہوریہ کی حیثیت سے اپنی مدتِ کار کے دوسرے سال کی تکمیل کے موقع پر، میں نے راشٹرپتی بھون کے احاطے میں واقع اسکول کے طلبہ کے ساتھ وقت گزارا اور انہیں ماحولیات کے تحفظ کے بارے میں بتایا۔ مجھے ہمیشہ طلبہ سے ملنے اور ان کے خیالات اور نظریات کو سمجھنے میں خاص دلچسپی رہتی ہے۔ وہ جو کچھ میرے ساتھ شیئر کرتے ہیں، وہ ہمیشہ میرے ذہن میں رہتا ہے۔
تقریباً گیارہ سال قبل، میں نے اپنے گاؤں میں واقع اپنے گھر میں ایک رہائشی اسکول قائم کیا تھا۔ اس اسکول میں محروم خاندانوں کے طلبہ اور ایسے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں جنہوں نے اپنے والدین کو کھو دیا ہے۔ میں وقتاً فوقتاً اسکول کا دورہ کرکے بچوں سے ملتی رہی ہوں۔ اس سال 20 جون کو اپنی سالگرہ کے موقع پر بچوں سے مل کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی بھی میرے ساتھ اسکول آئے اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔ ان سے ملاقات کا یہ غیر معمولی تجربہ ان بچوں کے لیے ہمیشہ ترغیب کا ایک مستقل ذریعہ بنا رہے گا۔ ان بچوں کو ترقی کرتے اور آگے بڑھتے دیکھ کر مجھے خاص طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ میری کوششیں ثمر آور ہیں۔
تعلیم دینے کی ذمہ داری صرف اساتذہ تک محدود نہیں ہے۔ جو لوگ اپنے کردار اور کامیابیوں کے ذریعے بچوں کے لیے مثالی نمونہ بنتے ہیں، وہ بھی سیکھنے اور ترغیب حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔
والدین اور سرپرست جب اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے اساتذہ کے سپرد کرتے ہیں تو وہ ان پر سب سے زیادہ بھروسا کرتے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ اساتذہ بچوں کو اپنی اولاد کی طرح سمجھیں گے اور ان کی حفاظت اور نشوونما کا پوری طرح خیال رکھیں گے۔ اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ ان کے اس مقدس اعتماد کو ہمیشہ قائم رکھیں۔ استاد کا رویہ، کردار اور برتاؤ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے بچوں میں خوف اور پریشانی پیدا ہو، ان کا حوصلہ ٹوٹے یا ان کے اندر احساسِ کمتری پیدا ہو۔ اچھے اساتذہ اپنے طلبہ کو اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بہتر انسان بننے میں مدد کرتے ہیں۔
اساتذہ کا یہ فرض منصبی ہے کہ وہ اپنے طلبہ کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں اچھا انسان بننے کی ترغیب دیں۔ جو طلبہ اپنے خیالات اور اعمال میں اخلاقی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے خوش حالی اور کامیابی حاصل کرتے ہیں، وہ استاد کی کامیابی کی جیتی جاگتی مثال ہوتے ہیں۔
ہمارا ملک سماجی شمولیت کو بنیادی حیثیت دیتے ہوئے ایک ترقی یافتہ قوم بننے کے ہدف کی جانب مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سفر میں آگے بڑھتے ہوئے، میں چاہتی ہوں کہ ہمارے اساتذہ ایسی نسلوں کی تشکیل کریں جو ہماری مالا مال ثقافتی وراثت اور روایات کی قدر کریں؛ جن میں سائنسی سوچ پیدا ہو اور جو انسانیت کی فلاح کے لیے کام کریں؛ جو ’انتودیہ‘ کے اصول کو اپنائیں؛ جو ماحول اور تمام جانداروں کا تحفظ کریں؛ جو انفرادی اور اجتماعی طور پر بہترین کارکردگی کے لیے کوشاں رہیں، اور جو ’ملک سب سے پہلے‘ کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں۔ میں ہر شہری سے اپیل کرتی ہوں کہ ہمارے مخلص، محنتی اور پُرعزم اساتذہ کو ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ ہمارے فرض شناس اور وقف اساتذہ کی گراں قدر خدمات کے ذریعے ہندوستان سیکھنے کا یہ سفر مسلسل جاری رکھے اور مستقبل میں دنیا کی رہنمائی اور قیادت کرنے کی حیثیت کا حامل بنے۔
( مضمون نگار عزت مآب صدر جمہوریہ ہند ہیں)
Shaping Minds; Building the Future
By : Smt. Droupadi Murmu
