ڈاکٹر ریحان اختر
اسسٹنٹ پروفیسر، فیکلٹی آف تھیولوجی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
Email: raihanhams6@gmail.com
عصرِ حاضر کا مسلم نوجوان معلومات کے ایسے سیلاب میں زندگی گزار رہا ہے جہاں حق و باطل، دلیل و جذبات اور علم و افواہ کے درمیان فرق کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ عالمی واقعات، معاشرتی ناانصافیاں، مذہبی اختلافات اور ڈیجیٹل دنیا کی بے شمار آوازیں اس کے ذہن میں مسلسل سوالات پیدا کرتی ہیں۔ ایسے ماحول میں ضرورت محض ممانعتوں کی فہرست پیش کرنے کی نہیں، بلکہ ایسی متوازن دینی بصیرت پیدا کرنے کی ہے جو ایمان کو عقل، جذبات کو اخلاق اور اختلاف کو عدل کے ساتھ جوڑ سکے۔ قرآن و سنت اور سیرتِ نبوی ﷺ اسی فکری توازن کی بنیادی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے انسانی جان کے بارے میں اس کے تصور کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ایسے وقت میں جب انسان کی قدر کبھی مذہب، قوم، نسل یا سیاسی وابستگی سے متعین ہونے لگتی ہے، قرآن انسانی جان کو ایک بلند اخلاقی مقام عطا کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“جس نے کسی جان کو کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے علاوہ قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا، اور جس نے ایک جان بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو بچایا۔”
(المائدہ، 5:32)
امام قرطبیؒ نے اس آیت کے تحت انسانی جان کی حرمت کو شریعت کے عظیم مقاصد میں شمار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ انسانی زندگی کا تحفظ دینی ذمہ داری بھی ہے۔ (تفسیر القرطبی، سورۃ المائدہ، آیت 32)
رسول اللہ ﷺ کی سیرت اس اصول کو عملی شکل دیتی ہے۔ ایک غزوے کے دوران ایک عورت مقتول پائی گئی تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کو ناپسند فرمایا اور عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ (صحیح بخاری، حدیث 3014)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ بھی اخلاقی حدود سے آزاد نہیں ہے۔ دشمنی کسی انسان کو اس کے بنیادی حق سے محروم کرنے کا عمومی جواز نہیں بن سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تصورِ عدل میں مقصد کے ساتھ ذریعہ بھی اہم ہے۔ آج جب دنیا کے مختلف خطوں کے انسانی المیے نوجوانوں تک براہِ راست پہنچتے ہیں، ظلم پر غصہ فطری ہے، مگر اسلام اس غصے کو بے قابو ردِعمل کے بجائے عدل اور اخلاق کے تابع کرنا چاہتا ہے۔ یوں رحمت محض ایک جذبہ نہیں رہتی بلکہ ایک اخلاقی اصول بن جاتی ہے۔
دین کو سمجھنے میں تحقیق کی اہمیت
انسانی جان کی حرمت کے بعد ایک اور بنیادی سوال یہ ہے کہ دینی احکام اور واقعات کو سمجھا کیسے جائے؟ بعض اوقات مسئلہ دین کی تعلیم میں نہیں، بلکہ اس کے مطالعے کے طریقے میں ہوتا ہے۔ ایک آیت الگ کر لی جاتی ہے، ایک حدیث کا آدھا مفہوم پیش کر دیا جاتا ہے اور پھر اس سے پورے دین کا تصور قائم کر لیا جاتا ہے۔
قرآن اس طرزِ عمل کے بجائے تحقیق کا اصول بتاتا ہے:
“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لاعلمی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔”
(الحجرات، 49:6)
امام ابن عاشورؒ کے نزدیک خبر کی تحقیق اجتماعی زندگی کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے؛ غیر مصدقہ اطلاع پر فیصلہ اجتماعی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ (التحریر والتنویر، سورۃ الحجرات، آیت 6)
اسی اصول کی تائید رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے:
“آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا پھرے۔”
(صحیح مسلم، حدیث 5)
آج یہ ہدایت محض اخلاقی نصیحت نہیں رہی۔ ایک مختصر کلپ میں آدھی حدیث، ایک تصویر میں آدھی آیت یا کسی تاریخی واقعے کا جذباتی اقتباس پورے دینی تصور کی نمائندگی کرنے لگتا ہے۔ اس لیے نوجوان کو صرف صحیح اور غلط بتانا کافی نہیں؛ اسے صحیح بات تک پہنچنے کا علمی طریقہ بھی سکھانا ہوگا۔ یہی شعور اسے جذباتی مذہبی مواد کا محض صارف بننے سے بچا کر سنجیدہ طالبِ علم بناتا ہے۔
جہاد اور قتال: مفہوم اور حدود
اسی علمی احتیاط کی ضرورت جہاد اور قتال کے مسئلے میں بھی نمایاں ہوتی ہے۔ جدید گفتگو میں یہ دونوں الفاظ اکثر مترادف استعمال ہوتے ہیں، حالاں کہ اسلامی علمی روایت میں ان کے مفاہیم یکساں نہیں ہیں۔ جہاد کا مفہوم وسیع ہے اور جدوجہد کی مختلف صورتوں کو شامل کرتا ہے، جب کہ قتال مسلح تصادم کے مخصوص حالات سے متعلق ہے۔ اس فرق کو نظرانداز کرنے سے ایک وسیع دینی تصور صرف جنگ کے مفہوم تک محدود ہو جاتا ہے۔
جنگ کے بارے میں قرآن کا ایک واضح اصول ہے:
“اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسا کرو۔”
(الانفال، 8:61)
امام ابن کثیرؒ اس آیت کے تحت صلح کی طرف میلان کو، مصلحت کی صورت میں، قبول کرنے کی رہنمائی قرار دیتے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر، سورۃ الانفال، آیت 61)
صلحِ حدیبیہ اس اصول کی عملی مثال ہے۔ اس وقت بعض صحابہؓ کے لیے معاہدے کی شرائط قبول کرنا آسان نہ تھیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فوری جذبات کے بجائے مستقبل کے امکانات کو پیشِ نظر رکھا اور یہی معاہدہ بعد میں اسلام کے پھیلاؤ کا اہم ذریعہ بنا۔
جنگی میدان میں بھی عورتوں اور بچوں کے قتل سے ممانعت واضح کرتی ہے کہ قتال غیر محدود تشدد کا نام نہیں۔ آج جب “جہاد” جیسی اصطلاحیں علمی گفتگو سے زیادہ سوشل میڈیا کے سیاسی اور جذباتی بیانیوں میں سنائی دیتی ہیں، تو نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض لفظ سے متاثر ہونے کے بجائے اس کے شرعی مفہوم، شرائط اور اخلاقی حدود کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
اختلاف کے آداب
دینی فہم کی یہ ضرورت ہمیں اختلاف کے مسئلے تک لے جاتی ہے۔ اختلاف اسلامی علمی روایت کا اجنبی عنصر نہیں ہے۔ فقہ اور تفسیر کی تاریخ متعدد آراء کی گواہ ہے۔ اصل مسئلہ اختلاف نہیں بلکہ اس کے اخلاقی آداب کا ختم ہو جانا ہے۔
جب علمی اختلاف کسی فرد یا گروہ کے ایمان اور دینی حیثیت پر فیصلہ سنانے کا ذریعہ بن جائے تو معاملہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ قرآن مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے:
“اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔”
(آل عمران، 3:103)
امام طبریؒ کے نزدیک اس آیت میں مسلمانوں کو اللہ کی ہدایت سے اجتماعی وابستگی اور باہمی اتحاد کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ (جامع البیان، سورۃ آل عمران، آیت 103)
سیرتِ نبوی ﷺ میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس سلسلے میں غیر معمولی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ایک شخص نے حُرقہ کی مہم کے دوران کلمہ پڑھا، مگر حضرت اسامہؓ نے اسے قتل کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے سوال کیا کہ جب اس نے کلمہ پڑھ لیا تھا تو اسے کیوں قتل کیا؟ حضرت اسامہؓ نے اس کے اقرار کو جان بچانے کی تدبیر قرار دیا، تو نبی ﷺ نے اس کے باطن کا فیصلہ کرنے سے منع فرمایا۔ (صحیح مسلم، حدیث 277)
اس واقعے میں ایک وسیع اخلاقی اصول موجود ہے کہ انسان کے باطن کا حتمی فیصلہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ آج سوشل میڈیا پر چند جملوں کی بنیاد پر لوگوں کو ایمان و کفر کے خانوں میں بانٹنے کا رجحان اسی لیے تشویش ناک ہے کہ یہ علمی اختلاف کو اخلاقی دشمنی میں بدل دیتا ہے۔
اسی لیے نوجوانوں کو اختلاف سے خوف زدہ کرنے کے بجائے اختلاف کے آداب سکھانا زیادہ مؤثر دینی تربیت ہے۔
انتہا پسندانہ بیانیوں سے نوجوان کیوں متاثر ہوتے ہیں؟
فکری استقامت کا مسئلہ صرف غلط خیالات کی تردید تک محدود نہیں۔ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ایک نوجوان انتہا پسندانہ بیانیے کی طرف متوجہ کیوں ہوتا ہے۔
بعض اوقات ذہنی خلا، مقصد کی تلاش، شناخت کا سوال، سماجی محرومی یا ناانصافی کا شدید احساس اسے ایسے بیانیوں کے قریب لے جاتا ہے جو سادہ اور فوری جواب فراہم کرتے ہیں۔
قرآن کہتا ہے:
“بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں۔”
(الرعد، 13:11)
امام سعدیؒ اس آیت کے تحت واضح کرتے ہیں کہ تبدیلی کا آغاز انسان کے اپنے احوال، اعمال اور رویوں کی اصلاح سے ہوتا ہے۔ (تفسیر السعدی، سورۃ الرعد، آیت 11)
سیرتِ نبوی ﷺ میں نوجوانوں کے ساتھ معاملہ اس کا عملی جواب فراہم کرتا ہے۔ انہیں صرف نصیحت نہیں دی گئی بلکہ مقصد، اعتماد اور ذمہ داری بھی دی گئی۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ اس کی نمایاں مثال ہیں۔ ایک آسودہ نوجوان نے اسلام قبول کیا تو اس کی زندگی کا رخ بدل گیا اور بعد میں انہوں نے مدینہ میں اسلام کی تعلیم و دعوت کی ذمہ داری سنبھالی۔
آج اگر نوجوان کو صرف “یہ نہ کرو” اور “اس سے بچو” کہا جاتا رہے تو اس کے اندر موجود خلا باقی رہ سکتا ہے۔ اسے ایسا راستہ بھی چاہیے جس میں اس کی صلاحیت استعمال ہو، اس کی بات سنی جائے اور اسے کسی مثبت مقصد کا حصہ محسوس ہو۔
علم، خدمت اور تعمیری کردار میں جگہ پانے والا نوجوان تباہ کن نظریات سے نسبتاً زیادہ محفوظ رہتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا اور دینی رہنمائی
یہاں سے دینی رہنمائی کے موجودہ ذرائع کا سوال بھی سامنے آتا ہے۔ نوجوان اب مذہبی سوال کے جواب کے لیے لازماً کسی عالم یا کتاب کا انتظار نہیں کرتا۔ وہ سوال لکھتا ہے، ویڈیو دیکھتا ہے اور چند منٹ میں ایک رائے قائم کر لیتا ہے۔
اس تبدیلی کو صرف شکایت کے انداز میں دیکھنے کے بجائے مذہبی رہنمائی کے طریقۂ ابلاغ پر بھی غور کرنا ہوگا۔
قرآن کا اصول ہے:
“اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں، اس کے پیچھے نہ چلو؛ بے شک کان، آنکھ اور دل، سب کے بارے میں بازپرس ہوگی۔”
(الاسراء، 17:36)
امام قرطبیؒ نے اس آیت سے بے علم بات کی پیروی سے احتراز کا عمومی اصول اخذ کیا ہے۔ (تفسیر القرطبی، سورۃ الاسراء، آیت 36)
اس اصول کی روشنی میں مسئلہ سوشل میڈیا چھوڑنے کا نہیں بلکہ اسے علمی شعور کے ساتھ استعمال کرنے کا ہے۔ معتبر عالم اور غیر معروف مقرر، اصل حوالہ اور من گھڑت اقتباس، مکمل بیان اور کاٹی ہوئی کلپ میں فرق کرنا اب دینی تعلیم کا حصہ بن چکا ہے۔
یہاں علماء اور دینی اداروں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر معتبر علمی آواز نوجوان تک اس کی زبان اور اس کے پلیٹ فارم پر نہیں پہنچے گی تو پیدا ہونے والا خلا کوئی نہ کوئی ضرور پر کرے گا۔
ظلم کے خلاف ردِعمل اور عدل
ڈیجیٹل دنیا نوجوان کو صرف معلومات نہیں دیتی بلکہ اسے دنیا بھر کے مظاہرِ ظلم سے بھی براہِ راست جوڑ دیتی ہے۔ جنگ، ہجرت، امتیاز اور انسانی تکلیف کے مناظر اس کے اندر شدید جذبات پیدا کرتے ہیں۔
ایسے ماحول میں اسلامی تربیت کا امتحان یہ ہے کہ مظلوم کے ساتھ ہمدردی اور ظلم کے خلاف نفرت کو اخلاقی حدود میں کیسے رکھا جائے۔
قرآن کا حکم ہے:
“اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔”
(النساء، 4:135)
امام ابن عاشورؒ اس آیت میں عدل کی اس غیر جانب داری کو نمایاں کرتے ہیں جس میں انسان اپنے مفاد اور گروہی تعلق سے بلند ہو کر حق کو دیکھتا ہے۔ (التحریر والتنویر، سورۃ النساء، آیت 135)
رسول اللہ ﷺ نے بھی حقیقی طاقت کو جذباتی غلبے کے بجائے اخلاقی ضبط سے جوڑا ہے:
“طاقتور وہ نہیں جو لوگوں کو اپنی طاقت سے پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔”
(صحیح بخاری، کتاب الادب)
اس لیے کسی ظلم پر غصہ آئے تو اصل سوال صرف یہ نہیں کہ غصہ کتنا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسے کس سمت لے جایا جا رہا ہے۔ کیا درست معلومات پھیلائی جا رہی ہیں؟ کیا مظلوم کی قانونی، انسانی یا اخلاقی مدد کی جا رہی ہے؟ کیا ظلم کے خلاف آواز نفرت پھیلائے بغیر اٹھائی جا سکتی ہے؟
اسلامی منہج غصے کو ختم نہیں کرتا؛ اسے عدل کے تابع کرتا ہے۔
ہندوستانی مسلم نوجوان اور شہری ذمہ داری
یہی عدل اور اخلاق مسلم نوجوان کے تصورِ شہریت کو بھی واضح کرتے ہیں۔ دینی شناخت اسے معاشرے سے الگ نہیں کرتی بلکہ اپنے گرد و پیش کے لوگوں کے حقوق، امن اور بھلائی کے بارے میں جواب دہ بناتی ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں مختلف مذاہب، زبانیں، ثقافتیں اور تہذیبی روایتیں ساتھ رہتی ہیں، یہ تعلیم خاص معنویت رکھتی ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے بنایا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔”
(الحجرات، 49:13)
امام ابن کثیرؒ واضح کرتے ہیں کہ مختلف قوموں اور قبائل کا وجود باہمی تعارف کے لیے ہے، نہ کہ فخر اور تحقیر کے لیے۔ (تفسیر ابن کثیر، سورۃ الحجرات، آیت 13)
اسی طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔”
(الممتحنہ، 60:8)
مدینہ میں رسول اللہ ﷺ نے مختلف گروہوں کے ساتھ معاہدات اور اجتماعی ذمہ داریوں کا نظام قائم کیا، جو اس بات کی عملی مثال تھا کہ دینی شناخت اور اجتماعی نظم ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔
ہندوستانی مسلم نوجوان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ شہریت محض قانونی حیثیت نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ تعلیم، قانون کی پاسداری، معاشرتی امن، علمی خدمت، پڑوسیوں کے حقوق، انسانی احترام اور ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا اس کے دینی کردار سے متصادم نہیں ہے۔
اپنی شناخت پر اعتماد کا مطلب معاشرے سے الگ ہونا نہیں، بلکہ اسے مثبت کردار میں ظاہر کرنا ہے۔
خاندان، علماء اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری
اس فکری اور اخلاقی تشکیل میں خاندان، علماء اور تعلیمی اداروں کا کردار بنیادی ہے۔ نوجوان کی پہلی درس گاہ گھر ہے؛ پھر دوست، استاد، مسجد، کتاب اور اب ڈیجیٹل دنیا بھی اس کی تربیت کا حصہ ہیں۔
اگر وہ سوال کرے اور اسے صرف ڈانٹ ملے، مدرسے میں سوال پیش کرے تو اسے گستاخ سمجھا جائے یا اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ الجھن کا اظہار کرے تو اس کے اندر فکری خلا پیدا ہونا بعید نہیں۔
قرآن رسول اللہ ﷺ کے تربیتی انداز کو یوں بیان کرتا ہے:
“اللہ کی رحمت ہی سے آپ ان کے لیے نرم رہے، اور اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو وہ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے۔ پس انہیں معاف کر دیجیے، ان کے لیے مغفرت طلب کیجیے اور معاملات میں ان سے مشورہ کیجیے۔”
(آل عمران، 3:159)
امام رازیؒ نرمی اور مشاورت کو لوگوں کو جوڑنے اور اصلاح کے اہم ذرائع میں شمار کرتے ہیں۔ (مفاتیح الغیب، سورۃ آل عمران، آیت 159)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن روانہ کرتے وقت ان سے یہ جاننے کے لیے گفتگو کی کہ نئے مسائل میں فیصلہ کیسے کریں گے۔ اس مکالمے میں حکم کے ساتھ سوچنے کا طریقہ سکھانے کا پہلو بھی تھا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الاقضیہ)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو ہر سوال کا تیار جواب دینے کے ساتھ انہیں صحیح طریقے سے سوچنا سکھانا بھی ضروری ہے۔
والدین اس کے سوال سنیں، علماء اس کے شبہات کو سمجھیں اور تعلیمی ادارے اسے دلیل اور احترام کے ساتھ اختلاف کرنا سکھائیں۔ اعتماد کا رشتہ قائم ہو تو نوجوان اپنی الجھنیں چھپانے کے بجائے بیان کرتا ہے، اور یہی رہنمائی کا پہلا دروازہ ہے۔
منفی ممانعتوں کے بجائے مثبت دینی تصور
فکری استقامت کی تکمیل صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ نوجوان غلط نظریات کو پہچان لے، بلکہ اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اسلامی زندگی کی تعمیر کن مثبت اصولوں پر ہوتی ہے۔
اگر دینی تربیت کا بیشتر حصہ صرف “یہ نہ کرو” اور “اس سے بچو” تک محدود رہے تو اسلام اس کے ذہن میں ایک دفاعی تصور بن سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اسلام کا مثبت تصور اسے بتاتا ہے کہ ایمان انسان کو کیا بناتا ہے اور معاشرے کے لیے اس سے کیا توقع کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتی، برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو، پھر وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی گویا وہ گہرا دوست بن جائے گا۔”
(فصلت، 41:34)
امام سعدیؒ اس آیت میں حسنِ اخلاق اور احسان کی اس قوت کو بیان کرتے ہیں جو دشمنی کے ماحول کو بھی قربت میں بدل سکتی ہے۔ (تفسیر السعدی، سورۃ فصلت، آیت 34)
رسول اللہ ﷺ نے ایمان کو دوسروں کے لیے خیر خواہی سے جوڑتے ہوئے فرمایا:
“تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔”
(متفق علیہ)
سیرتِ نبوی ﷺ کا مدنی دور اسی مثبت اسلام کی وسیع تصویر پیش کرتا ہے: مسجد کی تعمیر، مواخات، تعلیم، معاہدات، عدل، بازار کے معاملات اور پڑوسیوں کے حقوق—یہ سب ایک تعمیری اجتماعی زندگی کے اجزا تھے۔
اسلام نے انسان کو صرف یہ نہیں بتایا کہ کن راستوں سے بچنا ہے، بلکہ یہ بھی سکھایا کہ زمین پر خیر کیسے پیدا کرنی ہے۔
آج کے نوجوانوں کو بھی یہی اسلام درکار ہے؛ ایسا اسلام جو اس کے سوالوں سے گھبرائے نہیں، اس کے غصے کو عدل کی طرف لے جائے، اس کی صلاحیتوں کو بیکار نہ چھوڑے اور اسے یہ احساس دے کہ وہ اپنے علم، کردار اور خدمت کے ذریعے معاشرے میں خیر پیدا کر سکتا ہے۔
نتیجہ
الغرض! مسلم نوجوانوں کے سامنے موجود فکری چیلنج کا حل محض سخت ممانعتوں، جذباتی تقریروں یا چند انتہا پسندانہ نظریات کی تردید میں نہیں ہے۔ اصل ضرورت ایسی دینی تربیت کی ہے جو نوجوانوں کو اسلام کے بنیادی، اخلاقی اور فکری اصولوں سے اس طرح جوڑ دے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز کر سکیں۔
قرآن انسانی جان کی حرمت، خبر کی تحقیق، اختلاف کے باوجود عدل اور برائی کا بہتر طریقے سے مقابلہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے، جب کہ سیرتِ نبوی ﷺ ان اصولوں کو عملی صورت میں ہمارے سامنے رکھتی ہے۔
اس جامع منہج میں ایمان کے ساتھ عقل، غیرت کے ساتھ عدل، اختلاف کے ساتھ اخلاق، جنگ کے حالات میں انسانی حدود اور مذہبی شناخت کے ساتھ اجتماعی ذمہ داری موجود ہے۔
اسی توازن سے ہندوستانی مسلم نوجوانوں میں وہ فکری استقامت پیدا ہو سکتی ہے جو اسے صرف انتہا پسندانہ خیالات سے محفوظ نہ رکھے بلکہ صاحبِ علم، باکردار، ذمہ دار اور مثبت شہری بنائے۔
ایسا نوجوان اپنے دین سے وابستہ رہتے ہوئے اپنے معاشرے کے لیے خیر، امن اور ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
