گومتی بک فیسٹیول 2026 میں قومی اردو کونسل کے زیراہتمام مشاعرے کا انعقاد
لکھنؤ ؍ نئی دہلی: گومتی بک فیسٹیول (12 تا 20 ستمبر2026) میں آج شام چار بجے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے زیر اہتمام ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس مشاعرے میں ڈاکٹرعمار رضوی (صدر، آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی) نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ شعرا میں جناب حسن کاظمی، جناب چودھری چرن سنگھ بشر، جناب ملک زادہ جاوید، جناب منیش شکلا، جناب پپلو لکھنوی اور محترمہ تارا اقبال نے اپنے کلام سے نوازا۔ مشاعرے کی صدارت جناب حسن کاظمی نے اور نظامت ڈاکٹر فیضان الحق (ریسرچ اسسٹنٹ، این سی پی یو ایل) نے کی۔ فیضان الحق نے قومی اردو کونسل کی جانب سے تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کونسل کی مختلف علمی و ادبی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور کتاب کلچر کے فروغ میں ادارے کے موجودہ ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال کی کاوشوں کا بھی ذکر کیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کونسل چنار بک فیسٹیول، علی گڑھ کتاب میلہ، گومتی بک فیسٹیول اور عالمی اردو کانفرنس میں مختلف ادبی و ثقافتی تقاریب اور مشاعروں کا انعقاد کر چکی ہے۔ یہ مشاعرہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر عمار رضوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی اردو کونسل مختلف پروگراموں اور کتابوں کی اشاعت کے ذریعے اردو کو فروغ دے رہی ہے۔ مشاعروں کا انعقاد بھی اس لیے اہم ہے کیوں کہ مشاعروں ںے ملک کی تعمیر و ترقی اور مشترکہ تہذیب کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ انھوں ںے اردو زبان اور لکھنوی تہذیب کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو کا لکھنؤ سے گہرا رشتہ ہے اور یہاں کے شعرا کا ایک الگ مقام ہے۔
مشاعرے میں تمام شعرا نے نہایت عمدہ کلام پیش کیا، جس پر سامعین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔ بطور نمونہ شعرا کی غزلوں کا ایک ایک شعر یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔
اپنا چہرا کوئی کتنا بھی چھپائے لیکِن
وقت ہر شخص کو آئینہ دکھا دیتا ہے
(حسن کاظمی)
کس قدر آج برا حال ہے ہم لوگوں کا
حادثے آ کے جگاتے ہیں تو ہم جاگتے ہیں
(چرن سنگھ بشر)
دھوپ کے ساتھ چھاؤں بھی روئی
آج اک پیڑ سوکھ جانے پر
(ملک زادہ جاوید)
ہماری جان کے دشمن نے، ہم نے اور رب نے
ہماری چیخ سنی صرف تین لوگوں نے
(منیش شکلا)
یقین سبزہ نہیں تھا جو خود بخود اگتا
یقیں وہ فصل ہے جو دیکھ بھال چاہتی ہے
(تارااقبال)
کوئی بھی روک نہ پاتا گزر گیا ہوتا
مرا نصیب محبت سنور گیا ہوتا
نہ آئیں ہوتی جو بیگم مری عیادت کو
میں اسپتال کی نرسوں پہ مر گیا ہوتا
(پپلو لکھنوی)
