پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کا تعلیمی بیداری پروگرام منعقد
نئی دہلی/نوح (میوات، ہریانہ): پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام مدرسہ العافیہ للبنات، فیروزپور ڈہر ،نوح میوات میں ایک تعلیمی بیداری پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں علماء، دانشوران، خواتین نمائندگان اور مقامی معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر معراج راعین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علماء ہماری نمائندگی کر رہے ہیں، جو ہمارے لیے خوشی کی بات ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی پسماندہ طبقے کو نمائندگی کا موقع فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا حصول وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی ابتر ہے اور ان میں سب سے زیادہ تعداد پسماندہ مسلمانوں کی ہے، مگر یہ تلخ حقیقت ہم سے چھپائی گئی۔ معراج راعین نے دفعہ 341 پر مذہبی پابندی کو دلت مسلمانوں کے ساتھ سراسر ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جتنی ذاتیں ہندو مذہب میں ہیں تقریباً اتنی ہی مسلمان میں بھی ہیں لیکن بتایا یہ جاتا ہے کہ اسلام میں ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے ،(لیکن ہندوستانی مسلمانوں میں ذات-پات وائرس کی طرح پیوست ہے)۔ مگر تشدد کا نشانہ بننے والے اکثر دلت مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن کی قومی تعلیمی بیداری مہم کو مدارس سے جوڑنے کا مقصد یہ ہے کہ مدارس کے طلبہ ذہین ہوتے ہیں اور زیادہ تر غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان کے لیے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا حصول بھی ضروری ہے تاکہ وہ ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے مدرسے کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کی اجتماعی کوششوں سے ہی یہ مشن کامیاب ہوگا۔
فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر(خواتین )نکہت پروین نے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں تاکہ وہ والدین کی کمزوری نہیں بلکہ ان کی طاقت بنیں۔ تعلیم یافتہ خواتین نہ صرف اپنے خاندان بلکہ معاشرے اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت سے وابستگی بھی برقرار رکھنی چاہیے کیونکہ تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جو خواتین کے بارے میں سماج کے فرسودہ خیالات کو بدل سکتی ہے۔
پروگرام کی صدارت قاری اسجد زبیر قاسمی (سرپرست پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن و صدر جامعہ عربیہ شمس العلوم، شاہدرہ، دہلی) نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا زاہد عالم مظاہری (صدر علماء ٹیم، پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن) نے انجام دیے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر منوج کمار، ضلع کھیل افسر نوح (ہریانہ) بھی موجود رہے منوج کمار نے کہا مدرسوں کو دینی و عصری تعلیم کے ساتھ۔ساتھ کھیل-کود میں بھی برھ-چرھ کر حصہ لینی چاہئے تاکہ طلباء صحت اور ذہنی طور پر بھی مظبوط ہو سکے۔
پروگرام میں اشرف خان، سید فرخ سیر، مولانا رضوان القاسمی (سابق استاد وقف دارالعلوم دیوبند)، مولانا غفران قاسمی (ایڈیٹر بصیرت آن لائن ممبئی)، مفتی وسیم اکرم قاسمی (صدر علماء ٹیم، پی وی ایف) اور دیگر علماء کرام شریک ہوئے۔ فاؤنڈیشن ٹیم میں حسین فاطمہ، عامر ظفر، محمد سمیر، محمد مشرف نمایاں طور پر سرگرم رہے۔ شکریہ کی رسم حافظ محمد صدیق قاسمی (سربراہ مدرسہ العافیہ للبنات) نے ادا کی۔ رونقِ اسٹیج پر مولانا راشد قاسمی، ماسٹر عبدالوہاب، صحافی ظفرالدین، مولانا مبین، مولانا ندیم خان، صحافی صابر قاسمی، جناب کفایت اللہ اور دیگر معزز علماء کرام موجود رہے۔ پروگرام کے اختتام پر ملک و ملت کی ترقی اور تعلیمی بیداری کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

