
آگرہ: گریمی ایوارڈ یافتہ اور پدم بھوشن سے نوازے گئے مشہور و معروف وینا نواز پنڈت وشو موہن بھٹ نے کہا کہ بھارتی کلاسیکی موسیقی صرف فن نہیں بلکہ یہ روحانیت کی ایک عبادت ہے — رَج سے سَت وک کی طرف سفر اور خالقِ حقیقی کی یاد کا وسیلہ ہے۔
یہ روح پرور موسیقی پروگرام بیکنٹھی دیوی کنیا مہا وِدیالیہ میں 8 اکتوبر 2025 کو منعقد ہوا، جو اتر پردیش کلچر منسٹری، اسپک میکے (SPIC MACAY) اور بھات کھنڈے سنگیت وِشووِدیالیہ کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا۔
پنڈت بھٹ نے اپنی مشہور ایجاد ’موہنی وینا‘ پر دلکش پیشکش دی، جس نے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ طالبات اور اساتذہ نے ان کے نغمات میں روحانی سرور محسوس کیا۔
گفتگو کے دوران پنڈت بھٹ نے طالبات کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی سنگیت انسان کے باطن کو پاکیزہ بناتا ہے، یہ ایک ایسی ریاضت ہے جو انسان کو اپنے اندر کے اندھیروں سے روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے مغربی موسیقی کے اندھے تقلید سے بچنے اور اپنی روایتی موسیقی سے وابستگی پیدا کرنے کی تلقین کی۔
طالبات نے ان سے ’موہنی وینا‘ کی تخلیق اور اس کی تحریک کے بارے میں بھی استفسار کیا۔ خصوصی اصرار پر بھٹ جی نے اپنی وہی گریمی ایوارڈ یافتہ دُھن بھی پیش کی، جسے سن کر سامعین داد و تحسین دیتے نہ تھکے۔
اس موقع پر ان کے صاحبزادے اور شاگرد، معروف تنتر ی سمراٹ سلل بھٹ بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، محنت اور لگن ہی اصل زینہ ہے۔
تبلے پر ساتھ دینے کا فریضہ آکاش وانی کے ٹاپ گریڈ طبلہ نواز جناب ہمانشو مہنت نے انجام دیا۔
اس یادگار تقریب کا نظامت اور شکریہ کی رسم طالبات انجلی، نہا شرما اور مادھوی نے انجام دی۔
مہا وِدیالیہ کی پرنسپل پروفیسر پونم سنگھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ بھارتی کلاسیکی موسیقی کی قدیم وراثت کو سمیٹنے اور آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔
تقریب میں وی۔ ڈی۔ جین کنیا مہا وِدیالیہ کی پرنسپل پروفیسر وندنا اگروال، اسپک میکے کی کنوینر راجشری بھدوریا، اور مہا وِدیالیہ کی مینجمنٹ کمیٹی کے صدر جناب اوَدھیش گپتا مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔
پروگرام میں پروفیسر پونم رانی گپتا، بندو اوستھی، سنیٹا چوہان، گُنجن، انوپم سکسینہ، ڈاکٹر کنچن، ریکھا، وندنا، ایکتا، وِنیِتا گپتا، کرشن والا اور ڈاکٹر شیلجا سمیت کئی اساتذہ شریک رہے۔

