مفتی اشفاق قاضی
(بانی و ڈائریکٹرفیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر)
کبھی کبھی ازدواجی زندگی میں ایسی الجھنیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ محبت اور رشتہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ انا تکبر جب میاں بیوی کے خوشگوار رشتے میں آ پڑتا ہے تو نفرت کی خلیج پیدا ہوجاتی ہے لیکن اگر صبر، برداشت اور دین کی روشنی میں قدم بڑھایا جائے تو ٹوٹتے ہوئے رشتے بھی جڑ سکتے ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی ہے عبدالجبار (فرضی نام) اور فاطمہ (فرضی نام) کی، جنہوں نے آزمائشوں سے گزرنے کے بعد اپنی ازدواجی زندگی کو بچا لیا اور الحمدللہ آج خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ واقعہ دسمبر ۲۰۲۲ کا ہے۔ کلیان کے رہنے والے ایک نوجوان عبدالجبار ناقد (فرضی نام)، عمر ۲۹ سال، اپنے والد کے ہمراہ جامع مسجد بمبئی آئے۔ دل پر ازدواجی مسائل اور گھریلو کشمکش کا بوجھ تھا۔ عبدالجبار نے بتایا کہ ۲۰۱۸ میں ان کی شادی ہوئی تھی، مگر ابتدا ہی سے ان کی اہلیہ کا بار بار میکے جانا، شوہر کے حقوق کی پاسداری نہ کرنا، بلند آواز میں بات کرنا اور سخت رویہ اختیار کرنا ان کے لیے شدید اذیت کا باعث رہا۔اہم پہلو یہ تھا کہ بیوی کی والدہ کا انتقال بہت پہلے ہو چکا تھا، اس لیے ان کی زندگی میں والدہ کا کوئی کردار باقی نہ تھا۔ لیکن اس کمی کو ان کے والد پورا کرتے تھے اور بیٹی کی ازدواجی زندگی میں حد سے زیادہ مداخلت کرتے تھے۔ یہاں تک کہ گھر کےہر چھوٹے بڑے فیصلے بھی ان کی مرضی سے ہوتے اور شوہر کی اپنی کوئی حیثیت نہ رہتی۔ عبدالجبار کی شکایت تھی کہ بیوی کا رویہ ناشکری اور اکڑ بھرا ہے، بار بار طعنہ دیتی ہے، بدتمیزی و بد تہذیبی کا مظاہرہ کرتی ہے، مائیکہ سے لائے ہوئے لوازمات کے ذریعے ذلیل کرنے کا کوئی موقع نہ چھوڑتی، کم تنخواہ کا طعنہ، الگ گھر لینے کی فرمائش، سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ عدم تعاون اور ہر معاملے میں والد کے فیصلے کو ہی حرفِ آخر سمجھتی ہے۔۷ دسمبر ۲۰۲۲ کو یہ معاملہ جامع مسجد پہنچا۔ اس کے بعد ۱۳ دسمبر کو بیوی فاطمہ (فرضی نام) نے اپنی تحریری شکایت بھیجی۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ عبدالجبار کے دیگر خواتین سے تعلقات ہیں، انہوں نے ایک موقع پر ہاتھ بھی اُٹھایا، اور اکثر دوسری شادی اور طلاق کی دھمکی دیتے ہیں۔ فاطمہ نے لکھا کہ وہ اپنی زندگی میں عزت اور سکون چاہتی ہیں، اور چاہتی ہیں کہ انہیں ذاتی موبائل رکھنے کی اجازت دی جائے۔یوں دونوں جانب سے گلے شکوے سامنے آئے۔ شکایت کا لہجہ افسوسناک بھی تھا،عبدالجبار نے کہا کہ بیوی کھانے پینے پر جھگڑتی ہے، خرچ کا حد سے زیادہ مطالبہ کرتی ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتی۔ فاطمہ نے کہا کہ شوہر نے ہمیشہ بدگمانی کی، اور ان کے والد کو بھی عبدالجبار کے رویے پر اعتراض تھا۔ حتیٰ کہ ایک موقع پر فاطمہ کے والد نے داماد کا گریبان پکڑا اور انہیں زد و کوب بھی کیا، جس سے رشتے میں مزید کڑواہٹ پیدا ہوئی۔معاملہ پولس اور ایف آئی آر تک بھی جاچکا تھا، ایسے حالات میں دونوں فریق کے درمیان صلح تقریباً ناممکن نظر آ رہی تھی۔ مگر الحمدللہ، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کی گئی کونسلنگ نے صورتِ حال بدل دی۔ یہ معاملہ جامع مسجد کے فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں محترمہ گل ناز میڈم کے پاس پہنچا، جنہوں نے صبر اور حکمت کے ساتھ دونوں میاں بیوی کی کونسلنگ کی۔ وقتاً فوقتاً ہونے والی ملاقاتوں میں انہیں دین کی تعلیمات، ایک دوسرے کے حقوق اور تحمل و درگزر کی برکات سمجھائی گئیں۔۲۹ دسمبر کو دونوں خاندان جامع مسجد میں بیٹھے۔ پھر ۲۴ جنوری ۲۰۲۳ کو جامع مسجد بمبئی میں ایک باقاعدہ عہد نامہ طے پایا، جس کی نگرانی راقم الحروف نے کی۔ اس معاہدے میں فاطمہ نے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر سچا وعدہ کیا کہ وہ شوہر کی عزت و تکریم کرے گی، جھگڑا اور زبان درازی نہیں کرے گی، بار بار میکے جانے سے گریز کرے گی، بلاوجہ شک نہیں کرے گی اور اپنے شوہر کی راحت کا خیال رکھے گی۔ دوسری طرف عبدالجبار نے بھی عہد وپیمان کیا کہ وہ بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت سے پیش آئیں گے، اخراجات اور ضروریات پوری کریں گے، بار بار طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی نہیں دیں گے اور ہاتھ اٹھانے یا بدگمانی سے اجتناب کریں گے۔یوں ۲۴ جنوری ۲۰۲۳ کا دن ان کے لیے نئی زندگی کا آغاز بن گیا۔ الحمدللہ بظاہر ناممکن نظر آنے والا معاملہ اللہ تبارک و تعالی کے فضل سے ٹوٹتے ٹوٹتے بچ گیا اور دونوں عہدوپیمان کے بعد گلے شکوے بھلاتے ہوئے اپنی ننھی بیٹی کے ساتھ نئی امید، محبت اور باہمی اعتماد کے ساتھ جامع مسجد سے رخصت ہوئے، نئے ازدواجی سفر کا باہمی محبت کے ساتھ آغاز کیا۔
گھریلو تلخیاں، مداخلتیں اور غلط فہمیاں انسان کے ہاتھ سے نکل کر بڑے زخم ڈال دیتی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ دین، حکمتِ عملی، اور باہمی رضامندی سے رشتہ دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔ ناشکری، بلند آواز، والدین کی مداخلت اور دھمکیوں نے اس جوڑے کو منحرف کیا؛ مگر صبر، مشاورت اور اسلامی تعلیمات نے انہیں دوبارہ راستہ دکھایا۔اگر آپ یا آپ کے عزیز اس طرح کے ازدواجی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں تو دیر نہ کریں، مدد حاصل کریں، خاموشی مسائل کو بڑھا دیتی ہے۔ وقتی ناچاقیاں اگرچہ رشتوں کو بگاڑ دیتی ہیں لیکن صبر، درگزر اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے بکھرے ہوئے گھر دوبارہ آباد کیے جا سکتے ہیں۔یہ مسائل کسی ایک خاندان یا جوڑے تک محدود نہیں۔ آج معاشرے میں بہت سے رشتے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹوٹنے کے دہانے پر ہیں۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ایسے حالات میں فوری فیصلہ کرنے کے بجائے صلح و صفائی پر زور دیا جائے، ٹوٹتے گھر کو بچانے کی اہمیت ہے۔اگر آپ کی ازدواجی زندگی میں بھی مسائل ہیں، تو وقت ضائع نہ کریں۔ فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر سے رجوع کریں جہاں قبل از شادی کونسلنگ، بعد از شادی رہنمائی اور ازدواجی تنازعات کے حل کے لیے اسلامی بنیادوں پر رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ شاید آپ کی زندگی بھی عبدالجبار اور فاطمہ کی طرح بدل جائے۔ اصلاح کا راستہ اپنائیں، اور اپنی زندگیوں کو سکون، محبت اور خوشی و مسرت سے بھر دیں۔
(مضمون نگار مفتی جامع مسجد بمبئی و فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں)
(بانی و ڈائریکٹرفیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر)
کبھی کبھی ازدواجی زندگی میں ایسی الجھنیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ محبت اور رشتہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ انا تکبر جب میاں بیوی کے خوشگوار رشتے میں آ پڑتا ہے تو نفرت کی خلیج پیدا ہوجاتی ہے لیکن اگر صبر، برداشت اور دین کی روشنی میں قدم بڑھایا جائے تو ٹوٹتے ہوئے رشتے بھی جڑ سکتے ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی ہے عبدالجبار (فرضی نام) اور فاطمہ (فرضی نام) کی، جنہوں نے آزمائشوں سے گزرنے کے بعد اپنی ازدواجی زندگی کو بچا لیا اور الحمدللہ آج خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ واقعہ دسمبر ۲۰۲۲ کا ہے۔ کلیان کے رہنے والے ایک نوجوان عبدالجبار ناقد (فرضی نام)، عمر ۲۹ سال، اپنے والد کے ہمراہ جامع مسجد بمبئی آئے۔ دل پر ازدواجی مسائل اور گھریلو کشمکش کا بوجھ تھا۔ عبدالجبار نے بتایا کہ ۲۰۱۸ میں ان کی شادی ہوئی تھی، مگر ابتدا ہی سے ان کی اہلیہ کا بار بار میکے جانا، شوہر کے حقوق کی پاسداری نہ کرنا، بلند آواز میں بات کرنا اور سخت رویہ اختیار کرنا ان کے لیے شدید اذیت کا باعث رہا۔اہم پہلو یہ تھا کہ بیوی کی والدہ کا انتقال بہت پہلے ہو چکا تھا، اس لیے ان کی زندگی میں والدہ کا کوئی کردار باقی نہ تھا۔ لیکن اس کمی کو ان کے والد پورا کرتے تھے اور بیٹی کی ازدواجی زندگی میں حد سے زیادہ مداخلت کرتے تھے۔ یہاں تک کہ گھر کےہر چھوٹے بڑے فیصلے بھی ان کی مرضی سے ہوتے اور شوہر کی اپنی کوئی حیثیت نہ رہتی۔ عبدالجبار کی شکایت تھی کہ بیوی کا رویہ ناشکری اور اکڑ بھرا ہے، بار بار طعنہ دیتی ہے، بدتمیزی و بد تہذیبی کا مظاہرہ کرتی ہے، مائیکہ سے لائے ہوئے لوازمات کے ذریعے ذلیل کرنے کا کوئی موقع نہ چھوڑتی، کم تنخواہ کا طعنہ، الگ گھر لینے کی فرمائش، سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ عدم تعاون اور ہر معاملے میں والد کے فیصلے کو ہی حرفِ آخر سمجھتی ہے۔۷ دسمبر ۲۰۲۲ کو یہ معاملہ جامع مسجد پہنچا۔ اس کے بعد ۱۳ دسمبر کو بیوی فاطمہ (فرضی نام) نے اپنی تحریری شکایت بھیجی۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ عبدالجبار کے دیگر خواتین سے تعلقات ہیں، انہوں نے ایک موقع پر ہاتھ بھی اُٹھایا، اور اکثر دوسری شادی اور طلاق کی دھمکی دیتے ہیں۔ فاطمہ نے لکھا کہ وہ اپنی زندگی میں عزت اور سکون چاہتی ہیں، اور چاہتی ہیں کہ انہیں ذاتی موبائل رکھنے کی اجازت دی جائے۔یوں دونوں جانب سے گلے شکوے سامنے آئے۔ شکایت کا لہجہ افسوسناک بھی تھا،عبدالجبار نے کہا کہ بیوی کھانے پینے پر جھگڑتی ہے، خرچ کا حد سے زیادہ مطالبہ کرتی ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتی۔ فاطمہ نے کہا کہ شوہر نے ہمیشہ بدگمانی کی، اور ان کے والد کو بھی عبدالجبار کے رویے پر اعتراض تھا۔ حتیٰ کہ ایک موقع پر فاطمہ کے والد نے داماد کا گریبان پکڑا اور انہیں زد و کوب بھی کیا، جس سے رشتے میں مزید کڑواہٹ پیدا ہوئی۔معاملہ پولس اور ایف آئی آر تک بھی جاچکا تھا، ایسے حالات میں دونوں فریق کے درمیان صلح تقریباً ناممکن نظر آ رہی تھی۔ مگر الحمدللہ، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کی گئی کونسلنگ نے صورتِ حال بدل دی۔ یہ معاملہ جامع مسجد کے فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں محترمہ گل ناز میڈم کے پاس پہنچا، جنہوں نے صبر اور حکمت کے ساتھ دونوں میاں بیوی کی کونسلنگ کی۔ وقتاً فوقتاً ہونے والی ملاقاتوں میں انہیں دین کی تعلیمات، ایک دوسرے کے حقوق اور تحمل و درگزر کی برکات سمجھائی گئیں۔۲۹ دسمبر کو دونوں خاندان جامع مسجد میں بیٹھے۔ پھر ۲۴ جنوری ۲۰۲۳ کو جامع مسجد بمبئی میں ایک باقاعدہ عہد نامہ طے پایا، جس کی نگرانی راقم الحروف نے کی۔ اس معاہدے میں فاطمہ نے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر سچا وعدہ کیا کہ وہ شوہر کی عزت و تکریم کرے گی، جھگڑا اور زبان درازی نہیں کرے گی، بار بار میکے جانے سے گریز کرے گی، بلاوجہ شک نہیں کرے گی اور اپنے شوہر کی راحت کا خیال رکھے گی۔ دوسری طرف عبدالجبار نے بھی عہد وپیمان کیا کہ وہ بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت سے پیش آئیں گے، اخراجات اور ضروریات پوری کریں گے، بار بار طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی نہیں دیں گے اور ہاتھ اٹھانے یا بدگمانی سے اجتناب کریں گے۔یوں ۲۴ جنوری ۲۰۲۳ کا دن ان کے لیے نئی زندگی کا آغاز بن گیا۔ الحمدللہ بظاہر ناممکن نظر آنے والا معاملہ اللہ تبارک و تعالی کے فضل سے ٹوٹتے ٹوٹتے بچ گیا اور دونوں عہدوپیمان کے بعد گلے شکوے بھلاتے ہوئے اپنی ننھی بیٹی کے ساتھ نئی امید، محبت اور باہمی اعتماد کے ساتھ جامع مسجد سے رخصت ہوئے، نئے ازدواجی سفر کا باہمی محبت کے ساتھ آغاز کیا۔
گھریلو تلخیاں، مداخلتیں اور غلط فہمیاں انسان کے ہاتھ سے نکل کر بڑے زخم ڈال دیتی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ دین، حکمتِ عملی، اور باہمی رضامندی سے رشتہ دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے۔ ناشکری، بلند آواز، والدین کی مداخلت اور دھمکیوں نے اس جوڑے کو منحرف کیا؛ مگر صبر، مشاورت اور اسلامی تعلیمات نے انہیں دوبارہ راستہ دکھایا۔اگر آپ یا آپ کے عزیز اس طرح کے ازدواجی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں تو دیر نہ کریں، مدد حاصل کریں، خاموشی مسائل کو بڑھا دیتی ہے۔ وقتی ناچاقیاں اگرچہ رشتوں کو بگاڑ دیتی ہیں لیکن صبر، درگزر اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے بکھرے ہوئے گھر دوبارہ آباد کیے جا سکتے ہیں۔یہ مسائل کسی ایک خاندان یا جوڑے تک محدود نہیں۔ آج معاشرے میں بہت سے رشتے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹوٹنے کے دہانے پر ہیں۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ایسے حالات میں فوری فیصلہ کرنے کے بجائے صلح و صفائی پر زور دیا جائے، ٹوٹتے گھر کو بچانے کی اہمیت ہے۔اگر آپ کی ازدواجی زندگی میں بھی مسائل ہیں، تو وقت ضائع نہ کریں۔ فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر سے رجوع کریں جہاں قبل از شادی کونسلنگ، بعد از شادی رہنمائی اور ازدواجی تنازعات کے حل کے لیے اسلامی بنیادوں پر رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ شاید آپ کی زندگی بھی عبدالجبار اور فاطمہ کی طرح بدل جائے۔ اصلاح کا راستہ اپنائیں، اور اپنی زندگیوں کو سکون، محبت اور خوشی و مسرت سے بھر دیں۔
(مضمون نگار مفتی جامع مسجد بمبئی و فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں)

