رپورٹ: ایس۔ منیر
علی گڑھ۔ سر سید احمد خان نے مسلمانوں کے لیے ایک ایسے سیکولر تعلیمی نظام کا خواب دیکھا تھا جو بدلتے ہوئے ہندوستان میں انہیں بااختیار بنا سکے، لیکن موجودہ حالات میں یہ خواب سوالوں کے گھیرے میں نظر آتا ہے۔ آج کے ہندوستان میں جس طرح سیکولرزم اپنے وجود کی بقا کی جدوجہد کر رہا ہے،
اسی پس منظر میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) بھی کئی سنگین تنازعات میں گھری دکھائی دے رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں اے ایم یو فیس گھوٹالے، لاء اینڈ آرڈر اور سلیکشن کمیٹیوں جیسے متعدد معاملات کو لے کر میڈیا کی سرخیوں میں رہی ہے۔ اسی سلسلے میں شعبۂ سیاسیات کی سینئر پروفیسر ڈاکٹر رچنا کوشل نے شعبے کے چیئرمین پروفیسر نفیس انصاری کے خلاف وائس چانسلر سے شکایت درج کرائی ہے۔ پروفیسر نفیس انصاری اس وقت شعبۂ سیاسیات کے چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹنس ایجوکیشن کے ڈائریکٹر بھی ہیں، انہیں اے ایم یو کیمپس میں ڈائریکٹر ایمیرٹس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اور وہ ایک طویل عرصے سے بغیر کسی وقفے کے اس عہدے پر فائز ہیں۔ رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ “یہ محض چند غلط فہمیوں کا معاملہ ہے، اس کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”
اس معاملے پر نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر رچنا کوشل نے بتایا کہ انہوں نے 22 ستمبر 2025 کو ڈی نمبر 2665/پولیٹیکل سائنس کے ذریعے وائس چانسلر کو شکایت پیش کی تھی۔ شکایت موصول ہونے کے بعد وائس چانسلر نے انہیں اپنے دفتر طلب کیا، جہاں پروفیسر کوشل کی جانب سے پیش کی گئی فرقہ وارانہ نوعیت کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ سن کر وائس چانسلر نے حیرت کا اظہار کیا۔ اس کے باوجود چار ماہ گزر جانے کے بعد بھی یونیورسٹی کے کسی دفتر سے نہ تو کوئی ٹھوس کارروائی ہوئی اور نہ ہی کوئی جواب موصول ہوا۔
پروفیسر کوشل کے مطابق، جب ایک ماہ تک کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا تو انہوں نے 22 اکتوبر 2025 کو آر ٹی آئی درخواست داخل کی، جس میں یہ جاننا چاہا کہ وائس چانسلر نے ان کی شکایت پر کیا ریمارکس دیے اور متعلقہ دفاتر نے اس پر کیا کارروائی کی۔ 11 نومبر 2025 کو موصول ہونے والے آر ٹی آئی جواب میں کہا گیا کہ “خطوط وائس چانسلر کے زیرِ غور ہیں۔” پروفیسر کوشل نے نشاندہی کی کہ جواب میں “are” کا استعمال کیا گیا، جبکہ “is” ہونا چاہیے تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وائس چانسلر کے دفتر کو علم ہے کہ اس معاملے میں دیگر تحریری مراسلات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پروفیسر نفیس انصاری پروفیسر کے عہدے پر تقرری کے لیے اہل ہی نہیں تھے۔
اس کے علاوہ، پروفیسر کوشل کو 2 ستمبر 2025 کو فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین کی جانب سے ڈی نمبر 2984/ایف ایس ایس کے تحت ایک خط موصول ہوا، جس میں بعض طلبہ کے خط کی بنیاد پر ان سے وضاحت طلب کی گئی تھی، تاہم وہ طلبہ کا خط انہیں فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ڈین سے استفسار کیا کہ کس قاعدے کے تحت ڈین کو ایسی وضاحت طلب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ 4 ستمبر 2025 کو ڈین نے جواب دیا کہ “اعلیٰ اتھارٹی” کی ہدایت پر “ضروری” جانچ کی جا رہی ہے۔ پروفیسر کوشل نے دوبارہ پوچھا کہ وہ اعلیٰ اتھارٹی کون ہے، لیکن اس کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
مایوس ہو کر انہوں نے 7 دسمبر 2025 کو ایک اور آر ٹی آئی داخل کی، جس میں طلبہ کے خط اور ڈین کو ہدایت دینے والی اعلیٰ اتھارٹی کے احکامات کی مصدقہ نقل طلب کی گئی۔ جواب غیر تسلی بخش ہونے پر انہوں نے 12 دسمبر 2025 کو اپیلیٹ اتھارٹی کے سامنے اپیل دائر کی، لیکن تاحال ڈین کی جانب سے اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پروفیسر کوشل کا دعویٰ ہے کہ یہ پورا معاملہ یونیورسٹی کیمپس میں مختلف سطحوں پر پائی جانے والی فرقہ وارانہ ذہنیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اس معاملے پر ردِعمل کے لیے پبلک ریلیشنز آفس کے ممبر انچارج اور وائس چانسلر کو واٹس ایپ پیغام بھیجا گیا، لیکن خبر کی اشاعت تک دونوں کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

