رپورٹ۔ ایس منیر
علی گڑھ۔ ایک صدی سے زائد پرانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لا کا شمار ملک کے ممتاز قانونی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے، حالیہ دنوں شدید تنازعات کی زد میں آ گئی ہے۔ 1891 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ پانچ سالہ انٹیگریٹڈ بی اے ایل ایل بی (آنرز) اور ایل ایل ایم جیسے کورسز پیش کرتا ہے اور ملک بھر سے طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، تاہم تعلیمی سیشن۲۶۔۲۰۲۵ کے دوران داخلہ، ا متحانات اور انتظامی معاملات میں مبینہ سنگین بے ضابطگیوں نے اس کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ان الزامات سے بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کے ضوابط کی خلاف ورزی، زیر تعلیم طلبہ کے مستقبل اور قانونی تعلیم کے معیار پر گہری تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
بار کونسل آف انڈیا ملک میں قانونی تعلیم کو ریگولیٹ کرنے والا آئینی ادارہ ہے، جو لا کالجوں کی منظوری، داخلہ عمل، امتحانات، ڈگری کی توثیق اور نشستوں کی تعداد طے کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی سی آئی نے بی اے ایل ایل بی کورس کے لیے مجموعی طور پر 240 نشستیں منظور کی ہیں، جن میں علی گڑھ کے مرکزی کیمپس میں 120 جبکہ کیرالہ کے ملاپورم اور مغربی بنگال کے مرشد آباد میں واقع آف کیمپس مراکز کے لیے ساٹھ ۔ساٹھ نشستیں شامل ہیں۔ بی سی آئی نے وقتاً فوقتاً جائزے کے بعد پانچ سالہ بی اے ایل ایل بی کورس کی منظوری برقرار رکھی ہے۔
لیکن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تعلیمی سیشن۲۶۔۲۰۲۵ میں ان منظور شدہ حدود کو نظرانداز کرتے ہوئے کہیں زیادہ طلبہ کو داخلہ دیا گیا۔ اے ایم یو مین کیمپس میں جہاں صرف 120 نشستیں منظور تھیں، وہاں ریگولر اسکیم کے تحت تقریباً 190 طلبہ کو داخلہ دیا گیا، جو منظور شدہ تعداد سے 70 زائد ہے۔ اس کے علاوہ سیلف فنانسنگ اسکیم (ایس ایف ایس)، این آر آئی کوٹہ اور دیگر زمروں کے تحت بھی تقریباً 70 اضافی نشستیں پُر کی گئیں۔ آف کیمپس مراکز میں بھی 60 نشستوں کی حد سے تجاوز کی اطلاعات ہیں۔ اس طرح مجموعی داخلہ تعداد بی سی آئی کی منظور شدہ 240 نشستوں سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
یونیورسٹی کی گائیڈ ٹو ایڈمیشن۲۶۔۲۰۲۵ کے مطابق ایس ایف ایس کے تحت اضافی نشستیں ‘منظور شدہ تعداد سے زائد’ کے طور پر دکھائی جاتی ہیں، جنہیں ہر سال وائس چانسلر کی منظوری سے پُر کیا جاتا ہے، تاہم بی سی آئی کے ضوابط کے مطابق منظور شدہ نشستوں سے زائد صرف معاشی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) کے لیے 10 فیصد تک سپرنومری نشستوں کی اجازت ہے۔ وسیع پیمانے پر ایس ایف ایس داخلوں کے لیے بی سی آئی کی واضح اجازت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ بی سی آئی کی منظوری کے بغیر دیے گئے داخلے ڈگری کی قانونی حیثیت پر سوال کھڑا کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق فیکلٹی کے اندر ہی ان غیر منظور شدہ نشستوں پر داخلہ پانے والے طلبہ کے مستقبل کو لے کر تشویش پائی جا رہی ہے۔ خدشہ ہے کہ ایسی ڈگریاں بار کونسل میں اندراج یا قانونی پیشے کے لیے قابل قبول نہ ہوں، جس سے طلبہ کو قانونی اور پیشہ ورانہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بورڈ آف اسٹڈیز کی میٹنگز میں مبینہ طور پر آئندہ تعلیمی سیشن سے ان غیر منظور شدہ نشستوں میں کمی پر غور بھی کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق داخلہ تنازعات کے ساتھ امتحانات سے متعلق مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ الزامات سامنے آئے کہ دسمبر 2025 میں، لیے BA LLB سال اول کے قانونی طریقوں لیگل میٹڈس (BLLB-105) کے امتحان میں پچھلے سال کا سوالیہ پرچہ دہرایا گیا تھا۔ اس سے ناراض طلباء نے دوبارہ امتحان اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ کئی دنوں تک جاری رہنے والے ان مظاہروں نے سوالیہ پرچے کی تیاری اور تقسیم کے نظام میں خامیوں کو بے نقاب کیا۔ اس سے قبل، 2021 میں، آن لائن وایوا سے ٹیک ہوم ا سائنمنٹس میں تبدیلی ،طلباء کے احتجاج اور BCI کی ماہر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد کیا گیا تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اسسمنٹ کےنظام پر اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کی سطح پر جاری انتظامی تنازعات نے فیکلٹی آف لاء کو بھی متاثر کیا ہے۔ اگست 2025 میں سپریم کورٹ نے وائس چانسلر کی تقرری سے متعلق مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات پر سوالات اٹھائے۔ اس سے قبل جولائی 2024 میں وائس چانسلر کے انتخاب کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر قانونی تنازعات پیدا ہوئے تھے۔ یونیورسٹی کی اقلیتی حیثیت سے متعلق ایک مقدمہ بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جس کی وجہ سے ریزرویشن اور داخلہ پالیسیوں پر بحث جاری ہے۔ اگست 2025 میں، طلباء نے فیس میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا، انتظامیہ پر محصول کو ترجیح دینے کا الزام لگایا۔ متعدد خالی آسامیوں، کیمپس سے باہر مراکز کی منظوری اور ڈگریوں کی تصدیق جیسے مسائل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر داخلے اور امتحان کی بے ضابطگیوں کو بروقت درست نہیں کیا گیا تو، BCI کارروائی کر سکتی ہے، جیسا کہ 2025 میں معائنہ میں ناکام رہنے پر 11 دیگر لاء کالجوں پر پابندی عائد کی تھی، اگرچہ AMU اپنے نامور سابق طلباء اور انکی عدالتی خدمات میں اعلیٰ کارکردگی کے لیے ان کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، وابستگی کو مستقل طور پر پیش کیا ہے، لیکن موجودہ تنازعات سے نمٹنے کے لیے شفافیت اور خدمات کے حوالے سے ان کی کامیابیوں کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین اور سابق طلباء نے یونیورسٹی کی ساکھ اور طلباء کے مستقبل کے تحفظ کے لیے SFS نظام پر نظرثانی، ایک آزاد آڈٹ اور BCI معیارات پر سختی سے عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کے تبصرے کے لیے ممبر انچارج پبلک ریلیشن آفس اور وائس چانسلر سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کیا گیا، لیکن خبر کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا

