آگرہ ،جمہوریت کے سچے پاسبان، سماجواد اور عوامی تحریکوں کی لازوال علامت لوک بندھو راج نارائنؒ کی یومِ وفات سماج وادی پارٹی کے ضلعی دفتر، فتح آباد روڈ، آگرہ میں عقیدت، احترام اور عزم کے ماحول میں منائی گئی۔ اس موقع پر پارٹی کے قائدین اور کارکنان نے ان کی تصویر پر گلپوشی کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کی صدارت ضلعی صدر اُدل سنگھ کشواہا اور عظیم نگر صدر شبیر عباس نے مشترکہ طور پر کی۔ ضلعی صدر اُدل سنگھ کشواہا نے اپنے خطاب میں کہا کہ لوک بندھو راج نارائنؒ محض ایک سیاست دان نہیں تھے بلکہ ایک نظریہ، جرأت اور عوامی جدوجہد کی جیتی جاگتی مثال تھے۔ ایمرجنسی کے سیاہ دور میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے ان کی بے خوف جدوجہد ہندوستانی سیاسی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی غریبوں، مظلوموں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے وقف کر دی۔
عظیم نگر صدر شبیر عباس نے کہا کہ سنہ 1977 میں رائے بریلی سے اندرا گاندھی کو شکست دے کر لوک بندھو راج نارائنؒ نے یہ ثابت کر دیا کہ جمہوریت میں اصل طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے۔ ان کے افکار، جدوجہد اور حیاتِ مستعار آج بھی سماجوادی تحریک کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی لوک بندھو جی کے نظریات کو اپناتے ہوئے سنہ 2027 میں ایک فلاحی حکومت کے قیام کے عزم کے ساتھ مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔
تقریب کے اختتام پر تمام کارکنان نے لوک بندھو راج نارائنؒ کے خوابوں کے ہندوستان—ایک مساوات پر مبنی، انصاف پسند اور جمہوری سماج—کی تعمیر کے لیے ہمیشہ سرگرم رہنے کا عہد کیا۔
اس موقع پر پون پرجاپتی، سنتوش پال، قادر قریشی، راجیش ورما، چراغ تومر، سومیش گپتا، عادل مرزا، مانویندر سنگھ، اسلم وارثی، وپن یادو، ونود شروتیہ، سلمان خان، راجیو ساویتا، اتل ساویتا سمیت بڑی تعداد میں سماج وادی پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان موجود رہے۔

