ممبئی کی ادبی فضاء ان دنوں خوشبوئے اردو سے معطر ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے پچاسویں سالِ تاسیس کے موقع پر ڈوم ایس وی پی اسٹیڈیم میں 6 تا 8 اکتوبر 2025ء کو منعقدہ تین روزہ گولڈن جوبلی جشن علم و ادب، فن و فکر، اور تہذیب و ثقافت کے حسین امتزاج سے سجا ہوا تھا۔
اس بامعنی محفل میں اردو ادب کی درخشاں شخصیات، شعراء، محققین، نقاد، اور معلمین کو ان کی علمی و تخلیقی خدمات کے اعتراف میں پروقار بزم میں ریاستی ایوارڈز دیے گئے، جو وزیر برائے اقلیتی امور و ترقیات، مانک راؤ کوکٹے کے ہاتھوں تقسیم کیے گئے۔ یہ اعزاز صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ اردو زبان کے فکری وقار اور تہذیبی عظمت کی روشن علامت بھی ہے۔
مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی ہر سال ان اصحابِ علم و فن کو اعزازات پیش کرتی ہے جنہوں نے اردو کے فروغ، تدریس، صحافت یا تخلیق کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ اس سال اکیڈمی نے 2019 تا 2023 کے تمام ایوارڈز تقسیم کیے۔
ان ایوارڈ یافتگان میں ممبرا کی معلمہ و شاعرہ انصاری کلثوم بانو (بی اے بی ایڈ) بھی شامل ہیں، جو تھانے مونسپل کارپوریشن اردو اسکول نمبر 124، ممبرا دیوی روڈ میں کئی برسوں سے تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کا ادبی تخلص ‘کشفیؔ’ ہے۔ محترمہ کلثوم بانو نہ صرف ایک ممتاز معلمہ ہیں بلکہ بہترین ادیبہ و شاعرہ بھی ہیں۔
ان کی بچوں کی نظم پر مبنی کتاب ‘بچپن کے رنگ’ نہ صرف منظر عام پر آئی بلکہ حکومت کی جانب سے ریاستی سطح پر اسکولوں کی لائبریریوں (SCERT) کے لیے بھی منتخب کی گئی۔ اس کے علاوہ انہیں دہلی میں غالب اکیڈمی کی جانب سے غالب ایوارڈ، تھانے مونسپل کارپوریشن کا مئیر ایوارڈ اور اب اردو ساہتیہ اکیڈمی کا بیسٹ ٹیچر ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
ممبرہ کی معلمہ کو اردو ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے ایوارڈ ملنے پر اردو سویرا فاؤنڈیشن سمیت دیگر سماجی، سیاسی اور ملی تنظیموں و شخصیات کی جانب سے مبارکباد دی گئی ہیں اور مبارکبادیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

