
اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) نے نوجوانوں میں اخلاقی شعور اور حیا کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ملک گیر مہم “حیا ہی زندگی ہے: معنی، اخلاق اور سکون” کا آغاز کیا ہے۔ اس موقع پر علی گڑھ میں ایس آئی او اتر پردیش مغرب کے دفتر میں پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔
مہم 12 اکتوبر سے 10 نومبر تک جاری رہے گی اور صوبے کے 20 سے زائد اضلاع، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پروگرامز، مذاکرے اور ورکشاپس منعقد کی جائیں گی۔ اس کا مقصد نوجوانوں میں اخلاقی توازن، روحانی سکون اور حیا کی اہمیت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔
ایس آئی او کے قومی سکریٹری تشریف کے پی نے کہا، “تفریحی صنعت اب معاشرے کا آئینہ نہیں، بلکہ بے حیائی اور تشدد کو فروغ دینے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ فلمیں، ویب سیریز اور ریئلٹی شوز نوجوانوں کے اخلاقی نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔”
اعداد و شمار کے مطابق بھارتی نوجوان روزانہ چھ گھنٹے سے زیادہ اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں اور فحش مواد کے زیادہ استعمال سے ذہنی و جذباتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں خواتین کے خلاف جرائم میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایس آئی او یو پی مغرب کے صدر یونس خان نے کہا، “حیا دراصل رحم، خودداری اور انسانی وقار کی زبان ہے۔ یہ مہم پابندیوں کے لیے نہیں، بلکہ زندگی میں توازن پیدا کرنے کے لیے ہے۔”
مہم کے دوران نوجوانوں کے لیے مشاورت و رہنمائی سیشنز، ڈیجیٹل ڈی ٹاکس پروگرامز، والدین و اساتذہ کے لیے تربیتی ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کیے جائیں گے۔
یونس خان نے مزید کہا، “وہ معاشرہ جو فحاشی کو آزادی اور بے حیائی کو اعتماد سمجھتا ہے، وہ اپنی اخلاقی سمت کھو دیتا ہے۔ حیا ہی وہ قدر ہے جو زندگی میں سکون، احترام اور توازن لاتی ہے۔”

