آگرہ — مسجد نہر والی، سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج نمازِ جمعہ کے خطبہ میں نہایت پُراثر انداز میں نمازیوں سے سوال کیا
“کیا ہم نماز کو سمجھ کر پڑھتے ہیں؟”
محمد اقبال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک مسلمان کو جب اللہ تعالیٰ نماز کی توفیق عطا فرماتا ہے، تو وہ اپنی زندگی میں لاکھوں مرتبہ سورۂ فاتحہ، التحیات اور درودِ شریف پڑھتا ہے۔ یہ تمام اذکار مسنونہ اس کائنات کے بہترین کلمات میں سے ہیں، مگر افسوس کہ اکثر مسلمانوں کو ان عظیم الفاظ کے معانی و مفاہیم سے آگاہی نہیں ہوتی۔
انہوں نے فرمایا:
“جس نماز کو مومن کی معراج کہا گیا، اس کی اصل روح سمجھ کر پڑھنے میں پوشیدہ ہے۔”
محمد اقبال نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص سجدوں کے درمیان “رَبِّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی” پڑھتا ہے مگر اس کے معنی نہیں جانتا، اور ایک دن اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا مطلب ہے “اے میرے رب! مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما”، تو پھر وہ دعا دل کی گہرائیوں سے نکلے گی، آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں گے، اور نماز کا لطف و اثر بالکل مختلف محسوس ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عربی زبان سے ناواقف افراد کے لیے بھی حل موجود ہے:
“آج کل مارکیٹ میں نماز کے ترجمے پر مبنی چھوٹی چھوٹی کتابیں دستیاب ہیں۔ ان کا مطالعہ کریں، ترجمے یاد کریں، پھر دیکھیں کہ نماز میں کس قدر لذت، خشوع اور روحانیت پیدا ہوتی ہے۔”
آخر میں محمد اقبال نے دعا کی:
“اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز کو سمجھ کر پڑھنے، دل سے محسوس کرنے اور اس کے حقیقی اثرات کو اپنی زندگی میں ظاہر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔”
#Namaz
#KyaHumNamazSamajhKarPadhteHain
#MasjidNeharWali
#Sikandra
#AgraNews
#MohammadIqbalKhateeb
#IslahiKhutba
#JummaKhutba
#IslamicMessage
#PrayerWithUnderstanding
#MuslimUmmah
#IslamicTeachings
#DeeniTaleem
#KhutbaJumma
#NamazKiAhmiyat
#SpiritualityInIslam
#TimesOfTAJ
#UrduNews
#AgraUpdates
#FaithAndReflection

