ایس منیر
علی گڑھ ۔امریکہ اور اسرئیل کی جانب سے ایران پر جارہانہ کارروائی کے ساتھ ہی، ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت سے دختران ملت اور فرزندان توحید کی فکریں بڑھ گئیں، مایوسی نہیں بڑھی ، بلکہ ایک نئے جذبے کے ساتھ تم کتنے حسینی مارو گے ، ہر گھر سے حسینی نکلے گا کے نعروں کے ساتھ، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبرسامنے آنے پر فرزندان توحید اور دختران ملت شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تصویر ہاتھوں میں لیے احتجاج میں اتر پڑیں ،مظاہرین کا جہاں ایک جانب آیت اللہ خامنہ ای کے تئیں محبت عقیدت کا کھلا اظہار تھا تو وہیں دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نفرت عیاں تھی ، مظاہرین ایک سے بڑھ کر ایک ذلیل ،امریکہ ہویا اسرائیل کے نعرے بتا رہے تھے کہ انکی نظر میں انسانیت کے دشمنوں کی کیا حیثیت ہے ۔
واضح رہے کہ لوگ دیررات تک سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر کنفرم کرتے رہے ، اسکی وجہ یہ تھی کہ انہیں امریکی یا مغریبی میڈیا پر اعتبا رنہیں تھا، لیکن بعد میں جب ایران کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت کی خبرکو کنفرم کر دیا گیا تولوگوں میں غم اور غصہ کی لہردوڑ گئی ۔لوگ سید علی خامنہ ای کی شجاعت ، حوصلہ اورجرائت مندی کو یاد کرنے لگے اور ان کے وہ قبلہ اول کی آزادی کے حوالے سے ان کی قربانیوں بھی یا د کی گئیںہر آنکھ اشک بار ہے اکثر لوگ انکا نام لے کر رو پڑتے ہیں
اتوار کو خامنہ ای کی شہادت کی خبر کنفرم ہونے کے بعد انکی شہاد ت کے خلاف علی گڑھ کے زہرا باغ میں واقع حسینی مسجد سے جلوس نکالا گیا ۔فرزندان توحید اور دخترن ان ملت کے ہاتھ میں سپریم لیڈر کی تصاویر تھی، امریکہ اور اسرئیل کے خلاف غصہ اور شہد کے لیے غم تھا۔ امریکہ اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ یہ جلوس جیون گڑھ سے ہوتا ہوا میڈیکل روڈ سے اے ڈیم کمپاونڈ اور باب سید ہوتے ہوئے سرکل تک پہنچا۔ یہاں بھی سب نے متحد ہو کر نعرہ بازی کی۔ اسکے بعد صدر جموریہ کے نام ایک میمورنڈم اے سی ایم سیکنڈ کو دیا گیا ۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے انتہائی دکھ، غم اور غصے کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے، جو ایران میں حال ہی میں ہوئی پرتشدد اور چونکا دینے والی زیادتی کے حوالے سے ہے، نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے مبینہ شہادت کی خبر موصول ہوئی ہے۔ یہ نقصان امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ظالمانہ عسکری حملے کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے، جو انسانی وقار اور خودمختار قیادت کی تقدس کی صریح خلافورزی ہے۔یہ ہلاکتیں کوئی ایک الگ واقعہ نہیں، بلکہ ایک وسیع جارحانہ پالیسی کا انتہا ہے، جس نے ایران کی قیادت، سائنسی کمیونٹی اور عام شہریوں کو گہرائی سے متاثر کیا ہے۔اس المیے کو ۱۳ سے ۲۴ جون ۲۰۲۵ کے دوران ہونے والے ایران۔اسرائیل جنگ (جسے ‘بارہ روزہ جنگ کہا جاتا ہے) کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ اس عرصے میں اسرائیلی افواج نے ایرانی علاقے کے اندر گہرائی تک اچانک ہوائی حملے کیے، جن میں اعلیٰ عسکری کمانڈرز، جوہری سائنسدانوں اور انتظامی حکام کو ہلاک کیا گیا۔ ان حملوں سے وسیع پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور قومی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران کی جوابی کارروائیاں ابتدائی حملوں کے خلاف دفاعی ردعمل تھیں، نہ کہ پہلا جارحانہ قدم۔ اگرچہ ایران نے بار بار سفارتی حل کی خواہش ظاہر کی اور جنگ سے بچنے کی کوشش کی، تاہم اسکے شہروں، خاندانوں اور قومی اداروں کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا اور متعدد شہری شہید ہوئے ۔موجودہ صورتحال انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ حال ہی میں ساٹھ اسکولی لڑکیوں کے قتل کے واقعے نے عالمی برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان بے قصور لڑکیوں سمیت متعدد غیر جنگجو شہریوں اور دانشوروں کو نشانہ بنانا انسانیت کے بنیادی اصولوں کی خلافورزی ہے۔ یہ اعمال بین الاقوامی قانون کی صریح خلافورزی ہیں، خصوصاً اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج ریاست کی خودمختاری اور شہریوں کی حفاظت کے بنیادی اصولوں کے۔ تعلیمی اداروں کو ہدف بنا نا اور حکام کا غیر قانونی قتل عالمی قواعد و ضوابط کے مکمل انحطاط کی عکاس ہے، جہاں سفارتکاری کی جگہ بے قابو جارحیت نے لے لی ہے۔اس بے مثال انسانی بحران کے پیش نظر، ہم بھارت حکومت سے، جو تاریخی طور پر امن، غیر جانبداری اور خودمختاری کے احترام کی حامی رہی ہے، درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں فعال کردار ادا کرے۔ بے قصور لوگوں کا خون بہانا اور بین الاقوامی معیار کی پامالی بھارت جیسے ذمہ دار ملک کے لیے خاموش رہنے کا معاملہ نہیں ہو سکتا۔ہم بھارت حکومت سے درج ذیل مطالبات کرتے ہیں۔ان یک طرفہ جارحانہ اعمال کی واضح اور سخت مذمت جاری کی جائے ۔ مزید جانی نقصان روکنے کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا جائے، خودمختار سرحدوں کی خلافورزی اور غیر مناسب طاقت کے استعمال کے لیے بین الاقوامی جوابدہی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا جائے۔
تناؤ کم کرنے، علاقائی و عالمی استحکام دوبارہ قائم کرنے کے لیے کثیر الجہتی سفارتی اقدامات کی قیادت کی جائےاور بھارت کی آواز اس بات کو یقینی بنانے میں اہم ہے کہ طاقت کا غلط استعمال انصاف کی جگہ نہ لے اور بین الاقوامی برادری میں امن اور انصاف کے اصول دوبارہ قائم ہوں۔ اس موقع پر مولانا ڈاکٹر اصغر اعجاز قائمی چیرمین شیعہ دینیات مولانا سید زاہد حسین مولانا بہلول عابدی مولانا محبوب ہلوری جناب مختار زیدی کے علاوہ کثیر تعدادت میں لوگ موجود تھے۔
وہیں احتجاج کے درمیان جلوس میں شامل لوگوں میں یہ صاف نظر آرہا تھاکہ ان کی نظر میںایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای فرد واحد کا نام نہیں بلکہ ایک مشن ایک تحریک کانام ہے ، جارہیت، ظلم، مظلوموں کی امداد، باطل کے خلاف، سینہ سپر ،حق پرست شخصیت کے حامل تھے۔ نہ تاریخ نے بلکہ فلق نے بھی اپنی آنکھوں سے ایک عرصے کے بعد یہ منظر دیکھا ہے کہ جہاں مسلمانوں کے سبھی مکتبہ فکرکے ماننے والے ایک ساتھ نظر ٓٓئے ۔

