میرٹھ، انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) اتر پردیش کی صوبائی مجلسِ عاملہ کا ایک اہم اجلاس آج میرٹھ میں حاجی قاسم صاحب کی رہائش گاہ، شنبھو داس گیٹ کے سامنے، نرپت نگر، ہاپوڑ روڈ پر منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی صدر ڈاکٹر محمد متین خان نے کی جبکہ نظامت صوبائی جنرل سیکریٹری محمد اویس ایڈووکیٹ نے انجام دی۔
اجلاس میں آئندہ انتخابات کے پیشِ نظر پارٹی کی حکمتِ عملی اور لائحۂ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی کی آن لائن رکنیت سازی مہم کو مزید مؤثر بنانے اور تنظیم کے فروغ و استحکام کے سلسلے میں اہم تجاویز پر غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے تنظیم کو صوبے کے ہر ضلع اور تحصیل کی سطح تک فعال بنانے اور نوجوانوں کو پارٹی سے جوڑنے پر زور دیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر محمد متین خان نے کہا کہ موجودہ دور میں صوبائی حکومت انتقامی ذہنیت کے ساتھ کام کر رہی ہے جو تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مسلمانوں، مساجد، خانقاہوں اور مدارس کے خلاف حکومت کی جانب سے غیر اخلاقی اور امتیازی کارروائیاں کی جاتی ہیں تو مسلم ووٹ حاصل کرنے والی کئی سیاسی جماعتیں خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کو اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کی جدوجہد خود ہی کرنی پڑتی ہے۔
ڈاکٹر متین خان نے کہا کہ جب تک سماج منظم نہیں ہوگا، اپنے حقوق کی مؤثر جدوجہد کرنا مشکل رہے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ غازی آباد میں باہمی تنازع کے نتیجے میں پیش آنے والے ایک قتل کے واقعے کو پورے مسلم معاشرے سے جوڑنے اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ اسی تناظر میں تین مدارس کو سیل کیے جانے کی کارروائی پر بھی انہوں نے تشویش کا اظہار کیا۔
صوبائی جنرل سیکریٹری محمد اویس ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور مذہبی اداروں کے انتظام و انصرام کا حق دیتا ہے۔ ان کے مطابق منظور شدہ اور غیر منظور شدہ دونوں طرح کے مدارس کے قیام و انتظام کی آئینی گنجائش موجود ہے، لہٰذا کسی بھی کارروائی کو قانون اور آئین کی روح کے مطابق انجام دیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں بالخصوص پروفیسر بصیر احمد خان، خرم انیس عمر (دہلی)، ڈاکٹر نجم الحسن غنی (فیض آباد)، محمد احمد، سنجے جائسوال (اناؤ)، حاجی اشتیاق نظامی، محمد عتیق، محمد کمیل، رضوان انصاری، ڈاکٹر شاریق انصاری، محمد اسرار، محمد عرفان (کانپور)، حاجی راحت افروز، محمد عمران (فیروز آباد)، محمد الیاس، یحییٰ انصاری، رضوان انصاری (بجنور)، وکالت راڑا (غازی آباد)، ڈاکٹر کلیم اشرف، ضیاء اشرف، مولانا مقیم، مولانا محمد میاں (سنبھل)، فہیم مشرف (مراد آباد)، محمد شہزاد (رام پور)، محمد اسلم خان (مہوبہ)، محمد نسیم، ڈاکٹر حلیم (جھانسی)، نعیم احمد، رضوان انصاری (کونسلر)، حاجی قاسم، محمد ایوب، محمد آصف، محمد زبیر (میرٹھ) سمیت متعدد عہدیداران اور کارکنان شریک رہے۔
اجلاس کے اختتام پر صوبائی صدر ڈاکٹر محمد متین خان نے تنظیم کو مزید مضبوط بنانے، عوامی مسائل کو ترجیح دینے اور آئندہ انتخابات میں مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

