آگرہ: اردو ادب کی فکری وراثت، تحقیقی شعور اور تنقیدی روایت کو فروغ دینے کے مقصد سے انجمن اصلاحُ اللسان ویلفیئر سوسائٹی (رجسٹرڈ)، آگرہ کے زیرِ اہتمام اور اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ (حکومتِ اتر پردیش) کے مالی تعاون سے ایک روزہ سمینار بعنوان “علّامہ شبلی نعمانی اور اردو ادب” ایم اے بی آر سیکنڈری اسکول، پرکاش نگر، آگرہ میں منعقد کیا گیا۔ سمینار میں اہلِ علم، اساتذہ، طلبہ اور ادبی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور علّامہ شبلی نعمانی کی ہمہ جہت خدمات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔سمینار میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ علّامہ شبلی نعمانی نہ صرف اردو ادب کے عظیم مفکر اور مورخ تھے بلکہ انہوں نے قوم کی فکری و تعلیمی رہنمائی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی تحریروں میں تحقیق، استدلال اور تاریخی شعور کی جو گہرائی پائی جاتی ہے، وہ آج بھی اہل علم کے لیے مشعل راہ ہے۔ مقررین نے انہیں روایت اور جدیدیت کے درمیان فکری توازن قائم کرنے والا منفرد دانشور قرار دیا، جنہوں نے اردو تنقید اور سیرت نگاری کو نئی سمت عطا کی۔
صدرِجلسہ مفتی محمد عمران قریشی، مفتی شہر آگرہ نے کہا کہ علّامہ شبلی نعمانی نے اردو ادب کو مضبوط تحقیقی بنیاد فراہم کی اور علمی دیانت کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ شبلی کی فکر میں اعتدال، وسعت نظر اور تہذیبی شعور نمایاں ہے، جس کی آج کے دور میں شدید ضرورت ہے۔ مہمان خصوصی حاجی جمیل الدین قریشی، سابق پرنسپل محمدیہ انٹر کالج آگرہ نے کہا کہ شبلی نعمانی کی تصانیف آج بھی طلبہ اور محققین کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو شبلی کی فکری خدمات سے روشناس کرانا وقت کا تقاضا ہے تاکہ علمی اور اخلاقی اقدار کو مضبوط کیا جا سکے۔
خصوصی مہمان ڈاکٹرسعدیہ شمسی، اسسٹنٹ پروفیسر سینٹ جانس کالج آگرہ نے علّامہ شبلی نعمانی کو جدید اردو تنقید کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی علمی بصیرت نے اردو ادب کو عالمی سطح پر وقار بخشا۔ انہوں نے کہا کہ شبلی کی تحریروں میں فکری جرات اور تنقیدی توازن نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔معزز مہمان اور اردو صحافی اظہرعمری نے کہا کہ علّامہ شبلی نعمانی نے ادب کو سماجی ذمہ داری سے جوڑ کر ایک مثبت فکری روایت قائم کی۔ ان کے نزدیک ادب محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح اور فکری بیداری کا مؤثر ذریعہ ہے۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے قومی میڈیا انچارج عدنان اشرف نے کہا کہ علّامہ شبلی نعمانی کا فکری پیغام آج کے عہد میں بھی پوری طرح مؤثر اور قابل عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، مکالمہ اور ادب معاشرے کو جوڑنے کا سب سے طاقتور ذریعہ ہیں۔ انہوں نے آئین کے تحفظ، بھائی چارے کے فروغ اور گنگا جمنی تہذیب کی بقا کے لیے فکری تحریکوں اور ادبی کوششوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا اور کہا کہ شبلی کی فکر ہمیں اعتدال اور ہم آہنگی کا راستہ دکھاتی ہے۔دیگر معزز مہمانوں میں محمد مدثر قریشی، پیرزادہ شیخ عامر قادری، انجینئر محمد عادل اور بشیرالحق راکی شامل تھے، جنہوں نے علّامہ شبلی نعمانی کی علمی و ادبی خدمات کو عصر حاضر کے لیے نہایت بصیرت افروز قرار دیا اور کہا کہ شبلی کی فکر میں اتحاد، رواداری اور علمی سنجیدگی کا پیغام پوشیدہ ہے۔
سمینار کی نظامت مفتی محمد ابراہیم قاسمی، نائب صدر جمعیت علماء آگرہ نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی۔ اس موقع پر قاری محمد نجیب اللہ فرقانی، حافظ محمد حسیب، قاری محمد کلام الدین، حافظ محمد نوشاد، محترمہ سائمہ قریشی رحمانی، حافظ محمد نصراللہ، معراج احمد، محترمہ مہک حسین اور مولانا محمد کفیل رضا قادری سمیت متعدد اہلِ علم نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے اور شبلی کی ادبی، فکری اور تعلیمی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔آخر میں سمینار کے منتظم محمد التمش رحمانی نے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اسی طرح کے علمی و ادبی پروگراموں کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ سمینار خوشگوار علمی ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔

