شعبہ اردو گیا کالج گیامیں’’عہد حاضرمیں ادب کی معنویت اور اہمیت ‘‘کے موضوع پر خصوصی خطبے کا انعقاد
گیا،۔ ادب انسان کی داخلی دنیا کا آئینہ ہوتا ہے اور اسے اپنی ذات کی گہرائیوں میں جھانکنے کا سلیقہ عطا کرتا ہے۔ جب انسان ادب کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ محض الفاظ نہیں پڑھتا بلکہ مختلف تجربات، احساسات اور خیالات سے گزرتا ہے۔ یہی عمل اس کے اندر بصیرت پیدا کرتا ہے، جو اسے اپنے اردگرد کی دنیا کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل بناتا ہے۔ادب بصیرت، شعور اور بہتر انسانیت کی تشکیل کا ذریعہ ہے۔ادب کی سب سے بڑی خوبییہ ہے کہ یہ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ باتیں للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے سابق رجسٹرار اور سی ایم کالج دربھنگہ کے موجودہ پرنسپل معروف محقق، ادیب و شاعر پروفیسر مشتاق احمد نے گیا کالج گیا کے شعبہ اردو میں منعقدہ خصوصی لکچر ’’عہد حاضر میں ادب کی معنویت اور اہمیت ‘‘کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ادب پڑھنے والا فرد زیادہ متوازن، سنجیدہ اور گہری سوچ کا حامل ہوتا ہے۔ وہ زندگی کے مسائل کو محض جذباتی انداز میں نہیں بلکہ عقلی اور فکری بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ادب پڑھنا اس لیے بھی لازمی ہے کہ یہ انسان کے اندر احساسِ ذمہ داری کو بیدار کرتا ہے۔ جب ہم مختلف کہانیاں، ناول یا شاعری پڑھتے ہیں تو ہمیں مختلف کرداروں کی زندگیوں، ان کے دکھ سکھ اور ان کے فیصلوں کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس سے ہمارے اندر ہمدردی، برداشت اور رواداری جیسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں، جو ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادب کسی بھی معاشرے کیفکری اور تہذیبی شناخت کا بنیادی ستون ہوتا ہے۔ ادب کے بغیر نہ تو معاشرہ اپنی روح کو برقرار رکھ سکتا ہے اور نہ ہی اپنی تاریخ اور روایت کو صحیح معنوں میں سمجھ سکتا ہے۔پروفیسر مشتاق احمد نے موجودہ دور کے تناظر میں ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کا زمانہ تیز رفتار، مادی ترقی اور ٹیکنالوجی کییلغار کا زمانہ ہے، جہاں انسان بظاہر ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے، لیکن اندرونی طور پر ایک خلا اور بے سمتی کا شکار ہے۔ ایسے میں ادب ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو اس کی اصل سے جوڑتا ہے اور اسے توازن اور اعتدال کی راہ دکھاتا ہے۔
معروف فکشن نگار اور مشاورتی بورڈ ساہتیہ اکادمی کے ممبر ڈاکٹر احمد صغیر نے اس تقریب میں صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ اردو گیا کالج گیا ادھر کچھ مہینوں سے کافی فعال ہوگیا ہے ۔ پروفیسر مشتاق احمد کا خطاب نہایت جامع، مدلل اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ تھا۔ آج کے دور میں، جہاں تیز رفتار زندگی اور ڈیجیٹل مصروفیات نے انسان کو سطحی معلومات تک محدود کر دیا ہے، ادب کا مطالعہ اور بھی اہم ہو گیا ہے۔ یہ ہمیں ٹھہراؤ، غور و فکر اور خود احتسابی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ادب ہمیںیہ سکھاتا ہے کہ زندگی کو محض گزارنا نہیں بلکہ اسے سمجھنا اور محسوس کرنا بھی ضروری ہے۔انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ اس طرح کے علمی پروگرام طلبہ میں فکری بیداری اور ادبی شعور پیدا کرنے میں نہایت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
اس تقریب میں ایس ایس کالج جہان آباد کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر محمد عمران ارشد نے بطور مہمان ذی وقار شرکت کی اور کہا کہ ادب انسان کو نہ صرف بہتر سوچنے کا ہنر دیتا ہے بلکہ اسے ایک باکردار، باشعور اور حساس انسان بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب کا مطالعہ ہر دور میںاہم رہا ہے اور آئندہ بھی انسانی ترقی اور فکری بالیدگی کے لیے ناگزیر رہے گا۔
خصوصی خطبے سے قبل صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عبدالحی نے مہمان مقرر کا شال اور مومنٹو دے کر استقبال کیا اور ان کا تعارف پیش کیا۔ ساتھ ہی اس خصوصی لکچر کی غرض و غایت بیان کی اور کہا کہ آج کے مشینی دور میں ادب کی اہمیت اور معنویت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ادب صرف پڑھنے کی چیز نہیں ہے بلکہ اسے اپنی زندگی میں اتارنا بھی لازمی ہے۔ پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے شعبے کے استاد ڈاکٹر محمد منہاج الدین نے کہا کہ پروفیسر مشتاق احمد صاحب کی شخصیت محتاج تعارف نہیںہے ، وہ نہ صرف ایک اچھے منتظم ہیں بلکہ ایک ناقد، محقق، ادیب، شاعر اور بطور ادبی صحافی بھی پورے ملک میں معروف ہیں۔ آج ہمارے شعبے میں ان کی تشریف آوری ہم سب کے لیے باعث مسرت ہے۔ خصوصی خطبے کے بعد پروفیسر مشتاق احمد کی ادارت میں شائع ہورہے تحقیقی جرنل ’’جہان اردو ‘‘کے پچیس برس پورے ہونے پر چھپے خصوصی دستاویزی شمارے بعنوان عظیم آباد نمبر کا اجرا بھی کیا گیا۔اس پروگرام میں غالب جاوید،محمدچاند آفتاب، احمد سعید ، علیشہ ملک،آرزو پروین کے ساتھ ساتھ ایم اے اور بی اے کے طلبا کے علاوہ شعبہ اردو کے اسسٹنٹ ابوحذیفہ، روی شنکراور گیتا دیوی وغیرہ بھی موجود تھے۔

