علی گڑھ شوذب منیر
علی گڑھ کے سر سید نگر میں واقع خانقاہ نیازیہ میں معراج النبی کی مناسبت سے کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پیر طریقت ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے کہا کہ واقعہ معراج اسلامی تاریخ کا ایک اہم اور معجزانہ واقعہ ہے، جس کا ذکر قرآن پاک اور احادیث میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ یہ واقعہ رسول اللہ کی زندگی کے ایک اہم مرحلے پر پیش آیا، جس میں آپ کو رات کے ایک مختصر حصے میں مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ اور پھر آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔ڈاکٹر عباس نیازی نے کہا کہ سفر معراج کے اندر پوشیدہ بلند و بالا مقاصد اور لطائف و معارف، دروس و عبرت، جو آپ پر ہونے والے رنج و غم کا مداویٰ ثابت ہوئے، جس کے ذریعہ آپ پر سے حزن و ملال کے بادل چھٹ گئے اور خوشی و مسرت کے لمحات واپس آئے۔ اسکے ذریعے دعوت و تبلیغ کی راہیں ہموار ہوئیں، رغبت و لگن میں اضافہ ہوا، اور مولیٰ کی رضا جوئی کے ساتھ قدم بڑھتے رہے۔ آپ کے عزم و حوصلہ اور پختگی و ثبات قدمی کو مہمیز کرنے والی قوت بھی حاصل ہوئی، کیونکہ اس سفر مبارک میں آپ کے مرتبے کی بلندی بھی نمایاں تھی ۔انہوں نے کہا کہ سچ ہے کہ جب کفار و مشرکین نے آپ کو طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا تو آپ کے قلب اطہر پر سورۃ الکوثر نازل ہوئی، جس نے دشمنان رسول کے باطل نظریات پر کاری ضرب دی اور آپ کی عظمت و رفعت کا کرشمہ ثابت ہوا۔ ایسے ماحول میں جبکہ اہل مکہ اور تمام اہل عرب ضلالت و شقاوت میں ڈوبے ہوئے تھے، آپ نے تنہا دعوت عظمیٰ اور رسالت خداوندی کی تمام ذمہ داریاں صرف ۲۳ سال کی قلیل مدت میں اس طرح پوری کی کہ شہنشاہ عالم بونا بارٹ بھی اعتراف پر مجبور ہوا کہ صدیوں میں پایۂ تکمیل کو نہ پہنچنے والا پیغام نبی کریم نے ۲۳ سال میں مکمل کر دکھایا اور تاریخ عالم اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔
پیر طریقت ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے مزید کہا کہ معراج کی پہلی حکمت یہ ہے کہ اعلان نبوت کے بعد کفار مکہ نے آپ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے۔ معاشرتی سطح پر آپ اور آپ کے خاندان کا بائیکاٹ کیا گیا، جس کی وجہ سے آپ کو شدید کرب سے گزرنا پڑا۔ بائیکاٹ کے بعد آپ کے چچا اور محبوبہ بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا خالق حقیقی سے جا ملیں۔ ایسے حالات میں اللہ نے چاہا کہ آپ کو بلا کر سارے غم، دکھ اور پریشانیاں دور کریں اور اپنا دیدار کرائیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جب محبوب حقیقی کا چہرہ سامنے ہوگا تو سارے غم و تکالیف کافور ہوجائیں گے۔ گویا اللہ رب العزت نے شب معراج پر اپنے حبیب کو بلا کر دلجوئی کی، امت کی بخشش کی نوید سنائی، اور نمازوں کا تحفہ بھی عطا کیا۔
ڈاکٹر عباس نیازی نے کہا کہ معراج النبی کے روز متعدد واقعات پیش آئے جنکی بشارت حضور کے علاوہ عیسائی پیشواؤں نے بھی دی۔ تفسیر ابن کثیر میں درج ہے کہ ایک عیسائی پیشوا جو مسجد اقصیٰ کا بڑا پادری تھا، نے بتایا کہ وہ ہر رات سونے سے پہلے مسجد کے تمام دروازے بند کر دیتا تھا۔ اس رات میں نے تمام دروازے بند کر دیے مگر ایک دروازہ بند نہ ہو سکا۔ کارندوں اور حاضرین کی تمام کوششوں کے باوجود دروازہ نہ ہلا۔ بالآخر ترکھانوں کو بلایا گیا تو انہوں نے کہا کہ اوپر کی عمارت نیچے آگئی ہے اور رات میں کچھ نہیں ہوسکتا، صبح دیکھیں گے۔ صبح دیکھ کر دروازہ بالکل صحیح تھا، مسجد کے پتھر پر سوراخ اور جانور باندھنے کے نشان نظر آئے۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے سمجھا کہ یہ دروازہ صرف نبی کریم کے لیے کھلا رکھا گیا تھا، اور یقینا آپ نے مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کی۔
اس موقع پر علی زمن نیازی، علی فخری نیازی، علی حسنین نیازی، سرور عظیم نیازی، حیدر علی نیازی، کریم نیازی، روحان نیازی، حافظ فرقان نیازی، عاطف نیازی، صفدر نیازی، جعفر نیازی سمیت بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے۔

