*آگرہ:* مسجد نہر والی، سکندرا کے خطیب *محمد اقبال* نے آج جمعہ کے خطبے میں نمازیوں کو درخت لگانے اور ماحول کو آباد کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ *”درخت لگانا مرنے کے بعد بھی ثواب کا ذریعہ ہے”*۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ دین اسلام ایک “ماحول دوست” دین ہے جو زمین کو آباد کرنے اور فساد سے بچانے کا حکم دیتا ہے۔ درخت جنت کی نعمتوں میں سے ہیں۔ انہوں نے سورہ ہود کی آیت 61 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا *”اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تمہیں اس میں آباد کیا”*۔ یعنی زمین کو بسانا، کھیتی کرنا اور درخت لگانا انسان کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ ہم نے اس دنیا کو آباد کرنے اور اس کے خوبصورت مناظر میں کیا کردار ادا کیا؟ کیا ہم آخری عمر تک صرف اپنی ذات تک محدود رہے؟ اسلام مایوسی کا دین نہیں بلکہ آخری لمحے تک تعمیر اور آبادکاری کا دین ہے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے *”اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو، اگر وہ لگا سکتا ہے تو لگا دے”*۔ مسند احمد: 12902
مولانا اقبال نے کہا کہ درخت لگانا *صدقہ جاریہ* ہے اور بلاضرورت درخت کاٹنا گناہ ہے۔ اسلام ہمیں درخت لگانے، پانی بچانے اور اللہ کی زمین کو سنوارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیڑ پودے ہماری زندگی کے لیے بھی انتہائی مفید ہیں۔ ہمیں زندہ رہنے کے لیے جو آکسیجن چاہیے وہ درختوں سے ہی ملتی ہے اور ہم جو کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کرتے ہیں وہ درختوں کی غذا ہے۔ یعنی ہماری مضر گیس درخت کی غذا ہے اور درخت کی دی ہوئی گیس ہماری زندگی کی ضرورت ہے۔ یہ اللہ کی کتنی بڑی حکمت ہے۔
آخر میں خطیب نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی کوش کریں۔

