آگرہ۔ مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبۂ جمعہ میں حقوقِ پڑوسی کے نہایت اہم موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے ابتدا میں سورۃ النساء کی آیت 36 کا خلاصہ پیش کیا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین، قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔
اقبال نے کہا کہ غور کرنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور والدین کے ذکر کے ساتھ ہی پڑوسی کے حقوق بیان کیے، جو اس کی بنیادی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت جبریل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ اچھے برتاؤ کی مسلسل تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو گمان ہوا کہ شاید پڑوسی کو بھی وارث مقرر کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے تین مرتبہ قسم کھا کر فرمایا:
“اللہ کی قسم! وہ شخص مؤمن نہیں جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو” (بخاری)
محمد اقبال نے کہا کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ خود محاسبہ کرے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام میں پڑوسی کے حقوق میں مسلم و غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں، بلکہ ہر پڑوسی کے ساتھ حسنِ اخلاق کا حکم ہے۔
انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی ایک اور حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
“اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! کوئی شخص ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے پڑوسی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے” (مسلم)
خطیب نے کہا کہ اگر ہم سب مل کر ان اسلامی اصولوں پر عمل کریں تو ہمارا معاشرہ محبت، خیر خواہی اور باہمی احترام سے بھرپور ہو جائے گا، اور ہم ایک ایسا ملک تشکیل دے سکیں گے جہاں سب لوگ امن و محبت کے ساتھ زندگی گزاریں۔
اقبال نے کہا کہ غور کرنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور والدین کے ذکر کے ساتھ ہی پڑوسی کے حقوق بیان کیے، جو اس کی بنیادی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت جبریل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ اچھے برتاؤ کی مسلسل تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو گمان ہوا کہ شاید پڑوسی کو بھی وارث مقرر کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے تین مرتبہ قسم کھا کر فرمایا:
“اللہ کی قسم! وہ شخص مؤمن نہیں جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو” (بخاری)
محمد اقبال نے کہا کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ خود محاسبہ کرے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام میں پڑوسی کے حقوق میں مسلم و غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں، بلکہ ہر پڑوسی کے ساتھ حسنِ اخلاق کا حکم ہے۔
انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی ایک اور حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
“اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! کوئی شخص ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے پڑوسی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے” (مسلم)
خطیب نے کہا کہ اگر ہم سب مل کر ان اسلامی اصولوں پر عمل کریں تو ہمارا معاشرہ محبت، خیر خواہی اور باہمی احترام سے بھرپور ہو جائے گا، اور ہم ایک ایسا ملک تشکیل دے سکیں گے جہاں سب لوگ امن و محبت کے ساتھ زندگی گزاریں۔

