اردو کے فروغ و اشاعت میں ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت
بھاگرپور۔مسلم ایجوکیشن کمیٹی، بھاگرپور کے زیرِ اہتمام معروف صحافی، اردو زبان کے سچے علمبردار، سماجی بیداری کی علامت اور حق و صداقت کی مثال مرحوم غلام سرور کی یومِ پیدائش کے موقع پر ’’یومِ اردو‘‘ کے عنوان سے ایک شاندار اور یادگار ادبی و تعلیمی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد مرحوم غلام سرور کی بے مثال صحافتی، سماجی اور لسانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور نئی نسل کو اردو زبان کی تہذیبی، ادبی اور فکری اہمیت سے روشناس کرانا تھا۔

پروگرام کی صدارت مسلم ایجوکیشن کمیٹی کے صدر انجینئر محمد اسلام نے کی، جب کہ نظامت کے فرائض جنرل سکریٹری پروفیسر ڈاکٹر فاروق علی نے نہایت خوش اسلوبی، سنجیدگی اور فکری وقار کے ساتھ انجام دیے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، اس کے بعد مرحوم غلام سرور کی حیات، جدوجہد اور اردو زبان کے لیے ان کی بے لوث خدمات پر روشنی ڈالی گئی۔
اس موقع پر مہمانِ خصوصی، منگیر یونیورسٹی کے پی جی اردو شعبہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر شاہد رضا جمال نے اپنے جامع اور مؤثر خطاب میں مرحوم غلام سرور کو ایک بے باک، نڈر اور اصول پسند صحافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ غلام سرور نے صحافت کو محض خبروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی اصلاح اور عوامی بیداری کا مضبوط ذریعہ بنایا۔ ان کا قلم ہمیشہ مظلوموں، محروموں اور کمزور طبقات کی آواز بنا رہا۔
پروفیسر جمال نے کہا کہ مرحوم غلام سرور صرف اردو کے خیر خواہ ہی نہیں بلکہ ایک سرگرم اور جدوجہد کرنے والے کارکن بھی تھے، جنہوں نے اردو کے فروغ کے لیے منظم تحریک کھڑی کی۔ ایسے دور میں جب اردو کو نظر انداز کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں، غلام سرور نے نہ جھکنے کا راستہ اختیار کیا اور نہ کسی قسم کا سمجھوتہ کیا۔ ان کی انتھک محنت اور دور اندیشی کے نتیجے میں بہار میں اردو کو نئی شناخت ملی اور اردو صحافت کو مضبوط سمت حاصل ہوئی۔
انہوں نے ’’یومِ اردو‘‘ کے تاریخی پس منظر پر بھی روشنی ڈالی اور اردو کی عظیم شخصیات کی یومِ پیدائش اور برسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اردو دوست حلقوں کو کسی ایک متفقہ تاریخ کو ’’یومِ اردو‘‘ کے طور پر قبول کرنا چاہیے، تاکہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے اردو کی خدمت کو مزید تقویت مل سکے اور نئی نسل کا اردو سے مضبوط رشتہ قائم ہو۔
مسلم ایجوکیشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری پروفیسر ڈاکٹر فاروق علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرحوم غلام سرور اردو زبان کے لیے ایک ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے اتحاد، اخلاص اور مسلسل محنت کے ساتھ اردو کی خدمت کی، جو آج ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم غلام سرور کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زبانوں کا تحفظ صرف تقریروں سے نہیں بلکہ عملی اور سنجیدہ کوششوں سے ممکن ہے۔
ڈاکٹر حبیب مرشد خان نے کہا کہ مرحوم غلام سرور نے اپنے اخبار کے ذریعے نہ صرف سماج کو بیدار کیا بلکہ حکومت کو بھی جواب دہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا قلم اتنا طاقتور تھا کہ اس کی گونج اقتدار کے ایوانوں تک سنائی دیتی تھی، اور یہی ایک ذمہ دار اور سچے صحافی کی پہچان ہے۔
تقریب میں اردو گرلز اسکول کی معلمہ انیتا کماری، محبوب عالم، قمر امان، ظفر اقبال، منٹو فنکار سمیت دیگر مقررین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مرحوم غلام سرور کی صحافتی، سماجی اور لسانی خدمات کو سراہا۔ مقررین نے کہا کہ اردو ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت ہے اور اس کے تحفظ و فروغ کی ذمہ داری معاشرے کے ہر طبقے پر عائد ہوتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر اردو اخبارات کے نمائندوں اور رپورٹرز کو ان کی خدمات کے اعتراف میں شال اور ڈائری پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ آخر میں صدارتی خطاب میں انجینئر محمد اسلام نے تمام معزز مہمانوں، مقررین اور حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کے ادبی و تعلیمی پروگرام اردو کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوں گے اور نئی نسل کو اردو زبان سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

