نئی دہلی: جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر شہباز عامل نے جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کے حالیہ بیان پر اٹھنے والے اعتراضات کو علمی بدفہمی اور سیاق و سباق سے انحراف کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوع کے تنازعات دراصل ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت اور فکری ہم آہنگی کو مجروح کرنے کی شعوری یا غیر شعوری کوشش ہیں۔ ان کے بقول، مظہر آصف، جو تقابلِ ادیان کے ایک سنجیدہ اسکالر اور صوفیانہ فکر کے نمائندہ ہیں، نے نہ کسی مذہبی عقیدے کی تحریف کی ہے اور نہ ہی کسی مخصوص عقیدے کی برتری کا اظہار کیا ہے، بلکہ انہوں نے برصغیر کی صدیوں پر محیط روایت اخوت و یگانگت کو ایک تہذیبی استعارے کے ذریعے واضح کیا ہے۔
شہباز عامل نے وضاحت کی کہ “مہادیو” کے حوالے سے دیا گیا بیان دراصل ایک علامتی و تہذیبی اظہار ہے، جس کا مقصد مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان موجود مشترکہ روحانی قدروں بالخصوص وحدت انسانی، رواداری اور باہمی احترام کو اجاگر کرنا ہے۔ ایسے بیانات کو لفظی اور سطحی مفہوم میں لے کر متنازع بنانا نہ صرف علمی دیانت کے منافی ہے بلکہ فکری مباحث کو سطحیت کی طرف دھکیلنے کے مترادف بھی ہے۔ انہوں نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ برصغیر کی فکری و روحانی تاریخ میں صوفیا اور مفکرین نے ہمیشہ مذہبی تنوع کو تصادم کے بجائے تکمیل اور تقارب کے زاویے سے دیکھا ہے۔ اسی فکری روایت کے نمائندہ شہزادہ دارا شکوہ ہیں، جنہوں نے اپنی معروف تصنیف مجمع البحرین میں ہندو مت اور اسلام کے باطنی و روحانی اشتراکات کو نہایت بصیرت کے ساتھ واضح کیا۔ شہباز عامل کے مطابق دارا شکوہ کا یہ شعر:
بنام آں کہ او نامے ندارد
بہر نامے کہ خوانی سر بر آرد(ترجمہ:“اس کے نام سے جس کا کوئی نام نہیں، مگر جس نام سے پکارو وہ ظاہر ہوتا ہے”)
درحقیقت وحدتِ مطلق کے اس تصور کی ترجمانی ہے جو مختلف مذہبی روایتوں میں مختلف تعبیرات کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔اسی طرح دارا شکوہ کے اشعار:
“در انجمن فرق و نہاں خانہ جمع
باللہ ہمہ اورست ثم باللہ ہمہ است”
(ترجمہ: ”پڑوسی ساتھ بیٹھنے والا اور ہمسفر سب وہی ہے فقیر کی گدڑی ہو یا شاہانہ لباس سب وہی ہے فراق کی انجمن ہو وصال کی خلوت خداکی قسم وہی ہے اور واللہ وہی ہے۔”)اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے راستے بظاہر جدا سہی، مگر اپنی غایت کے اعتبار سے ایک ہی حقیقتِ واحدہ کی جستجو میں سرگرداں ہیں۔ شہباز عامل کے مطابق مظہر آصف کا بیان اسی صوفیانہ و فکری روایت کا تسلسل ہے، جس میں مذہبی تنوع کو نزاع کے بجائے تنوعِ اظہار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تعلیمات کا بنیادی جوہر بھی رواداری، احترامِ انسانیت اور بقائے باہمی پر مبنی ہے۔ قرآنِ کریم کی آیت “لکم دینکم ولی دین” اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کے وجود اور ان کے ماننے والوں کے احترام کا قائل ہے۔ ایسے میں کسی فکری و تہذیبی بیان کو، جو باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہو، اسلامی اصولوں کے منافی قرار دینا نہ صرف دینی بصیرت سے عاری ہے بلکہ علمی بددیانتی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ ڈاکٹر شہباز عامل نے ان الزامات کو بھی سختی سے مسترد کیا جن کے تحت پروفیسر مظہر آصف کو کسی مخصوص نظریاتی یا سیاسی تنظیم سے منسوب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کے بقول، “ایک سنجیدہ اہلِ علم کے فکری اظہار کو سیاسی عینک سے دیکھنا نہ صرف ان کی علمی حیثیت کی تحقیر ہے بلکہ سماجی فضا کو مکدر کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اس طرح کے بیانات کو جذباتی ردعمل کے بجائے علمی، تاریخی اور تہذیبی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کی اصل قوت اس کی ہمہ گیر، کثیرالثقافتی اور گنگا-جمنی تہذیب میں مضمر ہے، جس کی بقا اسی وقت ممکن ہے جب ہم فکری کشادگی، باہمی احترام اور علمی دیانت کو اپنا شعار بنائیں۔

