ازقلم: گجیندر سنگھ شیخاوت،( مرکزی وزیر برائے ثقافت و سیاحت، حکومت ہند)
سردار ولبھ بھائی پٹیل کی سالگرہ کے اعزاز اور اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر سال 31 اکتوبر کو بھارت ‘اتحاد کا قومی دن ’ مناتا ہے۔ پٹیل، آزاد بھارت کے پہلے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِداخلہ تھے۔ بہت کم شخصیات نے جمہوریۂ ہند کی بنیادوں کو اُن کی طرح مضبوطی سے استوار کیا۔ 1947 کے بعد انہوں نے 560 سے زیادہ ریاستوں کو ایک سیاسی اکائی میں متحد کیا۔
سردار پٹیل کے حقیقت پسندانہ رویّے، صبر اور مضبوط فیصلوں نے تقسیم کے بعد برصغیر کو ٹکڑوں میں بٹنے سے بچایا۔ جونا گڑھ، حیدرآباد اور جموں و کشمیر جیسے خطے اُن کی بصیرت اور عزم کے بغیر غیر یقینی صورتِ حال میں پھنس سکتے تھے۔ اُن کے نزدیک اتحاد کبھی یکسانیت کا نام نہیں تھا؛ بلکہ دلوں اور ذہنوں کی ایسی مشترکہ وابستگی تھی جو ایک مشترکہ تہذیب اور ورثے سے بندھی ہو۔ یہی یقین آج کے دور میں بھی بھارت کی پہچان اور بنیاد ہے، جب تنوع بڑھ رہا ہے اور نئے خواب جنم لے رہے ہیں۔
2014 میں سردار پٹیل کی سالگرہ کو ‘اتحاد کے قومی دن ’ کے طور پر منانے کا فیصلہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ اتحاد کوئی طے شدہ حقیقت نہیں بلکہ مسلسل قومی تجدید کا عمل ہے۔ ملک بھر میں اسکول، سماجی ادارے اور شہری ہر سال بھارت کی سالمیت کے تحفظ کا عہد تازہ کرتے ہیں۔ “رن فار یونٹی” جیسے پروگرام پٹیل کے اجتماعی عمل کے پیغام کی یاد دلاتے ہیں کہ حب الوطنی صرف جذبے کا نہیں، عملی شرکت کا نام ہے۔
اس سال سردار پٹیل کی 150ویں سالگرہ ایکتا نگر میں 182 میٹربلند اسٹیچو آف یونیٹی کے نزدیک خصوصی تقریبات کے ساتھ منائی جائے گی، جو پٹیل کی ملک کی تعمیر کی میراث کو خراج تحسین ہے ۔ ثقافتی پریڈز، ریاستوں کی جھانکیاں اور 900 سے زائد فنکاروں کے پروگرام اس تصور کا جشن منائیں گے کہ بھارت کی قوت اس کے مختلف لہجوں، آوازوں اور ثقافتوں کےاتحاد میں ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں زبانیں، مذاہب اور لوک روایتیں بے پناہ تنوع کے ساتھ ساتھ رہتی ہیں، ثقافت ہمیشہ اتحاد کا مضبوط ترین حصہ رہی ہے۔ وزارتِ ثقافت کے تحت ادارے زونل کلچرل سینٹرز سے لے کر قومی میوزیم تک ورثے کو عوام تک پہنچانے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ کوئی خطہ خود کو ملک کی داستان سے الگ محسوس نہ کرے۔
‘ایک بھارت شریشٹھ بھارت’ جیسے پروگرام اسی جذبے کو مضبوط بناتے ہیں، جن میں ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو زبان، کھانے اور فنون کے تبادلے کے لیے مربوط کیا جاتا ہے۔ جب مہاراشٹر کے طالب علم بیہو سیکھتے ہیں، یا آسام کے نوجوان فنکار پونے میں لاؤنی پیش کرتے ہیں، تو وہ پٹیل کے اس نظریے پر عمل کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کو جاننا، ساتھ کھڑے ہونے کا پہلا قدم ہے۔
سیاحت بھی یکجہتی کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔‘ دیکھو اپنا دیش ’مہم اور جدید اِنکریڈیبل انڈیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم پنجاب کے گولڈن ٹیمپل سے کیرالا کے آبی سلسلوں تک، آسام کے چائے کے باغات سے راجستھان کے صحراؤں تک، لوگوں کو اپنی ہی سرزمین میں امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ صرف 2024 میں اندرونِ ملک سیاحتی دوروں کی تعداد 294 کروڑ سے تجاوز کر گئی، جو اس بات کی علامت ہے کہ بھارتی عوام میں اپنے ملک کے بارے میں جستجو اور فخر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
‘سوادیش درشن ’ اور ‘پراشاد’ جیسی اسکیمیں صرف بنیادی ڈھانچے کی تشکیل نہیں کرتے بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ جب ناگالینڈ کی کوئی خاتون گجرات سے آنے والے مہمانوں کے لیے ہوم اسٹے چلاتی ہے، یا جودھپور کا کوئی کاریگر تمل ناڈو سے آئے مسافروں کو اپنے دستکاری کے نمونے فروخت کرتا ہے، تو یہ صرف اشیاء کا لین دین نہیں ہوتا بلکہ تجربات کا تبادلہ ہوتا ہے جو جمہوریہ کو مزید قریب لاتا ہے۔
پٹیل نے سکھایا کہ اتحاد ہر نسل کے لیے نئے سرے سے ادا کیا جانے والا فرض ہے۔ اسے بے توجہی، لاعلمی اور علاقائی تعصب جیسے منتشر کرنے والے رجحانات کے خلاف مضبوطی سے قائم رکھا جانا چاہیے۔ آزادی کا امرت مہوتسو کے پانچ عہد (پنچ پرن) بھارت کے 2047 کے سفر میں قومی یکجہتی کے عزم کو مرکزی حیثیت فراہم کرتے ہیں۔
جب بھارت 2025 میں سردار پٹیل کی 150ویں سالگرہ منا رہا ہے، تو اصل خراج نہ سنگِ مرمر کے مجسموں میں ہے نہ محض یادگاروں میں بلکہ اس بات میں ہے کہ ہر بھارتی اپنے آپ کو ایک ہی قومی داستان کا حصہ محسوس کرے۔ چاہے وہ ثقافتی پروگرام ہو، کسی میوزیم کی نمائش، یا ریاستوں کے درمیان سفر ہر شمولیت کا عمل ان نادیدہ رشتوں کو مضبوط کرتا ہے جو اس تہذیب کو متحدرکھتے ہیں۔
سردار پٹیل کے الفاظ اور وزیر اعظم مودی کی جانب سے ان کا اعادہ ، دونوں ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اتحاد بھارت کی تقدیر ‘ایک بھارت، شریشٹھ بھارت’ کا وسیلہ بھی ہے اور منزل بھی۔
(قلم کار:حکومت ہند کے محکمۂ ثقافت و سیاحت میں مرکزی وزیرہیں۔)

