مکہ مکرمہ: مسجد الحرام کے عین وسط میں واقع مقامِ ابراہیم دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عقیدت، احترام اور روحانیت کی ایک عظیم علامت ہے۔ یہ مقدس مقام بیت اللہ کی تعمیر کی تاریخ کا ایک جیتا جاگتا ثبوت بھی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مقامِ ابراہیم دراصل وہ مقدس پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کی تعمیر کی، جبکہ ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس عظیم کام میں ان کی مدد کی۔
قدموں کے نشانات: عقیدت کی علامت
اس پتھر پر حضرت ابراہیمؑ کے قدموں کے واضح نشانات موجود ہیں، جنہیں مسلمان انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں بھی اس مقام کی اہمیت بیان کی گئی ہے اور اسے نماز کی جگہ بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
طواف کے بعد عبادت کا مرکز
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آج بھی زائرین خانۂ کعبہ کا طواف مکمل کرنے کے بعد مقامِ ابراہیم کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں۔
محفوظ انداز میں رکھا گیا مقدس پتھر
مقامِ ابراہیم، کعبہ شریف سے چند میٹر کے فاصلے پر مطاف کے صحن میں موجود ہے اور اسے ایک شفاف کرسٹل کے خوبصورت گھیرے میں محفوظ کیا گیا ہے تاکہ زائرین آسانی سے اسے دیکھ سکیں۔ اس کے گرد سنہری فریم بھی نصب ہے جو اس کی حفاظت اور خوبصورتی کو مزید بڑھاتا ہے۔
تاریخ کا نادر معجزہ
روایات کے مطابق جب کعبہ کی دیواریں بلند کی جا رہی تھیں تو یہ پتھر بھی اونچا ہوتا جاتا تھا، جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیمؑ تعمیر کا کام انجام دے رہے تھے۔ یہی پتھر اس عظیم عبادت گاہ کی تکمیل کا گواہ ہے۔
اسلامی ورثے کی حفاظت
صدیوں سے مختلف اسلامی حکمرانوں نے مقامِ ابراہیم کی حفاظت اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی ہے۔ آج بھی سعودی عرب کی جانب سے اس مقدس مقام کی حفاظت اور زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے جدید انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

