تاریخ شاہد ہے اسلام کو مٹانے والے خود مٹ گئے ،اسلام زندہ ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام تا قیامت زندہ رہے گا: مولانا ارشد مدنی
نئی دہلی جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کے اس اہم دوروزہ اجلاس سے اپنے صدارتی خطاب میں مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ نفرت کی سیاست کی جگہ اب دھمکی آمیز سیاست نے لے لی ہے ، اس کا مقصدصرف اورصرف مسلمانوں کو ڈرادھمکاکر یہ باورکراناہے کہ اب انہیں یہاں ایک مشروط زندگی گزارنی ہوگی ، اورجو ایسا نہیں کریگااس کی جگہ جیل میں ہوگی ، اس طرح کی نئی سیاست قانون اورآئین کی بالادستی پر ایک سوالیہ نشان ہے ،
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے یہ بات جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کی دوروزہ میٹنگ میں آج اپنے صدارتی خطاب میں کہی ، انہوں نے کہا کہ اقتدارکے لئے کچھ لوگ امن واتحادکے ساتھ ایک خطرناک کھلواڑکررہے ہیں ، سیاست کی اس نئی روش سے پورے ملک میں منافرت اورمذہبی شدت پسندی کی ایک نئی لہر چل پڑی ہے ، حالات کچھ اس قدردھماکہ خیز ہوچکے ہیں کہ جس کو دیکھوآگ اگل رہاہے ، مسلمانوں کی تذلیل کررہاہے ، اورقانون کے رکھوالے ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
مولانا مدنی نے آگے کہاکہ ابھی پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن ہوئے ، بطورخاص مغربی بنگال اورآسام میں کھلے عام انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اشتعال انگیزیاں کی گئیں، اور مسلمانوں کو کھلے عام دھمکیاں بھی دی گئیں، الیکشن جیت لینے کے بعد بھی دھمکیوں کا یہ مذموم سلسلہ جاری ہے ، انہوں نے کہا کہ ایک نومنتخب وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ مسلمانوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیااس لئے ہم ان کا کام نہیں کریں گے آئین اورجمہوریت دونوں کا مذاق اڑانے جیساہے ، کیونکہ آئین ہرشہری کو برابرکا حق دیتاہے ، اورجمہوریت نے ہر شہری کو اپنی پسند کا لیڈرمنتخب کرنے کا اختیار دیاہے ، اسی لئے الیکشن بھی ہوتے ہیں ، چنانچہ اگر کوئی شہری کسی کو ووٹ نہیں دیتاتویہ کوئی جرم نہیں ہے ،مگرآج کی سیاسیت میں اسے بھی جرم بنادیاگیاہے،حکمرانوں نے ڈر اور خوف کی سیاست کو اپنا شعار بنا لیا ہے، لیکن میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حکومت ڈر اور خوف سے نہیں بلکہ عدل و انصاف ہی سے چلا کرتی ہے۔مغربی بنگال کے نو منتخب وزیر اعلی کے اس بیان ‘‘میں صرف ہندوؤں کے لیے کام کروں گا’’ کونفرت اور مذہبی شدت پسندی کا جنون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر وزیر اعلیٰ ایشور کو گواہ بنا کر یہ عہد کرتا ہے کہ میں آئین اور قانون کے مطابق بلا خوف یا رعایت بغیر کسی محبت یا عداوت کے تمام طبقات (All manner of people) کے ساتھ انصاف کروں گا۔ اس عہد کے بغیر نہ کوئی شخص وزیر اعلی بن سکتا ہے نہ ہی وہ اس منصب پر برقرار رہنے کا اخلاقی جواز رکھتا ہے۔
مولانا مدنی نے صاف صاف کہاکہ ملک کو منصوبہ بند طریقہ سے نظریاتی مملکت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہورہی ہے ، آئینی اداروں کی بے بسی کی وجہ سے وہ اپنی اس کوشش میں بھی کامیاب ہوتے جارہے ہیں، کئی ریاستوں میں یکساں سول کوڈنافذ ہوچکاہے ، اب آسام میں بھی یکساں سول بل لانے کی تیاری ہورہی ہے ، ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ وندے ماترم جیسے متنازعہ گیت کو قومی گیت قراردیاجاچکاہے ، بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں اسے لازمی بھی قراردیاگیاہے ، دوسری طرف مساجد، مقابر اور مدارس کو غیر قانونی کہہ کر مسمارکیا جارہاہے ، مدرسوں کولیکر ہر روز نئے نئے فرمان جاری ہورہے ہیں گویا یہ تعلیمی ادارے نہ ہوکر ایسے ادارے ہیں جہاں غیر قانونی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند اس کے خلاف قانونی جنگ لڑرہی ہے ، کئی معاملوں میں عدالتوں سے اسے انصاف بھی مل چکاہے ، اس موقع پر مولانا مدنی نے اعلان کیا کہ جمعیۃعلماء ہند جلد ہی مرکزی اورصوبائی سطح پر ایک مدرسہ بورڈقائم کرنے جارہی ہے ، جس سے تمام مدارس کو جوڑاجائے گااور مدارس کے تعلق سے پیداہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لئے اجتماعی کوشش بھی کی جائے گی ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یکساں سول کوڈکے خلاف بھی ہماری قانونی لڑائی جاری ہے ۔
جمعیۃ علماء ہند مرکزی کابینہ کے اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے جس کے تحت وندے ماترم کو قومی ترانے جن من گن کے مساوی درجہ دینے اور اس کے تمام چھ بند لازمی قرار دینے اور تمام سرکاری اور تعلیمی اداروں کے پروگراموں میں جن گن من سے قبل پڑھنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔جمعیۃ علماء ہند اسے دستور ہند کی بنیادی روح ، مذہبی آزادی ، سیکولر اقدار اور کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی کے تاریخی فیصلوں کے سراسر خلاف قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتی ہے اسے فوری طور پر واپس لے۔ اگر اس فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو جمعیۃ علماء ہند اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔
انہوں نے ایس آئی آرکی آڑمیں حقیقی شہریوں کو ووٹ سے محروم کردینے کی مہم پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ ایس آئی آرنہیں این آرسی ہے اور اس کے ذریعہ متعدد ریاستوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہاہے ، اس ضمن میں مغربی بنگال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27لاکھ ووٹروں کو مشکوک قراردیکر ووٹ کے حق سے محروم کردینا جمہوریت پر ایک سیاہ داغ ہے ، رپورٹوں کے مطابق ان 27لاکھ لوگوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ افسوسناک بات تویہ ہے کہ کچھ مفادپرست مسلمان بھی بی جے پی کے نظریہ پر کام کررہے ہیں ، وہ دانستہ ایسے بیان دیتے ہیں جس سے فرقہ ورانہ صف بندی قائم ہوجائے ، مغربی بنگال اورآسام کے حالیہ اسمبلی الیکشن کے دوران ان مفادپرست لوگوں کے بیانات سے جو نقصان ہوااس کا نتیجہ سامنے ہے ،
ایس آئی آر کے تیسرے مرحلہ کا بھی اعلان ہوچکاہے ، مسلمانوں کو بہت بیداراورمحتاط رہنے کی ضرورت ہے ، تمام ضروری کاغذات پہلے سے تیارکرلینا چاہئے جمعیۃعلماء ہند کے رضاکارحسب معمول ان تمام ریاستوں میں لوگوں کی معاونت کریں گے ، ایس آئی آرفارم جلد بازی میں نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر بھراجانا چاہئے کیونکہ ایک معمولی غلطی کو بھی ایک فاش غلطی سے تعبیر کرکے مسلمانوں کی شہریت پر سوال کھڑے کئے جاسکتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پورے عمل کا مقصدووٹرلسٹوں کی درستگی نہیں بلکہ مسلم ووٹ کو کم کرنا ہے یہ کام کئی سطح پر ہورہاہے آسام میں انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کے ذریعہ مسلم ووٹ کو بے اثرکردیا گیا ، دوسری ریاستوں میں بھی نئی حدبندی کی آڑمیں یہ کھیل شروع ہوسکتاہے ، تاکہ ایک مخصوص سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچایاجاسکے ۔
ایسا نہیں ہے کہ پہلے جولوگ اقتدارمیں تھے وہ اس میں شریک نہیں ہیں بلکہ انہوں نے بھی مسلمانوں کو سماجی ، تعلیمی ، سیاسی اوراقتصادی طورپر نقصان پہنچانے کی ہمیشہ کوششیں کیں ، مسلم کش فسادات بھی ہوتے رہے ہیں لیکن تب میں اور اب میں ایک بڑافرق یہ ہے کہ اس وقت مسلمان نشانہ پر تھے مگر اب اسلام بھی نشانہ پر ہے ، 2014کے بعد جو نئے قانون لائے گئے یا اب بھی لائے جارہے ہیں وہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے موجودہ حکومت صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ اسلام کو بھی نقصان پہنچانا چاہتی ہے ، یہ سب کچھ عالمی سطح پر بھی ہورہاہے ، مولانا مدنی نے کہا کہ اسلام پوری دنیا میں جس تیزی سے پھیل رہاہے اس نے اسلام سے عناداوربغض رکھنے والوں کو خوف زدہ کردیاہے ، اس لئے اسلام کے خلاف ہر سطح پر پروپیگنڈہ بھی ہورہاہے ، تاکہ اسلام کی شبیہ کو خراب کردیاجائے ، ایساکرنے والے بھول جاتے ہیں کہ اسلام ایک آسمانی مذہب ہے اس کو مٹانے والے خود مٹ گئے مگر یہ زندہ رہا اورقیامت تک زندہ رہے گا، مولانا مدنی نے سابق سوویت روس کا حوالہ دیا جہاں کمیونزم کو بڑھاوادیکر اسلام کو ختم کرنے کی برسوں کوششیں ہوتی رہیں یہاں تک کہ مساجد اوردینی مدارس پر پابندیاں عائد کردی گئیں برسوں کسی مسجدسے اذان کی آوازتک نہیں آئی مگر پھر دنیانے دیکھاکہ روس ٹکرے ٹکڑے ہوگیااوراس کے بعد کئی مسلم مملکتیں وجودمیں آگئیں تمام ترظلم اوربربریت کے باوجود اسلام زندہ رہا مسلمان زندہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا مسلمان ایک محب وطن شہری ہے اور ملک کی ترقی میں برابر کا شریک بھی ہے ، اس کی حب الوطنی پر ہمیشہ سوالیہ نشان لگایا گیا مگر ہر نازک موقع پر اس نے اپنے کرداروعمل سے ثابت کیا کہ وہ ایک محب وطن شہری ہے ، مولانا مدنی نے کہا کہ اگر بعض عقل کے ماروں کو یہ خوش فہمی ہے کہ وہ دھمکیوں اور اقتدارکے سہارے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے میں کامیاب رہیں گے اور مسلمان ان کی شرطوں پرجینا شروع کردیں گے توہم انہیں بتادینا چاہتے ہیں کہ مسلمان نہ توکبھی جھکا ہے اورنہ کبھی جھکے گا، وہ محبت سے توجھک سکتاہے لیکن طاقت کے زورسے اسے کبھی جھکایانہیں جاسکتاہے ، کسی حکومت نے نہیں بلکہ ملک کے آئین نے اسے اختیارات دیئے ہیں اور جب تک یہ آئین باقی ہے مسلمان اس ملک کا محب وطن شہری بن کر ہی زندہ رہے گاوہ دوسرے درجہ کا شہری بنناہرگزگوارہ نہیں کرسکتا۔ مولانا مدنی نے اخیرمیں کہاکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے بڑے ظالم آئے اورمٹ گئے، ظلم کی عمرزیادہ نہیں ہوتی جب ظلم اپنی انتہاکو پہنچ جاتاہے توسمجھ لینا چاہئے کہ صبح روشن قریب ہے ، ایک دن ایساضرورآئے گاجب ظلم کرنے والے کے گلے میں زنجیرہوگی اوریہ ملک پھر سے انصاف ومحبت ،بھائی چارہ کاگہوارہ بنے گا۔ اجلاس میں صدرجمعیۃکے علاوہ،نائب صدرمولانا سیداسجدمدنی ،ناظم عمومی مفتی سید معصوثاقب،مفتی غیاث الدین رحمانی حیدرآباد، مولانا بدراحمد مجببی پٹنہ، مولاناعبداللہ ناصربنارس،قاری شمس الدین کلکتہ، مفتی اشفاق احمد اعظم گڑھ، مولانا فضل الرحمن قاسمی،مفتی عبدالقیوم منصوری گجرات ، مولانا حلیم اللہ قاسمی ممبئی ، مفتی اشرف عباس قاسمی دیوبند،مولانا سیداشہدرشیدی مرادآباد ، مولانا مشتاق احمدعنفرآسام، فضیل احمد ایوبی ایڈوکیٹ دہلی، کے علاوہ بطورمدعوئین خصوصی مولانا محمد راشد راجستھان،مولانا محمد مسلم قاسمی دہلی،مولانا محمد احمد بھوپال، مولانا عبدالقیوم مالیگاؤں، مفتی حبیب اللہ جودھپور،حافظ عبدالقدوس ہادی کانپور وغیرہ شریک ہوئے۔ اجلاس کا اختتام صدرمحترم کی دعاپرہوا۔

