آگرہ کی برانڈنگ کے لیے تحقیق ناگزیر: مرکزی وزیر ایس پی سنگھ بگھیل

آگرہ: تاریخی تاج مہوتسو کے موقع پر منعقدہ قومی سمٹ میں سیاحت اور صحافت کے بدلتے رجحانات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ تاج پریس کلب اور محکمۂ سیاحت کے اشتراک سے منعقدہ اس اجلاس کا موضوع تھا:
“ڈیجیٹل عہد میں ٹورزم جرنلزم: ڈیٹا، ڈسکورس اور ڈیسٹینیشن برانڈنگ”۔
تقریب کا افتتاح مرکزی مملکتی وزیر پروفیسر ایس پی سنگھ ، ضلع مجسٹریٹ اروند بنگارے ملاپپا اور علاقائی سیاحتی افسر شکتی سنگھ نے شمع روشن کر کے کیا۔ اجلاس کی صدارت تاج پریس کلب کے صدر منوج مشرا نے کی۔
اس موقع پر ٹورزم گلڈ کے صدر امولیہ ککڑ، سابق صدر راجیو سکسینہ، ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے صدر راکیش چوہان، ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر رمیش وادھوا، سیاحتی صنعت کار ارون ڈنگ، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی کے شعبۂ سیاحت کے سربراہ ڈاکٹر لوکش مشرا، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل و آر ٹی آئی کارکن کے سی جین اور سماجی کارکن ڈاکٹر دیباشیش بھٹاچاریہ سمیت متعدد معززین شریک ہوئے۔ نظامت دیپک جین نے انجام دی جبکہ شکریہ کی رسم پریس کلب کے جنرل سکریٹری وویک جین نے ادا کی۔
سمٹ میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ڈیجیٹل دور میں سیاحتی صحافت محض مقامات کے تعارف تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اس میں ڈیٹا اینالیسس، سیاحوں کے رجحانات، سوشل میڈیا بیانیہ اور ڈیسٹینیشن برانڈنگ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ اگر آگرہ کی عالمی سطح پر مؤثر برانڈنگ مقصود ہے تو مستند اور تحقیقی رپورٹنگ کو فروغ دینا ہوگا۔
مرکزی وزیر ایس پی سنگھ بگھیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کی ثقافتی وراثت کو عالمی شناخت دلانے میں میڈیا کا کردار فیصلہ کن ہے۔
انہوں نے کہا:“ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پیش کی جانے والی معلومات ہی عالمی رائے سازی کرتی ہیں۔ آگرہ کی شناخت صرف تاج محل تک محدود نہیں بلکہ یہاں کا فنِ دستکاری، مقامی کھان پان، تاریخ اور لوک ثقافت بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر صحافی اعداد و شمار اور حقائق کی بنیاد پر مثبت اور متوازن رپورٹنگ کریں تو سیاحت کو نئی سمت مل سکتی ہے۔
”
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت سیاحتی انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل رابطہ کاری کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے تاکہ ملک کے نمایاں سیاحتی مقامات کو عالمی مسابقت میں آگے بڑھایا جا سکے۔
ضلع مجسٹریٹ اروند ملپا بنگاری نے کہا کہ آگرہ انتظامیہ سیاحت کو پائیدار ترقی سے ہم آہنگ کر کے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا:“سیاحت صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ روزگار، مقامی معیشت اور ماحولیاتی تحفظ سے بھی وابستہ ہے۔ ہم ڈیٹا مینجمنٹ اور وزیٹر اینالٹکس کے ذریعے انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ذمہ دار صحافت اور ذمہ دار سیاحت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، اور دونوں کے اشتراک سے ہی شہر کی مثبت شبیہ مضبوط ہوگی
تاج پریس کلب کے صدر منوج مشرا نے کہا کہ صحافیوں کو ڈیجیٹل ٹولز اور ڈیٹا کی بہتر سمجھ پیدا کرنا ہوگی۔“سیاحتی صحافت اب محض فیچر اسٹوری نہیں رہی بلکہ اس میں تحقیق، زمینی رپورٹنگ اور تجزیہ تینوں ضروری عناصر ہیں۔ ہمارا مقصد مقامی صحافیوں کو تربیت اور مکالمے کے ذریعے نئی سمت فراہم کرنا ہے تاکہ آگرہ کی مثبت تصویر دنیا تک پہنچ سکے۔”
پریس کلب کے سکریٹری آلوک دویویدی نے کہا کہ معلومات کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ساکھ کو برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
“سیاحت سے متعلق خبروں میں مستند اعداد و شمار کی کمی اکثر محسوس ہوتی ہے۔ ہمیں تحقیق پر مبنی اور حقیقت پسندانہ تجزیے کو ترجیح دینا ہوگی۔ ڈیٹا، تجربہ اور انسانی پہلو کا توازن ہی معیاری صحافت کی پہچان ہے۔”
اختتامی اجلاس میں مقررین نے کہا کہ آگرہ جیسے تاریخی شہر کی برانڈنگ صرف یادگاروں تک محدود نہیں بلکہ صفائی، ٹریفک نظم و نسق، ماحولیاتی توازن اور مضبوط ڈیجیٹل موجودگی سے بھی وابستہ ہے۔
تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اگر صحافت حقیقت پر مبنی اور دور اندیش ہوگی تو آگرہ عالمی سیاحتی نقشے پر مزید مستحکم مقام حاصل کرے گا۔

