عمران پرتاپ گڑھی کا جادو ووٹروں پر سر چڑھ کر بولا، اویسی رہے دھڑام
نئی دہلی۔ مہاراشٹر کے بلدیاتی اور ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتخابات کے نتائج نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ کانگریس کے نوجوان، بے باک اور مقبول رہنما، قومی صدر اقلیتی شعبہ اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کا اثر ووٹروں پر سر چڑھ کر بولا۔ جن جن علاقوں میں عمران پرتاپ گڑھی نے انتخابی مہم چلائی، وہاں وہاں کانگریس نے شاندار کامیابی حاصل کی۔
اعداد و شمار کے مطابق بی ایم سی کے ممبادیوی حلقے میں جن چار نشستوں پر عمران پرتاپ گڑھی نے انتخابی مہم کی، ان تمام چاروں نشستوں پر کانگریس کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ اسی طرح ملاڈ میں جن چار سیٹوں پر انہوں نے عوام سے اپیل کی، وہاں بھی چاروں سیٹوں پر کانگریس کے نگر سیوک جیت گئے۔ کرلا میں جن دو نشستوں پر عمران پرتاپ گڑھی نے مہم چلائی، وہاں بھی کانگریس نے دونوں نشستیں اپنے نام کر لیں۔
واضح رہے کہ عمران پرتاپ گڑھی مہاراشٹر سے کانگریس کے راجیہ سبھا رکن ہیں۔ جب وہ اکولا پہنچے تو وہاں AIMIM کے سربراہ اسدالدین اویسی اور بی جے پی نے کانگریس کو شکست دینے کے لیے پوری طاقت جھونک دی، لیکن اس کے باوجود کانگریس کی نشستیں 12 سے بڑھ کر 21 تک پہنچ گئیں، جو عمران پرتاپ گڑھی کی مقبولیت کا کھلا ثبوت ہے۔
نانڈیڑ میں اس نشست پر، جہاں مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان اور اسدالدین اویسی نے کانگریس امیدوار غفار کو ہرانے کا دعویٰ کیا تھا، عمران پرتاپ گڑھی نے کانگریس کے حق میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کیا۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ “غفار ہی جیتے گا”، اور نتائج نے ثابت کر دیا کہ نہ صرف غفار بلکہ ان کے ساتھ مزید تین کانگریسی نگر سیوک بھی کامیاب ہوئے۔
اسی طرح ناگپور کی جن چار نشستوں پر عمران پرتاپ گڑھی نے اپیل کی، ان تمام چاروں نشستوں پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ احمد نگر میں جس سیٹ پر انہوں نے انتخابی مہم چلائی، وہ سیٹ بھی کانگریس کے کھاتے میں گئی۔ بعد ازاں امراوتی میں عمران پرتاپ گڑھی کے انتخابی خطاب کا اثر اس قدر نمایاں رہا کہ متعلقہ سیٹ کے ساتھ ساتھ اطراف کی چاروں نشستوں پر کانگریس نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
دلچسپ بات یہ رہی کہ نانڈیڑ اور اکولا جیسے علاقوں میں اسدالدین اویسی نے دو دو مرتبہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچ کر جلسے کیے، لیکن اس کے باوجود عمران پرتاپ گڑھی کی صرف ایک ایک عوامی نشست نے ایسا ماحول بنا دیا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود اویسی کانگریس امیدوار غفار اور ساجد پٹھان کو شکست نہ دے سکے۔
ان نتائج سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ملک کی عوام، بالخصوص نوجوان طبقہ، عمران پرتاپ گڑھی پر اعتماد کرتا ہے اور انہیں ایک مضبوط، عوامی اور جدوجہد کرنے والے رہنما کے طور پر پسند کرتا ہے۔

