سنبھل: سماج وادی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ نے سنبھل کے گاؤں کسےروا میں مسجد پر ہوئی انتظامی کارروائی کے خلاف اتر پردیش حکومت اور انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اتوار کو دیپا سرائے میں واقع اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتر پردیش سمیت ملک بھر میں مساجد، مدارس، قبرستانوں، عیدگاہوں اور مزارات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ضیاء الرحمٰن برق نے دعویٰ کیا کہ جس مسجد پر کارروائی کی گئی وہ تقریباً ڈیڑھ سو سال قدیم ہے اور 1984 سے وقف ریکارڈ میں درج ہے۔ ان کے مطابق 1995 کے اتر پردیش گزٹ میں بھی اس مسجد کا اندراج موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف جائیدادوں سے متعلق تنازعات کی سماعت کا اختیار صرف وقف ٹریبونل کو حاصل ہے، نہ کہ تحصیلدار، ایس ڈی ایم، ڈی ایم یا کسی دوسرے انتظامی افسر کو۔
سماج وادی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے جلد بازی میں کارروائی کی۔ ان کے مطابق پہلے تحصیلدار کی سطح پر معاملہ خارج ہو چکا تھا، جبکہ بعد میں ضلع مجسٹریٹ کی عدالت میں اپیل زیرِ سماعت تھی۔ برق کا کہنا ہے کہ نئے ضلع مجسٹریٹ نے پہلی ہی سماعت میں فیصلہ سنا دیا اور فریقین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ رات کے وقت حکم جاری کیا گیا اور اگلے ہی دن کارروائی کر دی گئی تاکہ متاثرہ فریق اعلیٰ عدالتوں سے رجوع نہ کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ پوری کارروائی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت انجام دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہفتہ اور اتوار کو عدالتیں بند ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد کو منہدم کیا گیا تاکہ کوئی فریق عدالت سے اسٹے آرڈر حاصل نہ کر سکے۔
ضیاء الرحمٰن برق نے متعلقہ افسران پر اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں قانونی جنگ لڑی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ افسران کے خلاف توہینِ عدالت سمیت دیگر قانونی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران مسجد کے احاطے میں ملنے والے ’’آئی لو محمد‘‘ پوسٹر اور سبز پرچم کے معاملے پر بھی انہوں نے اپنا ردِ عمل ظاہر کیا۔ برق نے کہا کہ ’’آئی لو محمد‘‘ لکھنا یا سبز مذہبی پرچم لہرانا کوئی جرم نہیں ہے۔ ان کے مطابق عید میلاد النبیؐ جیسے مواقع پر سبز جھنڈوں کا استعمال ایک عام مذہبی روایت ہے اور اسے کسی دوسرے ملک یا غیر قانونی سرگرمی سے جوڑنا غلط ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ اپنی کارروائی سے توجہ ہٹانے کے لیے پوسٹروں اور جھنڈوں کا معاملہ اٹھا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس بنیاد پر کوئی مقدمہ درج کیا جاتا ہے تو اسے بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
رکنِ پارلیمنٹ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مذہب کے نام پر آپس میں نہ لڑیں بلکہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مسجد، مدرسے یا مذہبی مقام کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو قانونی طریقے سے احتجاج کیا جائے اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے۔
آخر میں ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور سڑک سے لے کر پارلیمنٹ اور عدالت تک ان کی لڑائی لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس مسجد سے متعلق وقف ریکارڈ اور دیگر دستاویزات موجود ہیں، جو عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ انصاف ضرور ملے گا اور اگر کسی افسر نے قانون کے خلاف کام کیا ہے تو اس کا احتساب بھی ہوگا۔

