کردارِ علم و عمل اور پیغامِ حیات
از قلم: سید فیض علی شاہ قادری نیازی
امامُ المتقین، یعسوبُ الدین، امیرالمومنین حضرت سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم وہ عظیم المرتبت شخصیت ہیں جن کی ذاتِ اقدس علم، عمل، شجاعت، تقویٰ، عدل، حکمت، روحانیت اور عشقِ رسول ﷺ کا ایسا جامع مظہر ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ غیر نبی ہی نہیں بلکہ عام انبیاء کے سوا کسی ایسی ہستی کا تصور ممکن نہیں جس کی زندگی کے اتنے کثیر پہلو ہوں اور ہر پہلو بے مثل و بے مثال ہو۔
حضرت علیؑ خود ارشاد فرماتے ہیں:
وَسِبْطَا أَحْمَدَ وَلَدَايَ مِنْهَا
فَمَنْ مِنْكُمْ لَهُ سَهْمٌ كَسَهْمِي
ترجمہ:
اور احمد ﷺ کے دونوں نواسے فاطمہؓ سے میرے ہی بیٹے ہیں، تم میں سے کون ہے جسے میری طرح کا حصہ حاصل ہو؟
اور ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
أَنَا الدِّينُ لَا شَكَّ لِلْمُؤْمِنِينَ
بِآيَاتِ وَحْيٍ وَالْإِلْجَاءِ بِهَا
ترجمہ:
میں ہی دین ہوں، مومنوں کے لیے اس میں کوئی شک نہیں، اور آیاتِ وحی اس کی گواہی دے رہی ہیں۔
یہ اشعار دیوانِ علیؑ سے اس حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں کہ آپ کی ذات دینِ اسلام کی عملی تصویر ہے۔
ولادتِ کعبہ — آغازِ نور
حضرت علیؑ کی ولادت 13 رجب المرجب، جمعہ کے دن، عامُ الفیل کے واقعہ کے تیس سال بعد، ہجرت سے 23 برس قبل، بمطابق 17 مارچ 599ء کو مکہ مکرمہ میں خانۂ کعبہ کے اندر ہوئی۔ یہ وہ انفرادیت ہے جو آپ کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ اس وقت حضور نبی اکرم ﷺ کی عمرِ مبارک تیس برس تھی۔
آپ بنی ہاشم کے چشم و چراغ تھے۔ والد حضرت ابو طالبؓ اور والدہ حضرت فاطمہ بنت اسدؓ دونوں ہاشمی تھے، یوں آپ نجیب الطرفین ہاشمی پیدا ہوئے۔ حضرت فاطمہ بنت اسدؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ حضور ﷺ نے خود ان کے کفن دفن کا انتظام فرمایا، اپنا قمیصِ مبارک کفن میں شامل کیا اور قبر میں اتر کر اسے متبرک فرمایا۔
عشقِ رسول ﷺ اور جانثاری
حضرت علیؑ کا عشقِ رسول ﷺ اپنی مثال آپ ہے۔ بچپن سے لے کر حضور ﷺ کے وصال تک آپ سایہ کی طرح ساتھ رہے۔ ہجرت کی رات جب کفار نے نبی اکرم ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا، تو آپؑ نے بسترِ رسول ﷺ پر سو کر جان کی بازی لگا دی۔ وہ رات خطرات سے بھرپور تھی مگر آپؑ فرماتے ہیں کہ مجھے سب سے اچھی نیند آئی، اس لیے کہ میرے آقا ﷺ نے فرمایا تھا کہ امانتیں ادا کر کے مدینہ آ جانا۔
غزوۂ اُحد کے موقع پر جب یہ افواہ پھیلی کہ حضور ﷺ شہید ہو گئے ہیں، تو حضرت علیؑ تنِ تنہا دشمنوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ تک پہنچے۔ اسی دن آپ کو “صف شکن” کا لقب ملا اور نعرۂ “نادِ علیاً” بلند ہوا۔
علم و حکمت کا باب
نبی اکرم ﷺ کا مشہور ارشاد ہے:
“أنا مدينةُ العلمِ وعليٌّ بابُها”
میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:
“علی اعلم الناس بالسنۃ”
(حضرت علیؑ سنت کے سب سے بڑے عالم ہیں)
حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے کہ قرآن کے دس حصے علم میں سے نو حضرت علیؑ کو عطا کیے گئے اور دسویں حصے میں بھی وہ لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔
حضرت علیؑ وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے کھلے عام فرمایا:
“سلونی قبل أن تفقدونی”
مجھ سے پوچھو قبل اس کے کہ مجھے نہ پاؤ۔
نحو و صرف جیسے بنیادی علومِ عربیہ کی بنیاد بھی آپؑ نے رکھی۔ حضرت ابو الاسود دؤلی کو قواعد مرتب کرنے کی ہدایت دے کر عربی زبان کو علمی ضابطہ عطا فرمایا۔ اگر یہ کہا جائے کہ عربی علوم کے بانی حضرت علیؑ ہیں تو یہ کوئی مبالغہ نہیں۔
عدل، شجاعت اور روحانیت
حضرت علیؑ کی زندگی عدل و انصاف، زہد و تقویٰ، شجاعت و بہادری اور روحانی بلندیوں کا حسین امتزاج ہے۔ مولانا رومؒ آپ کی زبان میں فرماتے ہیں:
غرقِ نورم گرچہ سقیم شد خراب
روز گشتم گرچہ ہشتم بو تراب
یعنی میرا باطن نور سے لبریز ہے اگرچہ میرا ظاہر درویشانہ ہے۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ فرماتے ہیں:
تمیز مرتبہ کن گر تو چشمِ حق داری
ابو البشر آدم با ابو تراب علیؑ
شہادت — کامیابی کی معراج
21 رمضان المبارک 40 ہجری کو کوفہ کی مسجد میں زہر آلود تلوار سے وار کیا گیا۔ ضرب لگتے ہی آپؑ کی زبان پر یہ الفاظ تھے:
“فزتُ وربِّ الكعبہ”
ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔
آپؑ کی عمر 63 برس تھی۔ مزارِ مبارک نجف اشرف میں مرجعِ خلائق ہے۔
پیغامِ علیؑ آج کے انسان کے لیے
حضرت علیؑ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم، فتنہ، ناانصافی اور جبر کے دور میں بھی استقامت، حکمت اور حق پر ثابت قدمی ہی نجات کا راستہ ہے۔ آج امت جن حالات سے دوچار ہے، ان کا حل سیرتِ نبوی ﷺ اور کردارِ حیدریؑ میں موجود ہے۔
علامہ میکش اکبرآبادیؒ کے الفاظ میں:
علی کا علم ہے حزب و سرور و وجد و حضور
علی علم کا نہیں بحثِ شیعی و حنفی
حضرت علیؑ کی ولادت، سیادت، قیادت اور شہادت — سب اسلام اور رسولِ اسلام ﷺ کے لیے تھیں۔ انہی کی پیروی میں دنیا و آخرت کی کامیابی مضمر ہے۔

سید فیض علی شاہ قادری نیازی
آستانہ حضرت میکش
خانقاہ قادریہ نیازیہ، میوہ کٹرہ، آگرہ
درگاہ حضرت سید امجد علی شاہ قادریؓ
(پنجہ مدرسہ، آگرہ)

