علی گڑھ (ایس۔ منیر) عیدِ غدیر کے موقع پر سر سید نگر کی سید کالونی میں واقع خانقاہِ نیازیہ میں النیاز ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام جشنِ عیدِ غدیر کا پُروقار انعقاد عمل میں آیا، جس میں اہلِ بیتِ اطہارؑ کے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر پیرِ طریقت ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے عیدِ غدیر کی تاریخی، دینی اور روحانی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غدیر صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق، قیادت، عدل اور اسلامی وحدت کا ایسا دائمی منشور ہے جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ غدیرِ خم اسلامی تاریخ کا وہ عظیم موڑ ہے جہاں رسالت اور ولایت کا بے مثال سنگم دنیا کے سامنے ظاہر ہوا۔ حجۃ الوداع سے واپسی کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے غدیرِ خم کے مقام پر ہزاروں صحابۂ کرام کی موجودگی میں حضرت علی ابن ابی طالبؑ کا دستِ مبارک بلند کرکے انہیں امت کا رہنما اور رہبر متعارف کرایا۔ اسی موقع پر رسول اکرم ﷺ کا تاریخی ارشاد “من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ” گونجا، جس کی صدائیں آج بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔
ڈاکٹر عباس نیازی نے کہا کہ غدیر کا پیغام کسی مخصوص زمانے یا نسل کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ قیادت کا حق اسی شخصیت کو حاصل ہونا چاہیے جو علم، تقویٰ، عدل اور خدا سے قربت میں ممتاز مقام رکھتی ہو۔
انہوں نے کہا کہ آج مسلم معاشرہ جن بحرانوں، انتشار، فرقہ واریت، اخلاقی زوال اور فکری کمزوریوں کا شکار ہے، اس کی ایک بڑی وجہ غدیر کے حقیقی پیغام سے دوری ہے۔ اگر امتِ مسلمہ غدیر کے پیغام کو صحیح معنوں میں سمجھ لے تو اس کے بیشتر مسائل خود بخود حل ہوسکتے ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ولایت کے مفہوم کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ولایت صرف اقتدار یا حکومت کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، خواہشات اور انا کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دینے کا نام ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کو الٰہی اصولوں کے مطابق ڈھالتا ہے تو وہ حقیقی ولایت کے راستے پر گامزن ہوتا ہے۔
انہوں نے حضرت علی المرتضیٰؑ کی حیاتِ مبارکہ کو عدل، ایثار، خدمتِ خلق اور حق گوئی کا روشن نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپؑ نے ہمیشہ انصاف کو اقتدار پر، حق کو مفادات پر اور انسانیت کو ذاتی خواہشات پر ترجیح دی۔
تقریب کے دوران مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰؑ کی بارگاہ میں منظوم نذرانۂ عقیدت بھی پیش کیا گیا، جسے حاضرین نے انتہائی عقیدت و محبت کے ساتھ سماعت کیا۔ اہلِ بیتِ اطہارؑ کی عظمت، قربانیوں اور خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے حاضرین اشک بار ہوگئے اور محفل روحانیت و محبت کے رنگ میں رنگ گئی۔
تقریب کے اختتام پر فاتحہ خوانی اور اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا، جبکہ شرکاء میں لنگر تقسیم کیا گیا جو اسلامی اخوت، مساوات اور محبت کی خوبصورت علامت ہے۔
اس موقع پر علی زمان نیازی، علی فخری نیازی، علی حسنین نیازی، سرور عظیم نیازی، حیدر علی نیازی، کریم نیازی، روحان نیازی، حافظ فرقان نیازی، عاطف نیازی، صفدر نیازی، جعفر نیازی سمیت بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود رہے۔

