بھوپال: مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی سکریٹری محمد عمر قاسمی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مبینہ ویڈیو کے حوالے سے نازیہ الٰہی کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع خرگون کے کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ایک یادداشت پیش کی۔
یادداشت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ مبینہ ویڈیو میں نازیہ الٰہی کی جانب سے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مبینہ طور پر کیے گئے قابلِ اعتراض بیانات سے مسلم برادری کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔ یادداشت کے مطابق اس نوعیت کے مبینہ بیانات سماجی ہم آہنگی، باہمی بھائی چارے اور امن و امان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
محمد عمر قاسمی نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) سمیت دیگر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت نازیہ الٰہی کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اگر تحقیقات میں قانونی بنیادیں سامنے آئیں تو معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے قومی سلامتی ایکٹ (NSA) کے تحت بھی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یادداشت میں انتظامیہ کے سامنے چار اہم مطالبات رکھے گئے ہیں، جن میں مبینہ ویڈیو اور بیانات کی فوری اور غیر جانبدارانہ جانچ، متعلقہ شخص کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مبینہ قابلِ اعتراض مواد کو ہٹانے کی کارروائی، اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
اس موقع پر محمد عمر قاسمی نے کہا کہ ہندوستان مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا ملک ہے، جہاں ہر مذہب اور اس کی مقدس شخصیات کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مذہب، اس کی مقدس ہستیوں یا مذہبی عقائد کے خلاف مبینہ توہین آمیز بیانات سماجی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ، فوری اور مؤثر تحقیقات کرکے قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے۔

