آگرہ: سروجنی نائیڈو میڈیکل کالج (ایس این میڈیکل کالج) آگرہ کے ڈاکٹروں نے اپنی اعلیٰ طبی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نہایت پیچیدہ علاج کامیابی کے ساتھ انجام دے کر بتیس سالہ شدید علیل مریض کی جان بچا لی۔
اس کامیابی پر کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر پرشانت گپتا نے پوری طبی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ شعۂ شعاعی علاج، شعبۂ بے ہوشی، شعبۂ امراضِ معدہ و جگر اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ڈاکٹروں نے باہمی تعاون اور تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کی مسلسل محنت سے اس انتہائی مشکل علاج کو کامیابی سے مکمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس این میڈیکل کالج میں اعلیٰ درجے کی طبی سہولیات کی دستیابی خطے کے سنگین مریضوں کے لیے بڑی راحت ہے۔
مریض کی حالت انتہائی نازک تھی
بتیس سالہ مریض جگر کی پرانی بیماری اور جگر کی رگوں میں غیر معمولی دباؤ کے باعث شدید تکلیف میں مبتلا تھا۔ اس کے پیٹ میں مسلسل پانی بھر رہا تھا اور خون کی رگوں سے بار بار خون بہنے کی شکایت تھی۔ حالت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ روزانہ تقریباً دو لیٹر پانی نکالنا پڑتا تھا۔
علاج کیسے کیا گیا؟
ڈاکٹروں نے مکمل بے ہوشی کی حالت میں تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والے علاج کے دوران گردن کی ایک رگ کے ذریعے جگر کے اندر دو اہم خون کی نالیوں کے درمیان ایک باریک دھاتی نالی نصب کی، جس کے ذریعے جگر پر خون کا دباؤ کم ہو گیا۔ اس کامیاب علاج سے مریض کو مستقبل میں جگر کی پیوندکاری تک محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔
مریض صحت یاب ہو کر گھر روانہ
علاج کے بعد مریض کو پانچ دن تک ڈاکٹروں کی خصوصی نگرانی میں رکھا گیا۔ حالت میں مسلسل بہتری آنے اور کسی بھی پیچیدگی کے آثار نہ ہونے پر اسے صحت یاب ہونے کے بعد اسپتال سے رخصت کر دیا گیا۔
مشترکہ کوشش سے ملی کامیابی
اس کامیاب علاج میں شعۂ شعاعی علاج، شعبۂ امراضِ معدہ و جگر، شعبۂ بے ہوشی، شعبۂ داخلی طب اور شعبۂ امراضِ قلب کے ڈاکٹروں نے مشترکہ طور پر خدمات انجام دیں۔
شعۂ شعاعی علاج کے ڈاکٹر پلّو گپتا نے بتایا کہ شعبۂ شعاعی تشخیص کے صدر ڈاکٹر ہری سنگھ کا خصوصی تعاون حاصل رہا، جبکہ ڈاکٹر اتی ہرش موہن نے علاج سے پہلے اور بعد مریض کی مسلسل نگرانی کرکے اہم کردار ادا کیا۔

