منگیر/بھاگلپور، 20 جولائی: منگیر یونیورسٹی، منگیر کے شعبۂ اردو (پوسٹ گریجویٹ) کے سمسٹر چہارم (2024-26) کے طلبہ و طالبات کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر “خواتین کی تعلیم اور اردو” کے موضوع پر ایک فکر انگیز سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر شعبے کے اساتذہ، طلبہ و طالبات اور متعدد معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ مقررین نے خواتین کی تعلیم، اردو زبان کی اہمیت اور نئی نسل کی تعلیمی و ادبی ذمہ داریوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

تقریب کا آغاز یونیورسٹی کے ترانے سے ہوا، جس کے بعد مہمانانِ خصوصی نے شمع روشن کرکے پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔ پورا ہال علمی اور ادبی ماحول سے معطر رہا اور طلبہ و طالبات نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔
تقریب کی صدارت شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر ڈاکٹر شاہد رضا جمال نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ الوداعی تقریب کسی سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ صرف تعلیم حاصل کرنے تک خود کو محدود نہ رکھیں بلکہ معاشرے میں علم کی روشنی پھیلانے کا بھی عزم کریں۔ انہوں نے کہا: “اندھیرے کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ایک چراغ جلایا جائے۔” نوجوانوں کو مثبت سوچ کے ساتھ معاشرے میں علم اور بیداری عام کرنی چاہیے۔
مہمانِ خصوصی اور جے آر ایس کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر اقبال حسن آزاد نے طلبہ و طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حقیقی زندگی کا سفر اب شروع ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ڈگری حاصل کرنا ہی کامیابی نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو معاشرے اور ملک کی خدمت میں استعمال کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ انہوں نے خصوصاً طالبات کو تعلیم کے ذریعے خود کو بااختیار بنانے اور سماجی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔
اس موقع پر شعبۂ ہندی کے صدر ڈاکٹر ہریش چندر شاہی، شعبۂ تاریخ کے صدر پروفیسر گریش چندر پانڈے، ڈاکٹر شاہد اختر انصاری، ڈاکٹر سبیحہ نسرین، ڈاکٹر اجے کمار اور ڈاکٹر انشو رائے نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے خواتین کی معیاری تعلیم، اردو زبان و ادب کی خدمات اور نئی نسل کی ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی ترقی کے لیے خواتین کی تعلیم ناگزیر ہے اور اردو ہماری تہذیبی و ادبی وراثت کا اہم حصہ ہے۔
سیمینار کے دوران طلبہ و طالبات نے بھی موضوع پر مؤثر تقاریر پیش کیں۔ بہترین مقررین میں زاہدہ نواز نے اول، شمع پروین نے دوم اور واحدہ نواز نے سوم مقام حاصل کیا۔
آخر میں تمام مہمانوں، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں آصف علی، جمی، شہاب الدین، ابو بکر، شگفتہ، تسلیم کوثر، انعام الحق، بابر، فرحین، عرشی روزی، نایاب اور ترنم سمیت متعدد طلبہ و طالبات نے اہم کردار ادا کیا۔ الوداعی تقریب خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور سب نے ایک دوسرے کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

