رپورٹ: ایس۔ منیر
علی گڑھ
محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور کے مجوزہ انہدام کے خلاف سماجوادی پارٹی نے شہر صدر عبدالحمید گھوسی کی قیادت میں علی گڑھ کلکٹریٹ پر دھرنا اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کے بعد پارٹی کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے صدرِ جمہوریہ ہند کے نام ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے یونیورسٹی کے انہدام کے مجوزہ فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر سماجوادی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ تعلیمی اداروں سے متعلق معاملات میں آئین، قانون اور انصاف کے اصولوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے اور کسی بھی فیصلے سے قبل تمام قانونی اور آئینی پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
اس دوران سماجوادی پارٹی نے پولیس کے طرزِ عمل پر بھی سنگین الزامات عائد کیے۔ پارٹی کے مطابق دو روز قبل سوشل میڈیا پر ایک مبینہ آڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں سماجوادی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لینے کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالے جانے کی بات سامنے آئی تھی۔ پارٹی کا الزام ہے کہ اسی کے بعد پولیس نے مبینہ طور پر انتقامی کارروائی کرتے ہوئے یادداشت پیش کرنے کے پروگرام کے دوران شہر صدر محسن میواتی کو تلاش کرنے اور حراست میں لینے کی کوشش کی۔
پارٹی کے مطابق جب محسن میواتی نے اس کارروائی پر اعتراض کیا اور ملائم سنگھ یوتھ بریگیڈ کے ریاستی سکریٹری ایڈووکیٹ عمران پٹھان، اسرار سولنکی اور عرفان خان نے بھی مخالفت کی تو موقع پر موجود ایک پولیس افسر نے مبینہ طور پر اپنی سرکاری پستول نکال کر لہرا دی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے احتجاجی مقام پر موجود کارکنوں اور عام لوگوں میں خوف و ہراس اور کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس کے بعد کارکنوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا اور پولیس کے رویے پر کئی سنگین سوالات اٹھنے لگے۔
پارٹی کے مطابق صورتِ حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سی او دوم اور سی او سوم موقع پر پہنچے اور دونوں فریقوں سے بات چیت کرکے حالات کو قابو میں کیا۔ بعد ازاں شہر صدر عبدالحمید گھوسی نے کارکنوں سے امن، صبر اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی، جس پر تمام کارکنوں نے پُرامن انداز میں یادداشت پیش کرکے احتجاج ختم کردیا۔
شہر صدر محسن میواتی نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کا پورا احتجاج آئینی، جمہوری اور پُرامن تھا، لیکن پولیس کی مبینہ انتقامی کارروائی اور نامناسب رویے کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوئی۔ انہوں نے پورے معاملے کی منصفانہ، شفاف اور اعلیٰ سطحی جانچ کرانے اور قصوروار افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ملائم سنگھ یوتھ بریگیڈ کے ریاستی سکریٹری ایڈووکیٹ عمران پٹھان نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو پُرامن اور جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے اور اپنی بات رکھنے کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی پولیس اہلکار نے پُرامن احتجاج کو دبانے یا کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ہے تو اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ اگر وائرل ویڈیو یا دیگر شواہد سے کسی افسر کی بدسلوکی ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
سماجوادی پارٹی نے واضح کیا کہ اگر جمہوری احتجاج کو دبانے یا سیاسی انتقام کی کارروائیاں جاری رہیں تو پارٹی آئینی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پارٹی نے پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون کا یکساں اور غیر جانبدارانہ نفاذ ہی جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
نوٹ: پولیس کے رویے سے متعلق تمام الزامات سماجوادی پارٹی کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔ خبر لکھے جانے تک پولیس کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا تھا۔

