کینسر میں مبتلا اہلیہ کی عیادت اور علاج میں مدد کے لیے ملی پیرول، جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے کی پیروی
نئی دہلی، 4 ستمبر: ٹاڈا قانون کے تحت عمر قید کی سزا کاٹ رہے مسلم قیدی اشفاق کو سپریم کورٹ آف انڈیا سے بڑی راحت ملی ہے۔ گزشتہ 32 برسوں سے جے پور سینٹرل جیل میں قید اشفاق کو عدالت عظمیٰ نے اپنی کینسر سے جوجھ رہی اہلیہ کی عیادت اور علاج میں مدد کے لیے دو ہفتوں کی ایمرجنسی پیرول پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اشفاق کی پیرول پر رہائی کی درخواست پہلے جے پور ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی، تاہم ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کردی تھی کہ اشفاق کے بچے گھر میں موجود ہیں اور وہ اپنی والدہ کی دیکھ بھال کرسکتے ہیں۔
ہائی کورٹ سے درخواست مسترد ہونے کے بعد اشفاق کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی سے رجوع کیا۔ اہل خانہ کی درخواست پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے انسانی بنیادوں پر معاملہ سپریم کورٹ لے جانے کا فیصلہ کیا۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ چاند قریشی نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی، جبکہ ایڈووکیٹ مجاہد احمد نے چار سماعتوں کے دوران اشفاق کی جانب سے عدالت میں دلائل پیش کیے۔
اہلیہ کینسر کے پانچویں مرحلے میں مبتلا
عدالت میں دلیل دی گئی کہ اشفاق کی اہلیہ کینسر کے پانچویں مرحلے میں ہیں اور ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ ایسے مشکل وقت میں شوہر کی موجودگی نہ صرف اہلیہ کے لیے حوصلے کا باعث ہوگی بلکہ وہ علاج اور دیگر طبی سہولیات کے انتظام میں بھی مدد کرسکتے ہیں۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ماضی میں اشفاق کو پیرول پر رہائی مل چکی ہے اور انہوں نے پیرول کا غلط فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ مقررہ مدت مکمل ہونے پر خود جیل میں واپس پہنچ گئے تھے۔
سرکاری وکیل نے اشفاق کی پیرول کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ان کی اہلیہ کی دیکھ بھال کے لیے بچے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اشفاق کو ٹاڈا قانون کے تحت عمر قید کی سزا ہوئی ہے، اس لیے انہیں پیرول پر رہا نہیں کیا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے انسانی بنیاد پر دی راحت
فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے اشفاق کو دو ہفتوں کی ایمرجنسی پیرول پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گھر میں بچوں کا موجود ہونا اشفاق کی پیرول کی درخواست مسترد کرنے کی مناسب وجہ نہیں ہے۔ بیماری کے دوران شوہر کی موجودگی بیوی کے لیے حوصلے کا باعث بن سکتی ہے اور شوہر اپنی اہلیہ کے علاج اور طبی ضروریات میں مزید مدد فراہم کرسکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اشفاق کو پیرول کے دوران ہر تیسرے دن متعلقہ پولیس اسٹیشن میں حاضری لگانے کی بھی ہدایت دی ہے۔
ریمیشن کی درخواست بھی مسترد ہوچکی ہے
واضح رہے کہ ٹاڈا قانون کے تحت عمر قید کی سزا پانے والے قیدیوں کے لیے سزا میں تخفیف یعنی ریمیژن حکومت کے اختیار میں ہوتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اشفاق اور ان کے دیگر ساتھیوں کی سزا میں تخفیف کی درخواست حکومت کی جانب سے مسترد کی جاچکی ہے۔
ایسے میں اشفاق کے اہل خانہ کو پیرول کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کی پیروی کے بعد سپریم کورٹ نے اب اشفاق کو ان کی شدید بیمار اہلیہ کے پاس رہنے کے لیے دو ہفتوں کی ایمرجنسی پیرول منظور کرلی ہے۔
— نمائندہ، TIMES OF TAJ
