آگرہ:مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبۂ جمعہ میں مسلمانوں کو اسلامی تاریخ اور ہجری تقویم سے غفلت کے خطرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی تہذیبی و دینی شناخت کو فراموش کرنا کسی قوم کی زوال کا آغاز ہوتا ہے۔
خطبے میں انہوں نے 1957 کے ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک مشہور مورخ پڑوسی ملک کے دورے پر گیا۔ ایک سیمینار کے اختتام پر ایک معروف مصنف اور سرکاری افسر autograph لینے آیا۔ مورخ نے دستخط کیے اور میزبان سے پوچھا:
“میں ہجری تاریخ بھی لکھنا چاہتا ہوں… کیا آپ بتائیں گے کہ آج کون سی تاریخ ہے؟”
میزبان یہ سن کر شرمندہ ہوگیا۔ مورخ نے خود تاریخ لکھتے ہوئے کہا:
“جو لوگ اپنی تاریخ ہی بھول جائیں، وہ نئی تاریخ کیسے بنا سکتے ہیں؟ تاریخ تقریروں سے نہیں، عمل سے بنتی ہے۔”
محمد اقبال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ستر سال گزرنے کے باوجود آج بھی مسلمان ہجری تاریخ سے بے خبر ہیں۔ انہوں نے کہا:
“اپنی تاریخ کو بھلا دینا جرم جیسی بات ہے۔ جب آپ تاریخ کو بھولیں گے، تاریخ بھی آپ کو بھلا دے گی۔”
“ہمارا ماضی چاہے کتنا ہی تابناک ہو، اصل سوال یہ ہے کہ آج ہم کیا کر رہے ہیں؟”
“جو قوم اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتی، اس کی تاریخ میں کوئی حیثیت نہیں رہتی اور دنیا و آخرت میں ذلت مقدر بنتی ہے۔”
انہوں نے نمازیوں پر زور دیا کہ وہ خود بھی دینی و تاریخی معلومات میں باخبر رہیں اور اپنے بچوں کو بھی اس شعور سے آراستہ کریں۔
آخر میں انہوں نے دعا کی:
“اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ اور شعور عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین”
خطبے میں انہوں نے 1957 کے ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک مشہور مورخ پڑوسی ملک کے دورے پر گیا۔ ایک سیمینار کے اختتام پر ایک معروف مصنف اور سرکاری افسر autograph لینے آیا۔ مورخ نے دستخط کیے اور میزبان سے پوچھا:
“میں ہجری تاریخ بھی لکھنا چاہتا ہوں… کیا آپ بتائیں گے کہ آج کون سی تاریخ ہے؟”
میزبان یہ سن کر شرمندہ ہوگیا۔ مورخ نے خود تاریخ لکھتے ہوئے کہا:
“جو لوگ اپنی تاریخ ہی بھول جائیں، وہ نئی تاریخ کیسے بنا سکتے ہیں؟ تاریخ تقریروں سے نہیں، عمل سے بنتی ہے۔”
محمد اقبال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ستر سال گزرنے کے باوجود آج بھی مسلمان ہجری تاریخ سے بے خبر ہیں۔ انہوں نے کہا:
“اپنی تاریخ کو بھلا دینا جرم جیسی بات ہے۔ جب آپ تاریخ کو بھولیں گے، تاریخ بھی آپ کو بھلا دے گی۔”
“ہمارا ماضی چاہے کتنا ہی تابناک ہو، اصل سوال یہ ہے کہ آج ہم کیا کر رہے ہیں؟”
“جو قوم اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتی، اس کی تاریخ میں کوئی حیثیت نہیں رہتی اور دنیا و آخرت میں ذلت مقدر بنتی ہے۔”
انہوں نے نمازیوں پر زور دیا کہ وہ خود بھی دینی و تاریخی معلومات میں باخبر رہیں اور اپنے بچوں کو بھی اس شعور سے آراستہ کریں۔
آخر میں انہوں نے دعا کی:
“اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ اور شعور عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین”

