تحریر: اظہر عمری
اسلام محض عبادات کا مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جو انسان کی ذاتی زندگی، خاندانی نظام اور سماجی ڈھانچے کو متوازن رکھنے کے واضح اصول فراہم کرتا ہے۔ نکاح اسی اسلامی نظام کی ایک بنیادی اکائی ہے، جس کا مقصد سکون، عفت اور پاکیزہ نسل کی بنیاد رکھنا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ کیا کسی شراب پینے والے شخص سے لڑکی کا نکاح شریعتِ اسلامی میں جائز ہے؟
شراب: شریعت میں صریحاً حرام
قرآنِ کریم میں شراب (خمر) کو واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شراب شیطانی کاموں میں سے ہے، جن سے اجتناب ہی فلاح اور کامیابی کا راستہ ہے۔ لہٰذا شراب نوشی محض ایک شخصی کمزوری نہیں بلکہ کبیرہ گناہ ہے، جو انسان کے دین، عقل، اخلاق اور پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے۔
شراب پینے والا اور نکاح کا حکم
علمائے کرام کے مطابق اگر کوئی شخص شراب پیتا ہے لیکن اس کے حرام ہونے کا اقرار کرتا ہے، تو فقہی اعتبار سے اس کا نکاح واقع ہو سکتا ہے، یعنی ایسا نکاح خود بخود فاسد نہیں ہوتا۔
تاہم اس کے باوجود، ایسے شخص سے نکاح کو ناپسندیدہ (مکروہ) اور خطرات سے بھرپور قرار دیا گیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ شراب کی لت انسان کی ذمہ داری، گھریلو سکون اور اولاد کی تربیت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ ایک شرابی شوہر نہ صرف بیوی کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے بلکہ اکثر گھریلو تنازعات، معاشی بدحالی اور ذہنی دباؤ کا سبب بھی بنتا ہے۔
شراب کو حلال سمجھنے والا: نہایت سنگین معاملہ
اگر کوئی شخص شراب کو حرام ماننے سے انکار کرے اور اسے حلال سمجھے، تو یہ معاملہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ شریعت میں حرام کو حلال ٹھہرانا ایمان کے لیے خطرناک تصور کیا گیا ہے۔
ایسے شخص سے نکاح جائز نہیں، کیونکہ یہ صریح طور پر شریعت کے بنیادی اصولوں سے تصادم ہے۔
حدیث کی کسوٹی: دین اور اخلاق
نبی کریم ﷺ کا واضح فرمان ہے کہ جب کسی لڑکی کے لیے ایسا رشتہ آئے جس کے دین اور اخلاق سے اطمینان ہو، تو اس سے نکاح کر دیا جائے۔
اس حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو شراب نوشی کی عادت رکھنے والا شخص نہ دین کی مضبوطی پر پورا اترتا ہے اور نہ ہی اخلاق کی کسوٹی پر۔
والدین کی ذمہ داری
لڑکی کے والدین (یا اولیاء) پر یہ عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کے لیے ایسا شریکِ حیات منتخب کریں جو دیندار، نیک سیرت اور قابلِ اعتماد ہو۔
جان بوجھ کر کسی شرابی شخص سے نکاح کرنا لڑکی کے مستقبل، اس کی عزت اور آنے والی نسل کے لیے شدید نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
توبہ اور اصلاح کی گنجائش
اسلام رحمت اور اصلاح کا مذہب ہے۔ اگر کوئی شخص شراب سے سچی توبہ کر لے، اسے مکمل طور پر ترک کر دے اور اس کی زندگی میں دینداری اور عملی اصلاح کے آثار نمایاں ہو جائیں، تو ایسے شخص سے نکاح پر غور کیا جا سکتا ہے۔
لیکن محض زبانی دعویٰ کافی نہیں، بلکہ عملی تبدیلی اور استقامت لازمی ہے۔
نتیجہ
شریعتِ اسلامی کا مقصد نکاح کو محض ایک رسم نہیں بلکہ سکون، امن اور صالح نسل کی بنیاد بنانا ہے۔ لہٰذا:
- شراب پینے والے سے نکاح سے اجتناب بہتر ہے
- شراب کو حلال سمجھنے والے سے نکاح ناجائز ہے
- توبہ اور حقیقی اصلاح کے بعد ہی کسی فیصلے پر پہنچنا چاہیے
آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نکاح کو مضبوط دینداری اور اعلیٰ اخلاق سے جوڑیں، نہ کہ سماجی دباؤ یا وقتی مجبوریوں سے۔ یہی شریعت کی حکمت ہے اور یہی ایک مضبوط اور صالح مسلم معاشرے کی پہچان ہے۔

