رپورٹ ایس منیر
علی گڑھ۔ امیر المومنین علی علیہ السلام کے فضائل و کمالات کے متعلق کچھ کہنا، لکھنا یا بتانا جس قدر آسان ہے، اتنا ہی مشکل ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ علی علیہ السلام فضائل و کمالات کا ایسا بیکراں سمندر ہیں جس میں انسان جتنا غوطہ لگاتا جائے گا اتنا زیادہ فضائل کے موتی حاصل کرتا جائے گا یہ ایسا سمندر ہے جسکی تہہ تک پہنچنا ناممکن ہے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام کے فضائل کے متعلق بس یہ سمجھ لیں کہ اس شخص کی توصیف و تعریف کیا ہی کی جا سکتی ہے ،جسکے دشمنوں نے حسادت اور دوستوں نے دشمنوں کے خوف سے اسکے فضائل پر پردہ پوشی کی ہو ان دو کرداروں کے درمیان مشرق سے مغرب تک فضائل کی دنیا آباد ہے۔ یہ بات پیر طریقت ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے سر سید کے سیدکالونی میں واقع خانقاہ نیازیہ میں النیاز ایجوکیشن اینڈ ویل فیئر فاونڈیشن کی جانب سے منعقد جشن مولود کعبہ کے موقع پر عقیدتمندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
پیر طریقت ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے خطاب کرتے ہوئے مذید کہا امام المتقین ،امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولادت عام الفیل کے ۳۰؍ برس بعد ۱۳؍ رجب المرجب کو خانہ کعبہ کے اندر ہوئی، جو تاریخ اسلام کا ایک اہم واقعہ ہے، آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ کے اندر پیدا نہ ہوا، جسکی وجہ سے یہ آپ کی عظیم فضیلت تسلیم کی جاتی ہےباب العلم علی علیہ السلام کے فضائل ومناقب اور کردار وکارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق روشن ہیں اور صبح قیامت تک لوگ ہدایت وراہ نمائی حاصل کرتے رہیں گے۔آپکا نام علی، لقب حیدر ومرتضیٰ، کنیت ابوالحسن اور ابو تراب ہے، آپکے والد ابو طالب او رحضور صلی الله علیہ وسلم کے چچا ہیں، آپکی والدہ کا اسم گرامی فاطمہ بنت اسد ہے، آپ ماں باپ دونوں جانب سے ہاشمی ہیں۔خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی کی شہادت کے بعد حضرت علی علیہ السلام تین ماہ کم پانچ سال تک تخت خلافت پر متمکن رہنے کے بعد عبدالرحمن بن ملجم کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد۲۱؍رمضان المبارک کو جامِ شہادت نوش فرماکر شہادت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوئے ۔
اپنے خطاب میں پیر طریقت ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے مذید کہا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام میں ہاشمی سرداروں کی سبھی خصوصیات موجود ہیں، جو چہرے سے عیاں تھیں۔ عبادت وریاضت کے آثار بھی چہرے پر موجود تھے، چہرے پر مسکراہٹ او رپیشانی پر سجدے کے نشان ، گفت گو علم وحکمت اور دانائی سے بھرپور ہوتی ،بچپن سے نہ صرف حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہے، بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم ہی کی آغوش ِ محبت میں پرورش پائی، آپ نے انکے ساتھ بالکل فرزند کی طرح معاملہ کیا او راپنی دامادی کا شرف بھی عطا فرمایا، حضور صلی الله علیہ وسلم کی بیٹی خاتون ِ جنت سیدہ حضرت فاطمة الزہراکے ساتھ آپ کا ناح ہوا اور ان سے آپکی اولاد ہوئی۔آپ میدان ِ جنگ میں تلوار کے دھنی اور مسجد میں زاہد شب بیدار تھے، مفتی وقاضی اور علم وعرفان کے سمندر تھے، عزم وحوصلہ میں ضرب المثل، خطابت وذہانت میں بے مثل، حضور صلی الله علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد، ہیں آپ میں فضیلتیں بے شمار ہیں،آپ سخی وفیاض، دوسروں کا دکھ بانٹنے والے، عابد وپرہیز گار، مجاہد وجاں باز ایسے تھے کہ نہ دنیا کو ترک کیا، نہ آخرت سے کنارہ کشی فرمائی،آپ میں عجز وانکساری نمایاں تھی، ان سب کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزاری ،غلاموں کو آزاد کرتے، دور خلافت میں بازاروں کا چکر لگا کر قیمتوں کی نگرانی فرماتے ،وہاں جو لوگ راستہ بھول ہوئے ہوتے انہیں راستہ بتاتے، بوجھ اٹھا نے میںوالوں کی مدد کرتے۔ گدا گری سے لوگوں کو روکتے تھے، جب نماز کا وقت آتا تو آپکے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا اور چہرے پر زردی چھا جاتی، کسی نے اسکی وجہ پوچھی تو فرمایا اس امانت کی ادائیگی کا وقت ہے، جسے الله نے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر اتارا تو وہ اس بوجھ کو اٹھانے سے عاجز ہو گئے، تقوی اور خشیت الہٰی آپ میں بہت زیادہ تھی، ایک بار آپ ایک قبرستان میں بیٹھے تھے کہ کسی نےکہا اے ابوالحسن! یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ فرمایا میں ان لوگوں کو بہت اچھا ہم نشین پاتا ہوں، یہ کسی کی بد گوئی نہیں کرتے اور آخرت کی یاد دلاتے ہیں۔ علی علیہ السلام نہایت ہی طاقتور تھے، فیصلے کی بات کہتے تھے اور عدل وانصاف کے ساتھ حکم دیتے، علم وحکمت انکے اطراف سے بہتے، دنیا او راس کی تازگی سے متوحش ہوتے تھے، رات کی تنہائیوں اور وحشتوں سے انس حاصل کرتے تھے۔ علی علیہ السلام غزوہٴ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شریک ہوئے، ہر معرکے میں آپ نے اپنی شجاعت وبہادری اور فدا کار ی کا لوہا منوایا، بدر واحد، خندق وحنین او رخیبر میں اپنی جرأ ت وبہادری کے خوب جوہر دکھائے ہجرت کی شب حضور صلی الله علیہ وسلم کے بستر مبارک پر آرام فرما ہوئے اور آپ نے آخری وقت میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی تیمار داری کے فرائض انجام دیے آپ بیعت رضوان میں بھی شریک رہے، آپ اصحاب بدربھی ہیں،، مکی زندگی میں نبی کریم کے ساتھ ہر قسم کے مصائب ومشکلات کو برداشت کیا ، حضور صلی الله علیہ وسلم نے آپ صلی الله علیہ وسلم نے آپ کو اپنے ساتھ وہی نسبت دی جو حضرت موسی علیہ السلام کو حضرت ہارون علیہ السلام سے تھی۔
اس موقع پر علی زمن نیازی، علی فخری نیازی، علی حسنین نیازی، سرور عظیم نیازی، حیدر علی نیازی ، کریم نیازی، روحان نیازی، حافظ فرقان نیازی، عاطف نیازی، صفدر نیازی، جعفر نیازی وغیرہ کے علاوہ بڑی تعداد میں عقیدتمند موجود تھے۔
اس موقع پر بعد نماز عصر محفل میلاد کا اہتمام کیا گیا اور پھر بعد نماز مغرب منقبت اور زکر کیا کیا پروگرام کے اختتام پر فاتحہ خوانی اور دسترخوان کااہتمام کیا گیا، ملک میں امن و امان کے لیے دعا کی گئی۔

