ضلع علیگڑھ کے لیاقت باغ(چلکورہ) میںامام علی ؑ کی یوم ولادت پر محفل میلاد کا اہتمام زیر تعمیر کربلا میں کیا گیا ، اس موقع پرکثیر تعداد میںعقیدتمندوں نے خراج عقیدت پیش کیا

اس موقع پر علی حسنین نیازی نےکہا کہ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنکی آب وتاب مطلع ولایت و خلافت پر ہمیشہ چمکتی دمکتی رہے گی۔آپکی عظمت وشان ، مقام ومرتبہ ، علم وعمل، زہد و تقوی ،فضل و کمال ،جود وسخا، شجاعت وبہادری ، حکمت ودانائی اور قضا وقدر کی گرانقدر صلاحیتیں اہل علم کے قریب تواترسے ثابت ہیں ، آپ کےسبھی محاسن وصفات کو زیب قرطاس کرنے کےلئے دفتر کے دفتر درکار ہیں۔آپکی ولادت ۱۳؍ رجب کو کعبہ میں ہوئی۔آپ وہ با کمال ہستی ہیں جن میں خدا کی عطا کردہ صلاحیتیں تربیت نبی سے کمال عروج پرایسی کو پہنچی کہ معاملہ فہمی ودانشمندی تاریخ کی صفحات میں روز روشن کی طرح عیاں ہیں قیامت تک علوم نبوت کے حقیقی وارث بن کر روحانیت کے پیشوا بنیں اور انکے بعد جسکو بھی فیض نبوت سے جو بھی حصہ ملا یا ملتا ہے وہ حضرت والا شان کی وساطت سے ہی ملا اور ملتا ہے۔حیدر کرار کی طاقت کا جوہر، ہر میدان میں برق خاطف کی طرح چمکا اور ہر مد مقابل باطل آپ کی جواں ہمتی کے آگے ٹہر ناسکا۔
انہوں نے کہا کہ علیؑ کے علمی جواہر پارے ، آپ کےملفوظات، ارشادات، عدالتی فیصلے ، حکمت کی باتیں ، شریعت کے فیصلے، غمگسار دعائیہ جملے، تصوف کےرموز، نالہ ہائے نیم شبی کی کیفیات، دعائیں سب فیضان نبوت کا پرتو ہیں کیونکہ آپ کو بچپن سے ہی حضور نبی کریم کی تربیت ملی، فیضان نبو ت کافیض بلاواسطہ آپکو ملا،پھر آپکے نصیب کی یاوری کہ آپکو داماد رسول بننے کی بھی سعادت ملی ۔ علیؑ کی عظمت وشان بیان کرنے سے قلم کاقاصر ہے کتب احادیث فضائل علی ،مقام علی، شان علی سے بھری پڑی ہیں اور جو مقام علی زبان رسالت سے بیان ہوا پھر مزید الفاظ کی گنجائش نہیں صرف محبتوں ، عقیدتوں کا نذرانہ پیش کرنے کےلئے آپ کے اوصاف بیان کیے جاتے ہیںشیر خدا، قوت یزداں مولائےکائنات امیر المومنین علیؑ کے اقوال زریں اہل ایمان کےلئے روشنی کے مینار ، ہدایت کے ستون ، زندگی کے اصول ، کامیابی کےنشان اور علم وعمل کے بہترین پھول ہیں جن سے استفادہ کر ناہر زمانے کی ضرورت ہے۔عبادات وریاضت ، زہد وتقوی، خوف خداو عشق رسول، غریبوں کی حاجت روائی ، یتیموں کی دیکھ بھال، بیواؤں کا خیال، بچوں پر شفقت ، اپنوں سے محبت ، دشمنان دین سے شدت اسکے علاوہ امور خلافت کی ذمہ داریاں ، سرحدوں کی حفاظت پھر انفرادی زندگی کے حالات وواقعات آج بھی اہل تحقیق کو مطالعہ کی دعوت دیتے ہیں ۔اس موقع پر کثیر تعداد میں عقیدت مند موجود تھے

