رپورٹ۔ ایس منیر
علی گڑھ۔ بین الاقوامی شہریافتہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لا کے ایل ایل ایم کے طالب علم اور سپریم کورٹ آف انڈیا میں پریکٹس کررہے معروف وکیل سید کیف حسن نے۷؍جنوری۲۰۲۶ کو جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں قائم اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو ایک تفصیلی میمورنڈم بھیجا ہے ۔ اسی میمورنڈکی نقل انہوں نے روم اسٹیچوٹ کے آرٹیکل۱۵؍ کے تحت انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی ) کے دفتر استغاثہ، دی ہیگ (نیدرلینڈز) کو بھی اطلاعاً ارسال کی۔
سید کیف حسن نے بتایا کہ یہ میمورنڈم اپنی انفرادی حیثیت میں ایک بین الاقوامی قانون کے ماہر اور عالمی سول سوسائٹی کے ذمہ دار رکن کے طور پر پیش کی، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر نظام کے تحفظ اور بالادستی کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے اپنی عرضداشت میں مؤقف اختیار کیا کہ ریاستہائے متحدہ امریکا نے وینزویلا کی فضائی حدود میں داخل ہو کر فضائی حملوں اور بمباری کے ذریعے بیرونی طاقت کے استعمال، جابرانہ نظامِ حکومت کی تبدیلی اور معاشی و عسکری دباؤ کے طریقوں کو بروئے کار لا کر عوام کی آزادانہ سیاسی خواہش کو پامال کیاگیا ہے۔انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ایک خودمختار ریاست کے برسراقتدار سربراہ کو نشانہ بنانے، انکے خلاف کارروائی اور مبینہ طور پر اغوا جیسے اقدامات کیے، جو کہ وینزویلا کے عوام کے حق خود ارادیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ حق اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل۱(۲) میں محفوظ ہے اور بین الاقوامی میثاق برائے شہری و سیاسی حقوق (آئی سی سی پی آر) اور بین الاقوامی میثاق برائے معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق( آئی سی ای ایس سی آر) کے مشترکہ آرٹیکل ایک سے بھی براہ راست متصادم ہے۔یادداشت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، جس سے بین الاقوامی انسانی قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر شہریوں یا شہری املاک کو نشانہ بنایا گیا تو یہ اقدامات آئی سی سی کے روم اسٹیچوٹ کے آرٹیکل۸؍ کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں چونکہ وینزویلا روم اسٹیچوٹ کا فریق ریاست ہے، اس لیے عدالت کو علاقائی دائرۂ اختیار حاصل ہے، خواہ مبینہ ملزمان کی شہریت کچھ بھی ہو،اپنے مؤقف کی روشنی میں سید کیف حسن نے اقوامِ متحدہ کے متعلقہ خصوصی نمائندوں (اسپیشل ریپورٹرز)—جن میں جمہوری اور منصفانہ بین الاقوامی نظام کے فروغ، ماورائے عدالت ہلاکتوں، یکطرفہ جابرانہ اقدامات، اور اقوام کے حق خود ارادیت سے متعلق نمائندے شامل ہیں —سے درخواست کی ہے کہ فراہم کردہ معلومات کا نوٹس لیں، حکومت امریکا سے وضاحتیں طلب کریں اور ان سنگین خدشات کو اقوامِ متحدہ کے سرکاری ریکارڈ پر درج کیا جائے۔

