:
انجینئر محمد راحت سلطان نے کہا: “اب خاموشی نہیں، آئین، انصاف اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر شہری کو پرامن احتجاج میں شریک ہونا ہوگا”
علی گڑھ (ایس منیر):
راشٹریہ مسلم مورچہ، علی گڑھ کے جنرل سکریٹری انجینئر محمد راحت سلطان نے اعلان کیا ہے کہ 21 جولائی بروز منگل صبح 10 بجے سے دوپہر 1 بجے تک ملک کے 625 اضلاع کے تمام کلکٹریٹس پر 13 نکاتی مطالبات کے حق میں پرامن اور جمہوری احتجاج کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج کسی ایک طبقے یا تنظیم تک محدود نہیں بلکہ ان تمام شہریوں کی آواز ہے جو آئین، انصاف، مساوات اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے مختلف واقعات نے ملک کے ایک بڑے طبقے میں عدم تحفظ اور بے چینی پیدا کی ہے، اس لیے جمہوری طریقے سے اپنی آواز حکومت تک پہنچانا ضروری ہے۔
محمد راحت سلطان نے بتایا کہ احتجاج کے اہم مطالبات میں محمد علی جوہر یونیورسٹی پر مجوزہ بلڈوزر کارروائی روکنا، مذہبی آزادی سے متعلق آئینی دفعات پر مکمل عمل درآمد، ماب لنچنگ اور نفرت انگیز جرائم پر سخت کارروائی، بے گناہ مسلم نوجوانوں اور علمائے کرام کی رہائی، پلیس آف ورشپ ایکٹ 1991 پر عمل، سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق بلڈوزر کارروائیوں پر روک، ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی، کمیشنوں کی سفارشات کا نفاذ اور نفرت پھیلانے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مطالبات کسی کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ آئین میں دیے گئے مساوات، انصاف اور مذہبی آزادی کے اصولوں کو مضبوط کرنے کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اہل خانہ، علماء، ائمہ، نوجوانوں، سماجی کارکنوں اور دیگر انصاف پسند شہریوں کے ساتھ بڑی تعداد میں احتجاج میں شریک ہو کر اسے کامیاب بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی متحد اور پرامن آواز ہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے، اور امید ظاہر کی کہ 21 جولائی کا احتجاج آئینی اقدار، انصاف، مساوات اور بھائی چارے کے حق میں ایک مؤثر پیغام ثابت ہوگا۔

