نئی دہلی: خواتین کی تعلیم و بااختیاری کے لیے سرگرم تنظیم دی ویمن ایجوکیشن اینڈ امپاورمنٹ ٹرسٹ کے زیر اہتمام سات روزہ اسکل ڈیولپمنٹ ورکشاپ ’’میری کلا میری پہچان‘‘ کے اختتام پر جامعہ نگر واقع ٹوئیٹ فسیلیٹیشن سینٹر میں سند تقسیم تقریب منعقد کی گئی۔
ورکشاپ کا مقصد خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو دوپٹہ ڈیزائننگ کی عملی اور تخلیقی مہارتوں سے آراستہ کرنا تھا تاکہ ان میں خود انحصاری، تخلیقی صلاحیت اور کاروباری شعور کو فروغ دیا جا سکے۔ اس تربیتی پروگرام میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین اور لڑکیوں نے شرکت کی اور عملی تربیت حاصل کی۔
شرکاء نے ورکشاپ کے دوران تیار کیے گئے اپنے خوبصورت اور منفرد دوپٹہ ڈیزائنز کی نمائش بھی پیش کی، جس میں ان کی بڑھتی ہوئی مہارت، تخلیقی صلاحیت اور اعتماد نمایاں طور پر دکھائی دیا۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی ڈاکٹر رمشہ جان تھیں، جو سینٹر فار انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے خواتین کی بااختیاری کے لیے ہنرمندی پر مبنی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ٹوئیٹ کی کاوشوں کو سراہا اور شرکاء کو اپنی صلاحیتوں کو مستقل ذریعہ معاش میں تبدیل کرنے کی ترغیب دی۔
اس موقع پر ٹوئیٹ کی چیئرپرسن رحمت النساء اور جنرل سیکریٹری شائستہ رفعت نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے خواتین کو تعلیم، تخلیقی صلاحیتوں اور کمیونٹی سپورٹ کے ذریعے بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شرکاء کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی مہارتوں کو مزید نکھاریں اور خود کفالت کی جانب قدم بڑھائیں۔
ورکشاپ کامیابی سے مکمل کرنے والی تمام شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ یہ پروگرام خواتین کی ہنرمندی، خود اعتمادی اور معاشی خودمختاری کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا، جو کمیونٹی کی سطح پر خواتین کی ترقی اور بااختیاری کے لیے تنظیم کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

