پیپر لیک معاملہ اور دھرمیندر پردھان کے استعفے پر ردِعمل
نئی دہلی، : دہلی اسٹیٹ عرس کمیٹی کے سابق چیئرمین ایف آئی اسماعیلی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر پر جاری احتجاج اور ملک بھر میں طلبہ کی بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث حکومت کو بالآخر یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ عوامی دباؤ کا نتیجہ ہے اور اس سے حکومت کے غرور اور سخت رویّے کو شکست ہوئی ہے۔
ایف آئی اسماعیلی نے کہا کہ اگرچہ استعفیٰ آ چکا ہے، لیکن ابھی بھی کئی اہم سوالات کے جواب باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی اس تحریک نے ثابت کر دیا ہے کہ عوامی جذبات اور نوجوانوں کی آواز کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں حکومت اور اس سے وابستہ افراد اس احتجاج کو سیاسی سازش قرار دیتے رہے، لیکن طلبہ کا مؤقف واضح تھا کہ یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ امتحانی نظام کی بنیادی خامیوں کا معاملہ ہے، جس کی اصلاح ناگزیر ہے۔
اسماعیلی نے مزید کہا کہ حکومت جوابدہی اور ذمہ داری سے گریز کرتی رہی اور سوال اٹھانے والوں کو پاکستانی، بنگلہ دیشی، چینی ایجنٹ یا دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی گئی، مگر نوجوانوں نے اس بیانیے کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جنتر منتر پر مظاہرین میں کھانا تقسیم کرنے والے محمد جنید کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جو مناسب نہیں ہے۔ ان کے مطابق احتجاج میں شریک نوجوانوں نے مذہبی منافرت اور ہندو مسلم تقسیم کی سیاست کو بھی مسترد کر دیا۔
ایف آئی اسماعیلی نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ صرف استعفیٰ ہی نہیں بلکہ نظام میں حقیقی تبدیلی بھی لائی جائے۔ ان کے مطابق حکومت کو بند دروازوں کے پیچھے فیصلے کرنے کے بجائے شفافیت، جوابدہی، اعتماد اور ہر طبقے کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانا چاہیے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ نوجوان اپنا کردار ادا کر چکے ہیں، اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان نسل سے معافی مانگے اور ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے جن پر احتجاج کے دوران طلبہ پر لاٹھی چارج اور پیلٹ گن استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

