جامعہ ملیہ اسلامیہ تنازع: سماجوادی پارٹی کے رہنما نے وائس چانسلر کے بیان پر اٹھائے سوالات
نئی دہلی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک بار پھر خبروں میں ہے اور حالیہ تنازع نے علمی و سماجی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جامعہ کیمپس میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے منسوب ایک پروگرام کے انعقاد کے بعد ماحول پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اسی دوران وائس چانسلر کی جانب سے مبینہ طور پر “ڈی این اے” سے متعلق بیان سامنے آنے پر معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے۔
اس سلسلے میں سماجوادی پارٹی کے قومی سکریٹری سفیان علی قریشی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ملک کی گنگا-جمنی تہذیب، تعلیمی وقار اور مشترکہ ورثے کی علامت ہے، ایسے میں اس طرح کے واقعات نہایت تشویشناک ہیں۔
سفیان علی قریشی نےJamia اپنے بیان میں کہا کہ بھارت جیسے کثیرالثقافتی ملک میں ہر شہری کو اپنے مذہب، نظریات اور شناخت کے ساتھ جینے کا آئینی حق حاصل ہے۔ اس تناظر میں کسی ذمہ دار عہدے پر فائز شخص کی جانب سے تقسیم پیدا کرنے والے بیانات دینا نہ صرف نامناسب ہے بلکہ قومی یکجہتی کے بھی خلاف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وائس چانسلر کا منصب انتہائی باوقار اور ذمہ داری کا متقاضی ہوتا ہے، لہٰذا اس منصب پر رہتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ اور متنازع بیان دینا عہدے کی شان کے منافی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو شخص معاشرے کو جوڑنے کے بجائے بانٹنے کی سوچ رکھتا ہو، اسے ایسے اہم عہدے پر برقرار رہنے کا اخلاقی حق نہیں ہونا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر اس آواز کی حمایت کرتی ہے جو آئین، انصاف اور برابری کی بات کرتی ہے

