آگرہ: ہولی ہندو مذہب کا ایک اہم تہوار ہے جسے برادرانِ وطن بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ اسلام ہمیں دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک، رواداری اور اچھے اخلاق کی
تعلیم دیتا ہے۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دینی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے محبت اور امن کا پیغام عام کریں۔
اگر کوئی شخص ہولی کے موقع پر آپ پر رنگ ڈالنے کی کوشش کرے تو آپ نرمی اور خوش اخلاقی کے ساتھ اسے منع کر سکتے ہیں اور سمجھا سکتے ہیں کہ یہ آپ کے لیے تکلیف دہ ہے۔ اگر اس کے باوجود رنگ لگ جائے تو اسے پانی سے دھو لینا کافی ہے، اور کپڑوں پر لگ جائے تو صابن یا ڈیٹرجنٹ سے صاف کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اسلام میں ہولی کا رنگ لگ جانے کو جہنم یا کسی دینی سزا سے جوڑنا غلط اور بے بنیاد ہے۔ دینِ اسلام پاکیزگی اور صفائی کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ بے بنیاد خوف پھیلانے کی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخص اپنے اوپر کسی نجاست کو پائے تو اسے فوراً پاک کر لے۔”
(سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 354)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص پر کوئی ناپاکی یا گندگی لگ جائے تو اسے صاف کر لینا چاہیے۔ لہٰذا اگر رنگ لگ بھی جائے تو غسل یا صفائی کے ذریعے خود کو پاک کیا جا سکتا ہے۔
برادرانِ وطن کے تہوار اپنی جگہ محترم ہیں، لیکن ہمارے لیے بنیادی اصول یہ ہے کہ شرک اور غیر اخلاقی امور سے بچتے ہوئے اپنے ایمان اور دینی شناخت کی حفاظت کریں۔ ساتھ ہی، جہاں تک ممکن ہو، محبت، بھائی چارہ اور باہمی احترام کا تعلق قائم رکھیں۔
محمد اقبال
خطیب، مسجد نہر والی، سکندرا آگرہ

