رپورٹ ۔ایس۔ منیر
علی گڑھ۔بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری، نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور صوبے میں جرائم کے بڑھتے واقعات کے خلاف منگل کے روز علی گڑھ میں سماج وادی پارٹی کارکنان نے زبردست احتجاج کیا ۔ گورنر کے نام میمورنڈم پیش کرنے کے اس پروگرام کے دوران انتظامیہ اور کارکنان کے درمیان کشیدگی، نوک جھونک اور ہنگامہ آرائی نے ماحول کو خاصا گرمائے رکھا۔ کافی دیر جاری رہنے والے اس احتجاج کے بعد انتظامی مداخلت سے معاملہ پرامن انداز میں حل ہوا اور بالآخر گورنر کے نام میمورنڈم متعلقہ افسر کے حوالے کر دیا گیا۔
سماج وادی پارٹی کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ میمورنڈم پیش کرنے کے پروگرام کی اطلاع ایک دن قبل ہی ضلعی انتظامیہ کو باقاعدہ طور پر دے دی گئی تھی، اس کے باوجود صبح سے ہی مختلف انتظامی افسران کی جانب سے مسلسل رابطہ کر کے پروگرام کو ملتوی کرنے یا منسوخ کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انہیں احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت دی گئی اور بعض مواقع پر مقدمات درج کر کے جیل بھیجنے تک کی دھمکیاں بھی دی گئیں، تاہم کارکنان نے ان تمام دباؤ کے باوجود اپنے طے شدہ پروگرام پر عمل کرتے ہوئے ضلعی ہیڈکوارٹر پہنچ کر احتجاج کا آغاز کر دیا۔احتجاجی پروگرام کی قیادت سماج وادی چھاتر سبھا کے شہر صدر محسن میواتی اور ملائم سنگھ یوتھ بریگیڈ کے ریاستی سکریٹری ایڈوکیٹ عمران پٹھان نے کی۔ بڑی تعداد میں موجود کارکنان نے مہنگائی، بے روزگاری اور طلبہ کے مسائل کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔مظاہرین کا الزام تھا کہ ضلعی انتظامیہ نے میمورنڈم وصول کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیا۔ اس صورت حال کے خلاف مشتعل کارکنان نےاحتجاج مزید تیز کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ اور ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ کے دفاتر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے گورنر کے نام تیار کردہ میمورنڈم دفاتر کی دیواروں پر چسپاں کر دیا اور شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا ۔احتجاج کے دوران کچھ دیر کے لئے ماحول کشیدہ ہو گیا اور کارکنان و انتظامیہ کے درمیان نوک جھونک بھی ہوئی، تاہم سینئر افسران کی مداخلت کے بعد حالات قابو میں آ گئے۔ بعد ازاں گورنر کے نام میمورنڈم اے سی ایم اول دلیپ کمار مشرا کو سونپ دیا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ملائم سنگھ یوتھ بریگیڈ کے ریاستی سکریٹری ایڈوکیٹ عمران پٹھان نے کہا کہ جمہوریت میں عوامی مسائل کو اٹھانا اور حکومت کی توجہ ان کی جانب مبذول کرانا ہر سیاسی جماعت اور عوامی نمائندے کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور طلبہ و نوجوانوں سے وابستہ مسائل آج ملک کے اہم ترین مسائل بن چکے ہیں، لیکن حکومت ان مسائل کے حل کے بجائے احتجاج کی آواز کو دبانے میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر عوامی مسائل پر آواز بلند کرنے کی پاداش میں مقدمات درج کئے جاتے ہیں یا کارکنان کو ہراساں کیا جاتا ہے تو بھی سماج وادی پارٹی اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ پارٹی ہمیشہ عوام کے حقوق، نوجوانوں کے مستقبل اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لئے جدوجہد جاری رکھے گی۔سماج وادی چھاتر سبھا کے شہر صدر محسن میواتی نے کہا کہ آج ریاست کا نوجوان، طالب علم، کسان اور عام شہری شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ پٹرول، ڈیزل، گیس سلنڈر اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کی زندگی کو دشوار بنا چکا ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کے لئے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے جبکہ نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کے سبب مایوسی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیٹ امتحان سے متعلق سامنے آنے والے معاملات نے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ایسے حالات میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام معاملات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے تاکہ طلبہ کا اعتماد بحال ہو سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے احتجاج کرنے والوں پر دباؤ بنانے کی پالیسی اختیار کر رہی ہے، جسے سماج وادی کارکن ہرگز قبول نہیں کریں گے۔گورنر کے نام پیش کئے گئے میمورنڈم میں مہنگائی پر موثر قابو پانے، نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، طلبہ کے مفادات کے تحفظ، نیٹ امتحان سے متعلق تمام معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور ریاست میں قانون و انتظام کی صورت حال مزید بہتر بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
احتجاجی پروگرام میں ایڈوکیٹ عمران پٹھان، محسن میواتی، سید فیضان علی، دانش علی، فیضان پٹھان، ہریش چندر، سردار، پربھاو سنگھ، شارق، عابد ملک، شارق چودھری، ماجد ٹھاکر، چندر پال، ندیم، وکرم، ارجن سنگھ، وشال پانڈے، انکیت یادو، وویک یادو، وکاس کمار، ہرجیت سنگھ سمیت سماج وادی پارٹی، ملائم سنگھ یوتھ بریگیڈ اور سماج وادی چھاتر سبھا کے متعدد عہدیداران اور کارکنان بڑی تعداد میں موجود رہے۔

