“منریگا روزگار اسکیم نہیں بلکہ دیہی معیشت کی روح ہے” – اویناش پانڈے
“کانگریس کارکن نہ ڈرے گا، نہ جھکے گا، نہ رکے گا” – اجے رائے
“منریگا سے خواتین کو باوقار روزگار ملتا تھا” – آرادھنا مشرا مونا
لکھنؤ: منریگا بچاؤ سنگرام کے تحت اتر پردیش کے کونے کونے سے آئے ہزاروں کانگریس کارکنان نے آج راجدھانی لکھنؤ میں اسمبلی گھیراؤ کی کوشش کی۔ ایک طرف کانگریس کارکن سڑکوں پر حکومت کی مبینہ آمرانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، تو دوسری جانب انتظامیہ نے بھاری پولیس فورس تعینات کر کے بیریکیڈنگ کے ذریعے انہیں روکنے کی کوشش کی۔
گزشتہ دو دنوں سے کانگریس کارکنان کو قانونی نوٹس جاری کیے جا رہے تھے اور کئی مقامات پر انہیں ہراساں کیے جانے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ متعدد کارکنوں کو گھروں میں نظر بند کیا گیا، اس کے باوجود بڑی تعداد میں لیڈر اور کارکن لکھنؤ پہنچنے میں کامیاب رہے۔
شہر میں کانگریس دفتر کے اطراف کی سڑکوں کو بند کر کے علاقے کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسمبلی کی جانب بڑھتے ہوئے کارکنان اور پولیس کے درمیان شدید دھکم پیل اور نوک جھونک ہوئی۔ اس دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیے جانے کا الزام ہے، جس میں ریاستی کانگریس صدر اجے رائے سمیت کئی رہنما اور کارکن زخمی ہو گئے۔
بعد ازاں ریاستی انچارج اویناش پانڈے، ریاستی صدر اجے رائے، راجیہ سبھا میں نائب قائد حزب اختلاف پرمود تیواری، کانگریس قانون ساز دل کی لیڈر آرادھنا مشرا ‘مونا’ اور دیگر سینئر رہنماؤں کو حراست میں لے کر بسوں کے ذریعے ایکو گارڈن میں قائم عارضی جیل منتقل کیا گیا۔
“کورونا دور میں منریگا زندگی کا سہارا بنی”
اویناش پانڈے نے کہا کہ منریگا صرف ایک روزگار اسکیم نہیں بلکہ دیہی بھارت کی مکمل معاشی نظام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران اس اسکیم نے لاکھوں مہاجر مزدوروں کو روزگار فراہم کر کے انہیں سہارا دیا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ آمدنی، بنیادی ڈھانچے، زراعت، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی تحفظ کو مضبوط کرتا ہے، مگر مرکزی حکومت اسے کمزور کرنے پر آمادہ ہے۔ منریگا کے تحفظ کے لیے کانگریس ملک گیر تحریک چلا رہی ہے، جس کے تحت مختلف اضلاع میں دھرنے، چوپال اور عوامی بیداری پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔
“دمن سے تحریک مزید مضبوط ہوگی”
ریاستی کانگریس صدر اجے رائے نے پولیس کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس مزدوروں، غریبوں اور محروم طبقات کے حقوق کی لڑائی سڑک سے ایوان تک جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاٹھی چارج اور گرفتاریوں سے کانگریس کارکن خوفزدہ نہیں ہوں گے بلکہ تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔
“خواتین کے وقار سے جڑا معاملہ”
آرادھنا مشرا مونا نے کہا کہ منریگا کے ذریعے دیہی خواتین کو اپنے گاؤں میں باعزت روزگار میسر آتا تھا۔ اس اسکیم کو کمزور کرنا خواتین مخالف ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ مزدوروں کو ضرورت کے وقت ان کے گاؤں میں ہی روزگار فراہم ہو تاکہ انہیں خاندان چھوڑ کر باہر نہ جانا پڑے۔
احتجاج میں سابق ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ، مختلف اضلاع کے صدور اور سینکڑوں کارکنان شریک ہوئے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر منریگا اور عوامی مفادات سے جڑے مسائل پر مثبت فیصلہ نہ لیا گیا تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔

